فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 10

جب یہ کہا جاتا ہے کہ:’’ فعل بندے کے ارادہ سے حادث ہوا ۔‘‘تو ہم کہیں گے کہ:’’ ارادہ بھی حادث ہے، لہٰذا اس کے لیے بھی کسی سبب کی ضرورت ہے۔ اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ فعل ممکن ہے، (یعنی اس کا وجود و عدم برابر ہے) لہٰذا اس کے وجود کو عدم پر ترجیح دینے کے لیے کسی مرجح کی ضرورت ہے، اسی طرح بندے کا فاعل ہونا بھی ممکن ہے۔ لہٰذا اس کے لیے بھی کسی محدث و مرجح کا وجود ناگزیر ہے۔ اس میں سب حوادث مساوی ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ممکن کے وجود کو مرجح کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ تام اور ممکن کے وجود کو مستلزم ہو، وگرنہ اگر مرجح کے وجود کے ساتھ کبھی تو فعل کا وجود ممکن ہو اور کبھی عدم تو وہ مرجح کے حصول کے بعد ممکن ہوگا، اور اس کا عدم و وجود دونوں ممکن ہوگا۔ اس صورت میں وجود تب ہی عدم پر راجح ہوگا جب کوئی مرجح بھی ہو۔ اب یہ مرجح یا تو تامی اور فعل کے وجود کو مستلزم ہوگا، اور رہا اس کے ساتھ فعل کا عدم اور وجود دونوں ممکن ہوں گے۔ اگر تو دوسری بات ہے تو فعل کسی حال میں بھی موجود نہ ہوگا اور تسلسل باطل لازم آئے گا۔

پس معلوم ہوا کہ فعل تب ہی پایا جائے گا جب ایسا مرجح پایا جائے جو تام اور فعل کے وجود کو مستلزم ہو، اور ایسا مرجح تام الداعی التام اور قدرت ہے، اور یہ بات معتزلہ کی ایک جماعت کو تسلیم ہے۔ جیسے ابو الحسن بصری وغیرہ کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جب داعی تام اور قدرت تام دونوں پائے جائیں تو فعل کا وجود لازم ہوتا ہے، اور داعی اور قدرت دونوں رب تعالیٰ کی مخلوق ہیں ، اور یہی اہل سنت کے قبول کی حقیقت ہے جو یہ کہتے ہیں : رب تعالیٰ بندوں کے افعال کا خالق ہے۔ جیسا کہ رب تعالیٰ ہر شے کا خالق ہے۔ آئمہ ذہل سنت کا قول ہے: رب تعالیٰ اسباب کے ذریعے اشیاء کا خالق ہے، اور حقیقت میں بندہ اپنے فعل کا فاعل ہے ناکہ خالق۔ پس اپنے ارادہ و قدرت کے ذریعے بندے کے فعل کا پیدا کرنے کی بابت ان کا قول و سیاہی ہے۔ جیسا کہ ان کا قول جملہ حوادث کو ان کے اسباب کے ذریعے پیدا کرنے کا ہے۔ لیکن یہ اس کا قول نہیں جو اجسام میں پائے جانے والے اسباب و قوی کا منکر ہے، اور بندے کی اس قدرت کی تاثیر کا منکر ہے، جس کے ذریعے وہ فعل کو پیدا کرتا ہے، اور یہ کہتا ہے کہ: بندے کی قدرت کا اس کے فعل میں سرے سے کوئی اثر ہی نہیں ۔ جیسا کہ جھم، اس کے پیروکاروں ، اشعری رحمہ اللہ اور ہم نواؤں کا قول ہے۔

ان لوگوں کا قول آئمہ اہل سنت اور جمہور رحمہم اللہ کا قول نہیں ۔ بلکہ اس کی اصل جھم بن صفوان کا قول ہے کہ وہ رب تعالیٰ کی مشیئت کو تو ثابت کرتا تھا پر اس کے لیے حکمت و رحمت کی نفی کرتا تھا، اور وہ بندے کے لیے فعل یا قدرتِ مؤثر کا منکر ہے۔ کہتے ہیں کہ جھم کوڑھیوں کے پاس جا کر یہ کہا کرتا تھا کہ کیا تمہارے ساتھ یہ ارحم الراحمین نے کیا ہے؟ تاکہ رب تعالیٰ کے صفتِ رحمت کے ساتھ متصف ہونے کا انکار کر سکے، اور اس کا خیال تھا کہ اس کی صرف مشیتِ محضہ ہے۔ جس کا حکمت کیساتھ کوئی تعلق نہیں ۔بلکہ وہ دو متماثل میں سے ایک کو دوسرے پر بلا مرجح کے ترجیح دینے کا قائل تھا۔

یہ متاخرین کی ایک جماعت کا قول ہے، اور یہ کہتے ہیں : اللہ کی تخلیق کی حکمت پر مبنی نہیں ، اور نہ اس نے کسی حکمت کے تمت کوئی امر کیا ہے، اور یہ کہ پورے قرآن میں کہیں بھی ’’لام کی‘‘ نہیں ہے نہ اس کی تخلیق میں اور نہ اس کے امر میں ۔ اب یہ جھمیہ مجبرہ اور وہ معتزلہ قدریہ دونوں ایک دوسرے کے قابل ہیں ۔

جبکہ امت کے اسلاف، آئمہ سنت اور جمہور علماء نہ تو اِن کے قائل ہیں اور نہ اُن کے۔ اگرچہ قدر کو ثابت کرنے والے اکثر جھم کا قول کرتے ہیں ۔ پس کلام تو ان اہلِ سنت کے بارے میں ہے جو خلفائے ثلاثہ کی امامت کو اور قدر کو دونوں کو ثابت کرتے ہیں ۔ اس نام میں حضرات صحابہ، تابعین عظام اور حدیث، تفسیر، فقہ اور تصوف کے آئمہ، جمہورمسلمین اور ان کے جمہور فرقے شامل ہیں ۔ اس سے بعض شیعہ خارج ہیں ۔ ان کے آئمہ اور جمہور کا قولِ وسط ہے جو نہ تو جھم اور ان کے پیروکار جبریہ کا قول ہے اور نہ معتزلہ ہے۔ پس جو یہ کہتا ہے کہ بعض حوادث ملائکہ جن اور انس کا فعل ہیں ، اور ان کو اللہ نے پیدا کیا تو وہ کتاب و سنت، اسلاف کے اجماع اور دلائلِ عقلیہ سب کا مخالف ہے۔ اسی لیے بعض اسلاف کا قول ہے: آدمیوں کا کلام اور بندوں کے افعال غیر مخلوق ہیں ، اور یہ اس شخص کے قول کی منزلت پر ہے جو یہ کہتا ہے کہ اللہ کی زمین اور اس کا آسمان غیر مخلوق ہے، اور اللہ جو بھی پیدا کرتا ہے کسی حکمت کے بغیر پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ میں ذکر ہوا۔

بارگاہ ایزدی میں تقدیر کا عذر مسموع نہیں

مخلوقات میں سے بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو بعض لوگوں کے لیے موجب ضرر ہیں ، جیسے بیماریاں اور مصائب و آلام، یہ حکمت ایزدی کا تقاضا ہے۔ پس ان صفات اور افعال کو پیدا کرنا ان جملہ اسباب میں سے ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ افعال حکمت کے تحت پیدا کئے ہیں تو پھر ان کو لغو اور سفاہت نہیں کہا جاسکتا۔ جب بندے کو اس کے افعال اختیاری پر سزا دینا ظلم نہیں تو حوادث کو بارگاہ ربانی کی جانب منسوب کرنے میں بھی ایک ایسی حکمت مضمر ہے، جس کی بنا پر وہ حوادث مستحسن ٹھہرتے ہیں ۔ جب بندے کی جانب اس کی نسبت کی جائے تو یہ عدل ہے، کیونکہ اسے جو سزا ملی ہے وہ اس کے جرم کی بنا پر ملی ہے۔ اللہ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود ہی اپنی جان پر ستم ڈھایاہے۔اس کی مثال کو یوں سمجھیں کہ یہ سزا دینے والا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی دیگر ہے۔ مثلاً جب کوئی حاکم چور کو سزا دے، اس کا ہاتھ کاٹ ڈالے اور مسروقہ مال اس کے اصلی مالک کو واپس کر دے تو وہ منصف حاکم کہلائے گا۔اور حاکم کے اس کے مامور بہ ہونے سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ عادل ہے۔

صفحہ 4 از 10