فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 10

جبکہ قدریہ اس بات کے قائل ہیں کہ قدرت فعل سے پہلے ہی ہوتی ہے۔ جبکہ ان کے بالمقابل مشبہ کا قول ہے کہ قدرت فعل کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ جبکہ جمہور امت اور آئمہ کا قول معتدل ہے کہ: قدرت کا فعل کے ساتھ ہونا لازم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کبھی فعل سے پہلے بھی ہوتی ہے۔ جیسے گنہگار مامور کی قدرت کہ وہ فعل پر متقدم ہوتی ہے کہ وہ نافرمان کے لیے ہوتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

﴿وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا﴾ (آل عمران: ۹۷) 

’’اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو اس کی طرف راستے کی طاقت رکھے۔‘‘

اس آیت میں صاحب استطاعت پر حج کو فرض قرار دیا گیا ہے، اگر صرف حج سے فارغ ہونے والے کو صاحب استطاعت تصور کیا جائے تو حج اسی شخص پر فرض سمجھا جائے گا جو فریضہ حج ادا کر لے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ترک حج کے جرم میں کسی کو بھی سزا نہیں دی جائے گی۔اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن: ۱۶) 

’’جس قدر ہو سکے تم اللہ سے ڈرو۔‘‘

اس میں حسب استطاعت تقویٰ کو واجب قرار دیاگیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا تقویٰ کی استطاعت سے محروم ہوتا تو تقویٰ اسی شخص پر واجب ہوتا جواس صفت سے بہرہ ور ہوتا۔اور غیر متقی قابل عتاب و عقاب نہ ہوتا، اور یہ بات معلوم شدہ ضروریاتِ دین کے بالکل خلاف ہے۔

ان لوگوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیارکیا ہے کیونکہ قدریہ، معتزلہ اور شیعہ وغیرہ کا یہ قول ہے کہ قدرت فعل سے قبل ہوتی ہے تاکہ ضدین کے قابل ہو سکے۔ یعنی فعل کے بھی اور ترک کے بھی۔ سو فعل کے وقت تو فعل ہوگا اور یہ گمان کرتے ہیں اس وقت وہ قادر نہ ہوگا۔ کیونکہ قادر کا فعل اور ترکِ دونوں پر قادر ہونا لازم ہے۔ جبکہ فعل کے وقت وہ ترک پر قادر نہیں ۔ لہٰذا یہ قادر نہیں ۔

رہے اہل سنت تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا فعل کے وقت قادر ہونا ضروری ہے۔ پھر ائمہ اہل سنت کے نزدیک وہ فعل سے قبل بھی قادر ہے۔ البتہ ایک جماعت کا یہ قول بھی ہے کہ وہ فعل کے وقت ہی قادر ہوگا۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ قدرت ضدین کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ فعل سے متصل و مقارن قدرت اسی فعل کے لیے ہے اور وہ اس فعل کو مستلزم ہے۔ اس کے بغیر نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ اگر یہ قدرت علی سبیل البدلیت ضدین کے لیے ہوتی تو دو ضدوں میں ایک عدم کے ساتھاس کا وجود ممکن تھا، اور ایک شے سے مقارن شے اسے مستلزم ہوتی ہے، اور اس کے عدم کے ساتھ نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ ملزوم کا وجود لازم کے بغیر ممتنع ہے۔

جو قدریہ نے کہا ہے وہ ان کی فاسد اصل پر مبنی ہے، اور وہ یہ کہ رب تعالیٰ کا مومن و کافر اور نیک و فاجر کو قدرت دینا برابر ہے۔ یہ لوگ اس بات کا قول نہیں کرتے کہ رب تعالیٰ نے مطیع مومن کو اعانت کے ساتھ خاص کیا ہے جس کے ذریعے وہ ایمان حاصل کرتا ہے، بلکہ یہ لوگ یہ کہتے ہیں : رب تعالیٰ کی مطیع و عاصی کو اعانت یکساں ہے۔ لیکن خود بندے نے طاعت کو ترجیح دی ہے، اور دوسرے نے خود معصیت کو ترجیح دی ہے۔ جیسے ایک والد جو اپنے ہر بیٹے کو ایک تلوار دے تو ایک تو مجاہد فی سبیل بنا اور دوسرا ڈاکو یا اس نے دونوں کو مال دیا تو ایک نے راہِ خدا میں خرچ کیا اور دوسرے نے وہ مال شیطان کی راہ میں لگا دیا۔

لیکن اس قول کے فاسد ہونے پر قدر کو ثابت کرنے والے اہل سنت کا اجماع ہے۔ ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ کی مومن مطیع پر نعمت دینیہ ہے جو اس کے ساتھ خاص ہے نہ کہ کافر کے ساتھ۔ اور یہ کہ اس نے مومن کی وہ اعانت کی ہے جو کافر کی نہیں کی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِِلَیْکُمُ الْاِِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ الرَّاشِدُوْنَ ﴾ (الحجرات: ۷) 

’’اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ ہدایت والے ہیں ۔‘‘

رب تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس نے ایمان کو ان کے لیے محبوب و مزین فرمایا۔

قدریہ کہتے ہیں : یہ محبوب بنانا؛ اور مزین کرنا ساری مخلوق کے لیے عام ہے۔ یا یہ دلائل حق کے بیان و اظہار کی قبیل میں سے ہے۔ لیکن آیت کا مقتضی یہ ہے کہ یہ اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ الرَّاشِدُوْنَ﴾ ’’اور وہی لوگ ہدایت والے ہیں ۔‘‘جبکہ کافر راشدین [ہدایت والے]نہیں ہیں ، اور فرمایا: 

﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِ﴾ (الانعام: ۱۲۵) 

’’ جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا آسمان میں چڑھ رہا ہے۔‘‘ اور ارشاد فرمایا:

﴿اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ وَ جَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾ (الانعام: ۱۲۲) 

’’اور کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایسی روشنی بنا دی جس کی مدد سے وہلوگوں میں چلتا پھرتا ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اندھیروں میں ہے، ان سے کسی صورت نکلنے والا نہیں ۔ اسی طرح کافروں کے لیے وہ عمل خوشنما بنا دیے گئے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘

﴿وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآئِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ ﴾ (الانعام: ۵۳) 

’’اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں ؟‘‘

صفحہ 7 از 10