فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 10

’’اور تم میں سے جو مالی لحاظ سے طاقت نہ رکھے کہ آزاد مومن عورتوں سے نکاح کرے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ یُہْلِکُوْنَ اَنْفُسَہُمْ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ ﴾ (التوبۃ: ۳۲) 

’’اور عنقریب وہ اللہ کی قسم کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو تمھارے ساتھ ضرور نکلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ بے شک وہ ضرور جھوٹے ہیں ۔‘‘

﴿فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِِطْعَامُ سِتِّینَ مِسْکِیْنًا﴾ (المجادلہ: ۳) 

’’تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔‘‘

اس میں اس کی استطاعت کی نفی کا بیان ہے، جس نے فعل نہیں کیا لہٰذا یہ فعل کے ساتھ نہ ہوگی اور اسی معنی میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا:

’’کھڑے ہو کر نماز پڑھئے، اگر کھڑا ہونا ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھنے پر قادر نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو۔‘‘[صحیح بخاری کتاب تقصیر الصلاۃ ، باب اذا لم یطق قاعداً صلی علی جنب (ح: ۱۱۱۷)]اس حدیث میں آپ نے ایسی استطاعت کی نفی فرمائی جس کے ساتھ فعل نہ پایا جاتا ہو۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ شریعت میں جو استطاعت مشروط ہے، وہ اس استطاعت سے خاص تر ہے جو عقل سے معلوم کی جاتی ہے۔ اس لیے کہ شار ع کا مقصد دین میں آسانی پیدا کرنا ہے، مثلاً مریض جو کھڑا ہونے پر قادر ہو مگر یہ خطرہ دامن گیر ہو کر کھڑا ہونے سے وہ بتا خیر صحت یاب ہوگا، ایسے شخص کو حصول ضرر کی بنا پر شرعاً غیر مستطیع تصور کیا جائے گا، اگرچہ لوگوں میں اسے مستطیع کے نام سے موسوم کیا جائے۔

خلاصہ کلام! یہ کہ شارع کی نگاہ شرعی استطاعت میں صرف امکان ہی پر نہیں ہوتی بلکہ وہ اس کے لوازم کو بھی ملحوظ خاطر رکھتا ہے۔ جب شارع کی نظر میں راجح مفسدہ کے ساتھ فعل کا امکان موجود ہو ؛ تویہ شرعی استطاعت نہ ہوگی۔

جیسے وہ شخص جو ایسے ضرر کے ساتھ حج کی قدرت رکھتا ہو جو اس کے دین یا مال کو لاحق ہوتی ہو۔ یا کوئی زیادہ مرض کے ہوتے ہوئے بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ یا کوئی اپنی معیشت سے منقطع ہو کر دو ماہ کے لگا تار روزے رکھے، وغیرہ۔ تو جب شارع نے قدرت میں مفسدۂ راجحہ کے نہ ہونے کو شرط رکھا ہے؛ تو وہ کسی عاجز کو کیوں کر مکلف و مامور کر سکتا ہے۔ تاہم یہ استطاعت و جود فعل تک باقی رہنے کے باوصف فعل کے پائے جانے کے لیے کافی نہیں ، اگر ایسی استطاعت کافی ہوتی تو تارک و فاعل مساوی ہو کر رہ جاتے، اور دونوں میں فرق و امتیاز مشکل ہوجاتا۔ بخلاف ازیں مذکورہ استطاعت کے ساتھ ایک دوسری اعانت کا وجود ناگزیر ہے۔ جو اس کے مقارن ہو، مثلاً فاعل کا با ارادہ ہونا اس لیے کہ قدرت و ارادہ کے بغیر فعل کا تکمیل پذیر ہونا ممکن نہیں ۔ وہ ارادہ جس میں عزم و استقلال پایا جاتا ہو استطاعت مقارنہ للفعل میں داخل ہے، البتہ جو استطاعت احکام کا مکلف بنانے کے لیے شرط ہے اس میں ارادہ کا پایا جانا ضروری نہیں ۔اور فعل سے مقارن استطاعت میں ارادۂ جازمہ داخل ہے۔ بخلاف تکلیف میں مشروط استطاعت کے؛ اس میں ارادۂ شرط نہیں ۔مذکورہ بالا بیان سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ارادہ نہ کرنے والے کو کسی فعل کا مامور و مکلف تو بناتے ہیں البتہ جو شخص کسی فعل کو انجام دینے سے عاجز ہو اس کو مامور نہیں کرتے۔ جیسے آقا اپنے غلام کو ایسے کام کا حکم تو دیتا ہے، جس کو انجام دینے کا وہ ارادہ نہیں رکھتا البتہ اسے ایسے کام تفویض نہیں کرتا جن سے وہ عاجز ہو۔ جب عزم راسخ اور قوت تامہ دونوں یک جا ہوتے ہیں ، تو فعل کا وجود پذیر ہونا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ اور فعل کو مستلزم یہ ارادۂ و قوت ضروری نہیں کہ فعل کو مقارن بھی ہو، اور اگر وہ فعل کے مقارن نہیں تو اس کا تقدم کافی نہیں ۔ کیونکہ وہ فعل کی علتِ نامہ ہے اور علتِ نامہ معلول کے مقارن ہوا کرتی ہے نہ کہ اس سے مقدم ہوتی ہے۔

دوسرے قدرت فعل کے وجود میں شرط ہے اور فاعل کا قادر ہونا بھی شرط ہے، اور اس شے کے وجود میں شرط جو قادر کے قادر ہونے کا ذریعہ ہو تو وہ شے اس کے عدم کے ساتھ نہیں ۔ بلکہ اس کے وجود کے ساتھ ہوگی۔ وگرنہ فاعل قادر نہ ہونے کے وقت بھی قادر ہوگا، یا غیر قادر بھی قادر ہوگا۔

اہلِ اثبات کے اس قول کا یہی مطلب ہے جسے قاضی ابو بکر اور قاضی ابو یعلی وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ: ’’ہمارے اورمعتزلہ کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ فاعل کو فاعل بنانے والا امر یہ اس کا قادر ہونا ہے اور ہم نے جملہ امور کو درست کرنے والے میں دیکھا ہے کہ اس امر کا اور حکم کا ثبوت اس کے درست کرنے والے کے عدم کے بغیر مستحیل ہے۔

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جب یہ بات ثابت ہوگی کہ عالم اور قادر کو درست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندہ بھی ہو تو حیات کے بغیر کسی کا عالم و وقار ہونا نا ممکن ٹھہرا۔ اسی طرح کوئی رنگ والا رنگین اور متحرک جب ہی متحرک ہوگا کہ جب وہ جو مصر بھی ہو لہٰذا غیر جو ہر کا متلون و متحرک ہونا مستحیل ٹھہرے گا۔ لہٰذا کسی فاعل کا غیر قادر ہونے کے وقت فاعل ہونا بھی مستحیل ہوگا۔

اہلِ اثبات کہتے ہیں : یہ معتبر دلائل میں سے ہے، اور یہ دلیل اس بات کو مقتضی ہے کہ فعل پر قدرت کا ہونا لازم ہے۔ البتہ حکام سے قبل قدرت کے وجود کی نفی نہ کی جائے گی۔ کیونکہ درست کرنے والے امر کا وجود مشروط سے قبل بھی درست ہے اور اس کے بغیر بھی۔ جیسا کہ حیات کا علم کے بغیر اور جوہر کا حرکت کے بغیر وجود صحیح ہے۔

حدوث عالم اور فلاسفہ پر رد :

یہ وہ دلیل ہے جو حدوثِ عالم کے باب میں فلاسفہ کے خلاف پیش کی جاتی ہے۔ کیونکہ جب یہ فلاسفہ یہ کہتے ہیں کہ علتِ قدیمہ پہلے دورہ کے ختم ہونے کی شرط کے ساتھ دوسرا دورہ پیدا کرتی ہے۔

صفحہ 9 از 10