فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 10

جو لوگ شیعہ اورمعتزلہ اور دوسرے گروہوں میں سے تقدیر کا انکار کرنے والے امر و نہی اور وعد و وعید کی تعظیم کرتے ہیں ؛ وہ ان لوگوں سے بہتر ہیں جو ترک مامور اور فعل محظور پر تقدیر سے حجت پیش کرتے ہیں ۔ حقیقت کے بلند بانگ دعاوی کرنے والوں مثلاً فقراء اور صوفیہ کو اکثر اس سے سابقہ پڑتا ہے وہ تقدیر کا بہانہ کر کے اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی سے انحراف کرتے ہیں ۔ یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ تقدیر کے بل بوتے پر کوئی شخص اوامر کو ترک کر سکتا ہے نہ محرمات کا ارتکاب کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حجت تمام کر دی ہے۔ اوروہ قدریہ جو تقدیر سے معاصی کے ارتکاب کے جواز پر استدلال کرتے ہیں وہ فرقہ قدریہ سے بھی بدتر ہیں جو سرے سے تقدیر کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں کو قدریہ کہا گیا حالانکہ وہ تقدیر کے منکر نہ تھے۔ قدریہ کے نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ تقدیر سے معاصی کے جواز پر احتجاج نہیں کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے جب کہا گیا کہ:’’ ابن ابی ذئب منکر تقدیر تھے۔‘‘[وابن أبِی ذِؤئب مِن أہلِ المدِینۃِ، وہو محمد بن عبدِ الرحمنِ بنِ المغِیرۃِ ابنِ الحارِثِ بنِ أبِی ذؤِئب القرشِی العامِرِی، توفِی سن ۱۵۸، قال مالِک بن أنس: لو بریِء ابن أبِی ذِئب مِن القدرِ، ما کان علی وجہِ الأرضِ خیر مِنہ، انظر ترجمتہ فِی فضلِ الِاعتِزالِ وطبقاتِ المعتزِلۃِ، ص۹۸، ۳۳۵، تہذِیب التہذِیبِ ۹؍۳۰۷۔۳۰۳۔ العلام: ۷؍ ۶۱۔]

تو انہوں نے فرمایا:جو شخص بھی معاصی کی بنا پر لوگوں کو تنگ کرتا تو لوگ اسے قدری کہہ کر پکارتے تھے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ قائلین تقدیر فواحش و منکرات پر تنقید کرنے والے کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتے اور کہتے ہیں یہ بات ان کی تقدیر میں لکھی تھی۔ اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ منکرات پر رد و قدح بھی تقدیر الٰہی کے عین موافق ہے۔ گویا اس نے اپنے قول سے ہی اپنی دلیل کو توڑ دیا، بعض جاہل مشائخ کا قول ہے ’’ میں اس رب کو ماننے کے لیے تیار نہیں جس کی نافرمانی کی جاتی ہو اور اگر میں ستر انبیاء کو قتل کردوں تو میں گناہ گار نہ ہوں گا۔‘‘ ایک اور جاہل شیخ کا قول ہے:

’’میں وہی کام کرتا ہوں جو وہ مجھ سے کروانا چاہتا ہے، لہٰذا میرے سب کام عبادت میں داخل ہیں ۔‘‘

مسئلہ تقدیر میں احتجاج آدم علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام :

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تقدیر کی بنا پر احتجاج اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ کھلی ہوئی جہالت ہے۔ اس لیے کہ انبیاء سب لوگوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں ۔ اور جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مذمت کی ہے؛ اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ بیشک انہیں اطاعت الٰہی کا حکم دینے اور اس کی نافرمانی سے منع کرنے کے احکام کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے؛ پھر تقدیر کی بنا پر وہ اس کی نافرمانی کیوں کرسکتے ہیں ؟

مزید برآں حضرت آدم علیہ السلام نے بارگاہ ازدی میں اپنے گناہ سے توبہ کر لی تھی اور ان کی توبہ قبول کر لی گئی تھی۔ گناہسے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہوتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔

اگر تقدیر سے احتجاج کرنا درست ہوتا تو ابلیس، فرعون اور ان کے ہم نوا اس سے ضرور استدلال کرتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام پر جو تنقید کی تھی، اس کی وجہ وہ مصیبت تھی جو حضرت آدم علیہ السلام کے شجرہ ممنوعہ کا پھل کھانے کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہنچی؛ اسی لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا:

’’آپ نے ہمیں اور اپنے بیٹوں کو جنت سے کیوں نکالا؟‘‘[صحیح بخاری،کتاب احادیث الانبیاء، باب وفاۃ موسیٰ و ذکرہ بعد (ح: ۳۴۰۹، ۷۵۱۵) صحیح مسلم، کتاب القدر، باب حجاج آدم و موسیٰ صلی اللہ علیہما وسلم (ح:۲۶۵۲)۔]

حقیقت یہ ہے کہ بندہ عیب و گناہ کی بجائے مصائب و آلام کے وقت تقدیر کی جانب رجوع کرنے کیلئے مامور ہے۔ لہٰذا چاہیے کہ وہ مصائب و آلام میں صبر و سکون کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور گناہوں سے توبہ کرتا رہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ﴾ (غافر:۵۵)

’’صبر کیجئے، بے شک اللہ کاوعدہ سچا ہے اور اپنے گناہ کی مغفرت طلب کیجئے۔‘‘

اوراللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اِِلَّا فِیْ کِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَہَا ﴾

(الحدِیدِ:۲۲)

’’ کوئی مصیبت نہ زمین پر پہنچتی ہے اور نہ تمھاری جانوں پر مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں ۔‘‘

اوراللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیبَۃٍ اِِلَّا بِاِِذْنِ اللّٰہِ وَمَنْ یُّؤْمِنْ بِاللّٰہِ یَہْدِ قَلْبَہُ ﴾ (التغابن۱۱)

’’ کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ کے اذن سے اور جو اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔‘‘

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ آدمی ہے جسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ یقین رکھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے؛ پس وہ اس پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے راضی رہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم میں سے کئی حضرات نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

’’کوئی انسان اس وقت ایمان کی حقیقت کو نہیں پاسکتا جب تک وہ یقینی طور پر نہ جان لے کہ جو مصیبت اس پر آئی ہے وہ ٹلنے والی نہ تھی؛ اور جو ٹل گئی ہے؛ وہ اس پر آنے والی نہ تھی۔‘‘

پس تقدیر پر ایمان ؛ اور جو کچھ مصائب و آلام اللہ تعالیٰ نے مقدر میں لکھ دیے ہیں ؛ ان پر رضامندی اور تسلیم ؛ ایمان کی اصل حقیقت ہے اور جہاں تک گناہوں کا تعلق ہے تو کسی ایک کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے حجت پیش کرے۔بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ گناہوں کے ارتکاب سے بچ کر رہے۔ اور اگر اس سے کوئی گناہ صادر ہوجائے تو وہ فوراً اس سے توبہ کرے۔ جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کیا تھا۔

صفحہ 2 از 10