فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 10

اسی کا جواب یہ ہے کہ محدث کے وجود کے وقت علتِ تامہ کا ہونا اور فاعل کا قادرِ تام ہونا اور مرید کا لازم ہے، اور اِحداث پر مقدم شے کا نرا وجود کافی نہیں ۔ بلکہ اِحداث کے وقت مؤثر تام ہونا لازم ہے۔اسی طرح مؤثر تام کے حدوث کے وقت مؤثر تام کا ہونا بھی لازم ہے، اور جب صرف ازلی علتِ تامہ ہو جو معلول کے مقارم ہو تو لازم آئے گا کہ حوادث کسی محدث کے بغیر ہی وجود میں آ گئے ہیں ۔ اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ رب تعالیٰ اس چیز کے ساتھ متصف ہے جس کے ذریعے وہ حوادثِ مخلوقہ کو کرتا ہے جیسے وہ اقوال جو اس کے ساتھ قائم اور اس کی قدرت و مشیئت سے حاصل ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ یہ موضوع اپنے مقام پر تفصیل سے بیان ہو چکا ہے۔

ارادہ و قدرت میں بیان کردہ یہ تفصیل اور دو قسموں میں اس کی تقسیم اس باب میں حاصل ہونے والے اشتباہ و اضطراب کو ختم کر دیتی ہے۔

اسی پر مالایطاق امر کی تکلیف مبنی ہے۔ کیونکہ جس کا یہ قول ہے کہ قدرت فعل کے ساتھ ہی ہوگی، وہ یہ کہہ اٹھے گا کہ کافر و فاسق کو مالایطاق امر کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے۔ لیکن یہ جمہور اہل سنت اور ان کے آئمہ کا قول نہیں ۔ بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ: اللہ نے حج کو مستطیع پر واجب کیا ہے۔ بھلے وہ حج کرے یا نہ کرے۔ اسی طرح کفارہ میں مستطیع کو دو ماہ کے لگا تار روزوں کا حکم ہے؛ بھلے وہ روزے رکھے یا نہ رکھے۔ اور اللہ نے قادر پر عبادت کو واجب کیا ہے ناکہ عاجز پر۔ اب قادر عبادت بجا لائے یا نہ لائے اس کی مرضی۔رہا ’’مالا یطاق‘‘ تو علماء نے اس کی دو تفسیریں بیان کی ہیں ۔ یا تو وہ امر اُس سے عاجز ہونے کی وجہ سے ’’لا یطاق‘‘کہلائے گا۔ تو ایسے کسی کام کا رب تعالیٰ نے بندوں کو سرے سے حکم ہی نہیں دیا۔ یا اس امر کی ضد میں استغال کا نام ’’لا یطاق‘‘ہے۔ تکلیف ایسے امر میں دی جاتی ہے۔ جیسا کہ بندوں کا ایک دوسرے کو امر دینا۔ اہلِ سنت ان دونوں قسموں میں فرق کرتے ہیں ۔ لہٰذا کوئی اپنے نابینا غلام کو عبادت پر نقطے لگانے کو نہ کہے گا۔ البتہ مثلاً بیٹھے ہوئے کو کھڑے ہونے کا امر ضرور کر دیا کرتا ہے۔ ان دونوں باتوں میں فرق کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ ان کی تفصیل بیان کی جا چکی ہے، اور حسبِ موقع اس کے نکتے بھی بیان کر دیے ہیں ۔

اسی طرح یہ قول کہ: ’’اللہ نے کافر میں ایمان کی قدرت پیدا نہیں کی۔‘‘ یہ جمہور اہلِ سنت کا قول نہیں ۔ بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں : اللہ نے اس میں تکلیف میں مشروط اس قدرت کو پیدا کر دیا ہوا ہے۔ بو امر و نہی کو درست کرنے والی ہے۔ جیسا کہ بندوں میں ہے کہ جب وہ ایک دوسرے کو حکم دیتے ہیں ۔ اس بارے جو قدرت پائی جاتی ہے، وہ اللہ کے بندوں کو امر دینے میں پائی جاتی ہے۔ بلکہ اللہ کا تکلیف دینا زیادہ آسانی والا ہے اور حرج کی وجہ سے ’’تکلیف کا رفع زیادہ بڑا ہے، اور لوگ ایک دوسرے اس سے بھی بڑی بات کی تکلیف دیتے ہیں ، جس بات کی اللہ اور رسول نے لوگوں کو تکلیف دی ہے۔ اس پر بھی لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ تکلیفِ بالا یطاق ہے۔

جو بھی ملوک و سلاطین کے خدام کے احوال میں غور کرتا ہے جو ان کی خدمت و طاعت میں لگے رہتے ہیں ، تو وہ انہیں رب کی عبادت میں لگے بندوں سے بھی زیادہ محنت و مشقت کرتا پائے گا۔


صفحہ 10 از 10