فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 10

یہاں پر یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ لوگوں کی فطرت اور عقلوں میں یہ بات راسخ ہوچکی ہی کہ جب والی غصہ میں آئے اور غصب شدہ مال اس کے اصل مالک کو واپس دلوائے اور نقصان شدہ چیز کا تاوان ادا کرے؛ تو وہ والی یا حاکم اپنی اس حکم میں عادل ہوگا۔ اور عدل ہمیشہ سے لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں معروف رہا ہے۔ اور اگر چور اسے کہے کہ میری تقدیر میں یونہی لکھا تھا، پھرتم مجھے سزا کیوں دیتے ہو....؟ تو یہ بات چور کے حق میں مفید نہ ہوگی؛ اور حاکم اسے سزا دئیے بغیر نہیں رہے گا۔

اسی طرح جب روز قیامت اللہ تعالیٰ ظالم سے قصاص لے گا تو اس کا یہ فعل عدل و انصاف کا آئینہ دار ہوگا اور اگر ظالم یوں کہے کہ:’’ تونے میری تقدیر میں اسی طرح لکھا تھا تو یہ بات اس کے حق میں کچھ بھی مفید نہ ہوگی اور تقدیر کا عذر درست نہیں مانا جائے گا، چونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، لہٰذا اس کی تخلیق خالی از حکمت نہیں اور اس حکمت و مصلحت کے اعتبار سے تخلیق فعل اس کی نسبت سے مستحسن ہے۔اور قبیح مخلوق فعل کی قباحت اس کے فاعل کے اعتبار سے ہے چونکہ اس میں ضرر پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ کسی ظالم کو سزا دینے کا حکم والی کو خوش کرتا ہے؛ اس لیے کہ اس میں حکمت ہے؛ اور یہ حاکم عادل ہے؛ اس نے عدل پر مبنی حکم دیا ہے۔ اور اس میں ظالم کے لیے ضرر بھی ہے؛ کیونکہ اس سے اسے تکلیف پہنچتی ہے۔

اور اگر فرض کیا کہ یہ حاکم اس ظلم کے حصول کا سبب ہے۔ اس طور پر کہ قابلِ ملامت نہیں ۔ تو بھی ظالم کے لیے عذر نہیں ۔ جیسے وہ حاکم جس کے سامنے گواہوں نے عزیم کے مال کی شہادت دی، اور اس نے قید یا سزا کا حکم سنا دیا، اور اس نے ناحق دوسرے کو مال دلوا دیا، تو رب تعالیٰ اس فیصلہ میں حاکم کو بھی سزا دے گا، اور اس نے کہا: تو نے مجھے قید میں ڈلاا اور تو ادا سے عاجز تھا، اور میرے خلاصی کی اور کوئی صورت نہ تھی سوائے اس مال کے لینے کے۔ تو یہ پہلی قید اس کے حق میں ضرور ہوگی، اور دوسرے کا مال ناحق لینے پر اسے عقوبت ہوگی، اور والی کہے گا: میں نے عادل کی شہادت پر حکم دیا۔ اس میں مجھ پر کوئی گناہ نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ میں نے خطا کی ہے، اور حاکم کو خطا میں بھی اجر ہے۔ اب دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے حق میں ایسا ضرر کیا ہے جس میں وہ معذور ہے، اور دوسرا قابلِ سزا ہے۔ بلکہ مظلوم ہے البتہ تاویل کے ساتھ ہے۔

یہ مثالیں اللہ کے فعل جیسی نہیں ہیں ۔ کہ اس کے جیسی کوئی شے نہیں ہے، ذات میں ، نہ صفات میں اور نہ افعال میں ۔ کہ وہ مختار میں اختیار پیدا کرتا ہے، اور راضی میں رضا اور محب میں محبت۔ اس پر سوائے اللہ کے اور کوئی قادر نہیں ۔

جو شخص یہ کہتا ہے کہ: ’’ جَبَرَ اللّٰہُ الْعِبَادَ‘‘ (اللہ نے بندوں کو مجبور محض بنایا ہے)۔ ائمہ حدیث مثلاً امام ثوری، اوزاعی، زبیدی، اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس پر بڑی جرح قدح کی ہے۔ ان کاعقیدہ ہے کہ جبر کرنا، عاجز کا کام ہے۔ جیسے والد اپنی بیٹی کو اس کی مرضی کے خلاف مجبور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارادہ اور مراد دونوں کا خالق ہے، البتہ حدیث نبوی کے اتباع میں ’’ جَبَلَ اللّٰہُ الْعِبَادَ ‘‘(اللہ نے بندوں کو پیدا کیا) کہہ سکتے ہیں ، مگر ’’ جَبَلَ ‘‘کی بجائے ’’ جَبَرَ ‘‘کا لفظ نہیں بولا جا سکتا۔

وہی ارادہ اور مراد دونوں کا خالق ہے۔ لہٰذا جیسا کہ سنت میں آتا ہے یہ کہا جائے گا کہ اس نے جبلت پر پیدا کیا اور یہ نہ کہا جائے کہ اس نے جبر کیا۔ جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں آتا ہے۔[نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو رب تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ۔ ایک بردباری اور دوسرے وقار۔ اس نے عرض کیا کہ: کیا ان دونوں خصلتوں کو میں نے اپنایا ہے یا میں ان پر پیدا کیا گیا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں تمہاری اس پر جبلت ہے۔ تو اس نے عرض کیا: سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے ایسی خصلتوں پر پیدا کیا ہو اسے محبوب ہیں ۔‘‘ صحیح مسلم: ۱؍ ۴۸ ۔ ۴۹۔ کتاب الایمان، باب الامر بالایمان باللّٰہ تعالی۔]

خلاصہ کلام یہ ہے کہ خلق و تقدیر اور امر و تشریع کی جہتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، شرعی اوامر و احکام کا مقصد اس چیز کا اظہار و بیان ہے جو بندوں کے لیے نفع یا ضرر کی موجب ہو، جس طرح طبیب مریض کو فائدہ مند چیزوں کے استعمال کا حکم دیتا اور ضرر رساں اشیاء سے پرہیز کرنے کی ہدایت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعہ صلحاء و اشقیاء دونوں کے انجام سے آگاہ کر دیا، سعادت کی موجب اشیاء کا حکم دیا اور شقاوت کے موجبات سے روک دیا۔

باقی رہا اللہ کے خلق و تقدیر کا معاملہ تو اس کا تعلق ذات باری اور جملہ مخلوقات کے ساتھ ہے۔ چنانچہ جس چیز میںعام مخلوقات کا فائدہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ وہ کام کرتے ہیں ،ا گرچہ اس سے بعض کو نقصان پہنچنے کا بھی احتمال ہو۔ مثال کے طور پر بارش کو لیجئے کہ اس کا نزول رحمت و حکمت کے پیش نظر ہوتا ہے، تاہم بعض اوقات اس سے نقصان بھی پہنچ جاتا ہے، مثلاً کسی کا مکان گر جاتا ہے، کوئی سفر سے رک جاتا ہے اور کسی کا کاروبار معطل ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح رسل و انبیاء کی بعثت بھی عین عنایت ربانی ہے، اگرچہ بعض قوموں کو اس سے الم ورنج پہنچتا ہے، اور ان کی قیادت و سیادت روبزوال ہوجاتی ہے۔

افعال اللہ و افعال العباد کے مابین فرق و امتیاز

پس جب کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے علم میں کافر مقدر کیا جاتا ہے تو یہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔ اور کافر کو اس کے افعال اختیاری کی بنا پر سزا دی جاتی ہے، یہ سزا بھی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتی۔

صفحہ 5 از 10