فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 10

یہی وجہ ہے کہ بعض مشائخ نے فرمایا ہے :’’ دو سے گناہ ہوا؛ حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس؛ پس حضرت آدم علیہ السلام نے توبہ کی ؛ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی؛ اورانہیں چن لیااور ہدایت سے نوازا۔ اور ابلیس نے تقدیر سے حجت پکڑتے ہوئے گناہ پر اصرار کیا۔ پس جو کوئی گناہ سے توبہ کرتا ہے تو وہ اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام سے مشابہت رکھتا ہے۔ اور جو کوئی مصر رہتا ہے اور تقدیر کو حجت بناتا ہے تووہ شیطان کے مشابہ ہے۔

عقول میں بدیہی طور پر فاعل مختار اور دیگر کے مابین فرق کو استقرار حاصل ہے۔ اس سے مقصود حاصل ہوگیا ۔اور ایسے ہی عقول میں بدیہی طورپر اس بات کوبھی استقرار حاصل ہے کہ افعال اختیاریہ نفس کا کسب ہیں ۔یہ بات محتاج بیان نہیں کہ افعال اختیاریہ کی بنا پر انسان صفات محمودہ اور صفات مذمومہ دونوں حاصل کر سکتا ہے۔ بخلاف ازیں قصیر القامت ہونے یا کالے گورے ہونے کی بنا پر ان کا حصول ممکن نہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’نیکی دل کا نور، چہرے کی رونق، وسعت رزق، قوت بدن اور مخلوقات کے دلوں میں محبت کی باعث ہے اور بیشک بدی کی وجہ سے چہرے پر ایک سیاہی چھا جاتی ہے؛ اور دل میں اندھیرا پیدا ہوتا ہے؛ اور بدن کمزور ہو جاتا ہے؛ اور رزق میں کمی آتی ہے؛اور مخلوق کے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔‘‘

پس نیکی کا کام کرنے کے اچھے اثرات انسان کی ذات پر بھی مرتب ہوتے ہیں ؛ اور باہر بھی۔ یہی حال گناہوں کے ارتکاب کا بھی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے نیکی کو ایسی چیزوں کا سبب بنایا ہے۔ اور برائیوں کو دوسری قسم کی چیزوں کا سبب بنایا ہے۔ جس طرح زہر کھانے کو بیماری اور موت کا سبب قرار دیا ہے، تاہم تریاق سے اس کا ازالہ ممکن ہے، جس طرح برائیوں کو توبہ، اعمال صالحہ اور گناہ کو دور کرنے والے مصائب و آلام کے ذریعہ دور کیا جاتا ہے۔اور دنیا میں پیش آنے والے مصائب گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں ۔جیسا کہ کبھی کبھار زہر کے اثرات کو دواء کے ذریعہ سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اور کبھی اس کے نتیجہ میں ہلکا سا مرض لاحق ہوتا ہے اور پھر صحت و عافیت مل جاتی ہیں ۔

باقی رہی یہ بات کہ فعل کو پیدا کر کے خود ہی اس پر سزا دینا ظلم ہے۔ تو یہ اسی طرح ہے جیسے کہا جائے زہر کو پیدا کر کے اسے موجب ہلاکت بنانا ظلم ہے۔اور یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دینا۔ اس انسان کا اپنے ظلم کے اثرات کا مستحق ہونا؛ جو کہ حقیقت میں اللہ کی نافرمانی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کسی دوسرے پر ظلم کرکے اس کے اثرات کا مستحق ہوجائے۔

مسئلہ تحسین و تقبیح

اب رہا تحسین و تقبیح کا مسئلہ تو لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک فعل جہاں بندے کی منفعت اور اس کے مناسب امر کے حصول کا سبب ہوتا ہے، وہیں ایک دوسرا فعل بندے کی مضرت کے حصول کا اور اس کے غیر مناسب امر کے حصول کا سبب بھی ہوتا ہے۔ کبھی اس بات کا علم عقل سے ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک فعل کبھی صفت کمال ہوتا ہے تو کبھی دوسرا فعل صفت نقص بھی ہوتا ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس بات میں ہے کہ کبھی فعل عقاب اور ذم کا سبب بھی ہوتا ہے، اور اس بارے دو اقوال مشہور ہیں ۔

اس باب میں امام احمد، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ کے اصحاب میں اختلاف ہے۔

رہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب تو وہ تحسین و تقبیح دونوں کا قول کرتے ہیں ، اور یہی مسلمانوں کا جمہور جماعتوں کا قول بھی ہے، اور درحقیقت یہ اختلاف لوٹتا ہے۔ ملائمت، منافرت، منفعت اور مضرت کی طرف۔ پس عقاب اور مذمت بندے کے غیر مناسب اور اس کے لیے مضر ہے۔ لہٰذا حسن و قبح محبوب و مکروہ کے حصول سے باہر نہ نکلے گا۔ پس حسن وہ ہے جو محبوب، مطلوب اور بالذات مراد کی تحصیل کا سبب ہے، اور قبیح وہ ہے جو مبغوض و مکروہ کی تحصیل کی سبب بنے۔ جب حسن محبوب کی طرف اور قبیح مکروہ کی طرف لوٹتا ہے اور یہ دونوں نافع اور ضار اور طیب اور خبیث کے بمنزلہ ہیں ، لہٰذا یہ بھی احوال کے تنوع پر متنوع ہوں گے۔ پس جیسے ایک شے ضرورت کے وقت نافع ہوتی ہے تو کسی دوسرے وقت مضر ہوتی ہے۔ اسی طرح فعل بھی ہے جیسے مینہ کا کھانا کبھی قبیح تو کبھی دوسرے موقع پر (جب مرنے کا خطرہ ہو تو) حسن ہوتا ہے۔

جب بات یہ ہے تو یہ امر اختلافی نہیں ۔ جیسے بندہ اس کا فاعل ہو بغیر اس کے کہ اللہ نے اس کے لیے قدرت اور ارادہ کو پیدا کیا ہے، یا اس بات کے ساتھ کہ اللہ نے اس کے لیے قدرت ارادہ کو پیدا کیا۔ جیسا کہ ان جملہ امور میں ہے جو نافع و ضار اور محبوب و مکروہ ہیں ۔

یقینی دلائل کی بنا پر یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ جو چیز بھی حادث ہے وہ اللہ کی پیدا کردہ ہے۔اور ہر ممکن جو کہ وجود اور عدم کو قبول کرتا ہو ؛ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہو جاتا ہے اور اگر نہ چاہے تو نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ بندے کے افعال بھی حوادث کے زمرہ میں شامل ہیں ۔ اور اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ خود انسان کا فعل جب وہ اسے سر انجام دیتا ہے؛ وہ بھی حادث ہے اور عدم سے وجود میں آیا ہے؛ اس کے لیے سبب کا ہونا ضروری ہے۔

صفحہ 3 از 10