فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 10

اللہ تعالیٰ کے افعال کو افعال العباد پر قیاس کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اس لیے کہ آقا جب غلام کو کسی بات کا حکم دیتا ہے تو وہ غلام کا محتاج ہوتا ہے، اور وہ کسی غرض کے تحت ایسا کرتا ہے۔ جب آقا غلام کو اس محنت و کاوش کا بدل عطا کرتا ہے تو یہ اس کا معاوضہ کہلاتا ہے۔ اندریں صورت آقا کو فعل مامور کا خالق نہیں کہہ سکتے۔ اور اگر فرض کیا کہ آقا غلام کو حکم بجا لانے کا معاوضہ نہیں دیتا یا غلام کا حق ادا نہیں کرتا تو ظالم ٹھہرے گا۔ جیسے کوئی سودا تو خریدے پر اس کی قیمت نہ دے۔ یا مزدوری سے مزدوری تو لے پر اسی اجرت نہ دے۔

اللہ تعالیٰ بندوں سے بے نیاز ہے اس نے بندوں کو انہی باتوں کا حکم دیا ہے جو ان کے لیے نفع رساں ہیں اور انہی باتوں سے روکا ہے جو ان کے لیے موجب ضرر ہیں ۔ وہ حکم دیکر بندوں پر احسان کرتاہے اور طاعت پر ان کی معاونت کر کے بھی ان کا محسن ہے۔ اوراگرفرض کیا ایک نیک عالم لوگوں کو ایک نیک کام کا حکم دیتا ہے۔ پھر وہ بعض کی اس نیکی پر معاونت کرتا ہے، اور بعض کی نہیں ۔ تو جن کی معاونت کرتا ہے ان پر احسانِ تام کرتا ہے اور جن کی معاونت نہیں کرتا ان کے حق میں ظالم نہیں ۔ اور اگر وہ گنہگار کو عدل و حکمت کے مقتضی کے تحت سزا دیتا ہے تو بھی محمود ہے۔ بلکہ دونوں صورتوں میں محمود ہے۔ تو جب بندہ دونوں صورتوں میں محمود ہے تو کہاں ارحم الراحمین اور احکم الحاکمین کی حکمت!!!

پس اللہ تعالیٰ کے یہ احکام ارشاد و تعلیم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ مامور کے بجالانے میں انسان کی مدد کرے تو اس کا احسان عظیم ہے اور اگر مدد نہ کرے اور بندے کو تنہا چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ گناہ کا مرتکب ہو تویہ کسی اور حکمت پر مبنی ہوگا۔ اور اگر وہ افعال بندے کے لیے موجب الم و رنج ہوں تو وہ ان افعال کی وجہ سے دکھ پائے گا، جو آرام و راحت کے موجب ہوتے ہیں اور سبب الم ورنج بھی، یہ سب کچھ تقدیر ربانی کے تحت ہوگا، اور ان دونوں میں کوئی منافات بھی نہیں پائی جاتی۔ اگرچہ اس نعمت یا الم کے دلوانے میں رب تعالیٰ کی قدرت و قضا شامل ہے۔ اس نے اپنی کمال قدرت اور حکمت سے اسے مختار بنایا ہے؛ اور اس اختیار پر مرتب ہونے والے اثرات اس کی حکمت اور قدرت کے اتمام میں سے ہیں ۔

حکمت کلی پر کلام

اب یہ بات باقی رہی کہ آخر وہ کلی حکمت کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حکمت کی معرفت حاصل کرنا بنی نوع انسان کے لیے ضروری نہیں ، ان کے لیے تسلیم و رضا ہی کافی ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ ہر شے کو جانتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے اور وہ بندوں پر ان کی ماؤں سے بھی زیادہ اور بے حد رحیم ہے، اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ اگر اکثر لوگ اس بات کو جان لیں تو انہیں اس علم سے ضرر پہنچے، اور ہم ایسے علم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں جو نافع نہ ہو، اور لوگوں کا ہر بات میں اللہ کی حکمت پر مطلع ہونا ان کے حق میں نافع نہیں ۔ بلکہ کبھی مضر بھی ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآئَ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُؤکُمْ﴾ (المائدہ:۱۰۱)

’’ایسے امور کے متعلق مت پوچھو کہ اگر ان کا اظہار کر دیا جائے تو تم پر ناگوار گزرے۔‘‘

یہ مسئلہ افعال الٰہی کی غایات و مقاصد کے نام سے موسوم ہے۔ اور غالباً حکمت الہیہ کے تمام مسائل سے عظیم تر ہے۔ہم نے متعدد مواقع میں اس کی اور قدر کے مسئلہ کی تفصیل بیان کی ہے، اور ہم نے اس بات پر نہایت لطیف تنبیہ کی ہے کہ فعل کی تخلیق کا ظلم ہونا ممتنع ہے۔ چاہے یہ کہا جائے کہ اللہ سے ظلم کا صدور ممتنع ہے۔ یا یہ کہا جائے کہ یہ مقدور ہے۔ کیونکہ وہ ظلم جو ظلم ہے وہ بندے کو اس کے ناکردہ فعل پر سزا دینا ہے۔ البتہ اس کے فعلِ اختیاری پر اسے سزا دینا اور ظالموں سے مظلوموں کو انصاف دلوانا، یہ اللہ کے عدل کے کمال میں سے ہے۔

تعدیل اور تجویر کے باب میں یہ تفصیل ان قدریہ کے مذہب کے درمیان، جو اللہ کی صفتِ خلق کو بندوں میں عدل اور ظلم پر قیاس کرتے ہیں اور ان جبریہ کے مذہب کے درمیان ہے جو رب تعالیٰ کے افعال کے لیے حکمت کو نہیں مانتے، اور نہ اسے ظلم سے منزہ مانتے ہیں ان کے نزدیک اس میں کوئی فرق نہیں کہ اسے عدل و احسان کہا جائے یا پھر اسے ظلم کہا جائے۔

ان لوگوں کا یہی قول[عقیدہ ] قدریہ کی شناعتوں کو اور زیادہ قوی کرنے کا ایک سبب بنا۔ حتیٰ کہ ان لوگوں نے دوسری جانب بے حد غلو کیا، اور سب سے بہتر امر ہے جو میانہ ہو، اور اللہ کا دین اس میں غلو کرنے والے اور اس سے منہ موڑنے والے کے درمیان سراپا عدل ہے، اور رب تعالیٰ کے کفر و معاصی پر سزا دینے میں اور رنگ اور لمبائی پر سزا دینے میں فرق ظاہر ہو چکا ہے۔ جیسا کہ یہ فرق اس وقت ظاہر ہو جاتا ہے کہ جب بعض لوگوں کو سزا دی جائے۔ کیونکہ کفر چاہیے اس میں رب تعالیٰ کا ارادہ اور اس کی اس پر قدرت پیدا ہوئی ہے۔ لیکن بہرحال بندے نے وہ فعل اپنے اختیار سے کیا ہے۔ اگرچہ یہ سب مخلوق ہے۔ جیسا کہ رب کے سوا دوسرا ان افعال پر ایسے سزا دیتا ہے چاہے یہ سب مخلوق ہے۔

[کافر میں ایمان کی قدرت کا مسئلہ اور اس کا جواب]

شیعہ مصنف کا اہل سنت کی طرف یہ عقیدہ منسوب کرنا کہ ’’ اس میں ایمان کی قدرت پیدا نہ کی ۔‘‘ یہ اس شخص کا قول ہے جو قدرت مع الفعل کا قائل ہے، اس کی رائے میں جو شخص کوئی فعل انجام نہیں دیتا تو وہ اس پر قادر نہیں تاہم اسے عاجز بھی نہیں کہہ سکتے۔ یہ جمہور اہل سنت کا قول نہیں ۔ بخلاف ازیں اہل سنت انسان کے لیے اس قدرت کوثابت مانتے ہیںجس پر امر و نہی کا مدار و انحصار ہے اور وہ قدرت مقارن للفعل نہیں ہوتی، بلکہ فعل سے پہلے پائی جاتی ہیجو ضروری نہیں فعل کے ساتھ بھی ہو۔ جمہور اہل سنت کا یہ بھی قول ہے کہ جس قدرت کے ساتھ فعل واقع ہوتا ہے اس کا فعل کے ساتھ ہونا لازم ہے۔ جمہور اہل سنت کے نزدیک قدرت معرومہ کے ساتھ فعل جائز نہیں ، اور نہ ارادۂ معرومہ کے ساتھ ہی جائز تھا۔ جیسا کہ فعل فاعل معدوم کے ساتھ نہیں پایا جاتا۔

صفحہ 6 از 10