فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 10

﴿یَمُنُّونَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَیَّ اِِسْلَامَکُمْ بَلْ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدَاکُمْ لِلْاِِیْمَانِ اِِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ﴾ (الحجرات: ۱۷) 

’’وہ تجھ پر احسان رکھتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے، کہہ دے مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کے لیے ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ دعا کرنے کی ہدایت فرمائی ہے:

﴿ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ﴾ (الفاتحہ)

’’ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا۔‘‘

دعا سے زمانہ مستقبل میں ایسی چیز کا حصول مقصود ہوتا ہے جو قبل ازیں حاصل نہ ہو، اس دعا میں جس ہدایت کا ذکر کیا گیا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ سے ایک جداگانہ چیز ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

﴿یَّہْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰامِ﴾ (المائدۃ: ۱۶) 

’’جس کے ساتھ اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں ، سلامتی کے راہ پر ہدایت دیتا ہے۔‘‘

﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ مَا زَکَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّی مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴾ (النور: ۲۱) 

’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتااور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

﴿رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمِیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا﴾ (البقرۃ: ۱۲۸)

’’اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے دکھا اور ہماری توبہ قبول فرما۔‘‘اور فرمایا:

﴿وَ جَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ﴾ (السجدہ: ۲۳) 

’’اور ہم نے ان میں سے کئی پیشوا بنائے، جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے، جب انھوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین کیا کرتے تھے۔‘‘

﴿وَ جَعَلْنٰہُمْ اَئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ﴾ (القصص: ۳۱) 

’’اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے۔‘‘

کتاب و سنت میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں جو بیان کرتی ہیں کہ مومن بندے ہدایت، ایمان، عمل صالح اور نیکی کی طرف لے جانے والی عقل کے ساتھ خاص ہیں ، اور عقل بھی یہی کہتی ہے۔پس بیشک جب یہ فرض کیا کہ فاعل سے فعل کے صدور کے جملہ اسباب [سے بہرہ ور ہے]جیسا کہ وہ تارک سے بھی ہیں کہ اس میں فاعل کے فعل کے ساتھ اختصاص دو متماثلین میں سے ایک کو دوسرے پر بلا مرجح ترجیح دینے کے ساتھ ہے تو یہ بالضرور فاسد ہے، اور یہ وہ اصل ہے جس پر انہوں نے صانع کے اثبات کی بنا رکھی ہے۔ اگر ان کا یہ قول فاسد ہو تو ان کے پاس صانع کے اثبات کا کوئی طریق نہیں رہ جاتا۔

ان کے قول کی غایت سے ہے کہ قادرِ مختار دو مقدور میں سے ایک کو دوسرے پر بلا مرجح کے ترجیح دیتا ہے۔ جیسے بھوکا اور خوف زدہ، اور یہ قول فاسد ہے۔ کیونکہ برابری کی موجب اسباب کے ہوتے ہوئے ترجیح ممتنع ہے۔

پھر اگر تو بلا مرجح کے قول میں ترجیح وجود فعل سے ایک زائد معنی ہے تو یہ بھی سببِ مرجح ہے، اور اگر میں کوئی زائد معنی نہیں ۔ تو فعل کے وجود سے پہلے فعل کا حال، فعل کے وقت کے حال جیسا ہوگا۔

پھر فعل دو میں سے ایک حالت میں ۔ دوسری حالت کو بلا مرجح چھوڑنے کے ساتھ حاصل ہوگا۔ بلاشبہ یہ عقل کے ساتھ مکابرہ ہے۔ پھر جب قدریہ کے قول کی اصل یہ ہے کہ طاعات کا فاعل اور ان کا تارک دونوں اعانت و اِقدار میں برابر ہیں ، تو ان کی اس اصل پر یہ بات ممتنع ہوگئی کہ فعل کے ساتھ قدرتِ مخصصہ ہو۔ کیونکہ وہ قدرت جو فعل کو خاص کرتی ہے وہ تارکِ فعل کے ساتھ نہ ہوگی۔ وہ تو فاعل کے ساتھ ہوگی، اور قدرت صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوگی، اور جو اللہ کی طرف سے ہو وہ فعل کے وجود کے ساتھ مختص نہ ہوگی۔

پھر جب انہوں نے دیکھا کہ قدرت کا فعل سے پہلے ہونا لازم ہے تو یہ قول کیا: قدرت فعل کے ساتھ نہ ہوگی کیونکہ قدرت وہ ہوتی ہے جس کے ساتھ فعل اور ترک دونوں ہوں ، اور فعل کے وجود کے وقت ترکِ ممتنع ہے۔ اسی لیے ان لوگوں نے کہا: قدرت فعل سے قبل ہوگی۔ لیکن یہ قول قطعاً باطل ہے۔ کیونکہ اثر کا وجود اس کی بعض شروطِ وجودیہ کے ساتھ ممتنع ہے۔ بلکہ لازم ہے کہ امور وجودیہ میں سے جن جن پر فعل موقوف ہے وہ فعل کے وقت موجود ہوں ۔ پس ان کے قول کی نقیض حق ہے، اور وہ نقیض یہ ہے کہ فعل کے ساتھ قدرت ہونا لازم ہے۔

لیکن یہاں اہلِ اثبات کی بھی دو جماعتیں ہو گئیں ۔ ایک جماعت کا یہ قول تھا کہ قدرت صرف فعل کے ساتھ ہوگی۔ان کے گمان میں قدرت نوعِ واحد سے جو ضدین کے مناسب نہیں ، اور ان میں سے بعض کا گمان یہ ہے کہ قدرت عرض ہے۔ لہٰذا یہ دو زمانوں میں باقی نہ رہے گی۔ لہٰذا فعل سے قبل اس کا وجود ممتنع ہوگا۔

لیکن درست وہ قول ہے جو آئمہ فقہ و اہل سنت کا ہے کہ قدرت کی دو انواع ہیں ۔ ایک نوع وہ ہے جو فعل کی تصحیح کرنے والی ہے۔ اس کے فعل اور ترک دونوں جائز ہیں ۔ یہی وہ قدرت ہے جس کے متعلق امر و نہی ہوتا ہے۔ یہ مطیع اور عاصی دونوں کو حاصل ہوتی ہے، اور یہ فعل سے قبل ہوتی ہے۔ یہ قدرت فعل تک باقی رہتی ہے۔ چاہے عرض بن کر جیسا کہ اس کے نزدیک جو قدرت کو عرض مانتا ہے اور چاہے قدرت کے امثال کے تجدد کے ساتھ اس کے نزدیک جس کا یہ قول ہے کہ اعراض باقی نہیں رہتے، اور یہ قدرت ضدین کے مناسب ہے۔

استطاعت کی تعریف:

اور اللہ کا بندوں کو امر اس طاقت کے ساتھ مشروط ہے۔ جس میں یہ طاقت نہ ہو اللہ اسے مکلف نہیں بناتا، اور اس کی ضد عاجزی و درماندگی ہے۔ اس کا ذکر اس ارشادِ باری تعالیٰ میں ہے:

﴿وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحِ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ﴾ (النساء: ۲۵) 

صفحہ 8 از 10