سپہ سالار کی شہادت کے وقت دیگر قائدین کی نامزدگی
علی محمد الصلابی8 ہجری بمطابق 629ء میں معرکہ موتہ کے موقع پر جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا سپہ سالار مقرر کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ان کی شہادت ہو جائے تو حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اگر ان کی بھی شہادت ہو جائے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے امیر ہوں گے، بالکل اسی سنت کو زندہ کرتے ہوئے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے معرکہ نہاوند کے موقع پر حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو اسلامی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔ ان کی شہادت کی صورت میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو اور ان کی بھی شہادت ہو جانے پر حضرت نعیم بن مقرنؓ کو فوج کا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔ حضرت نعمان بن مقرنؓ کی اعلیٰ فوجی قیادت کو جن وجوہات کی بنا پر امتیازی حیثیت حاصل ہوئی وہ یہ ہیں:
الف: جنگ چھیڑنے سے پہلے معائنہ کاروں کا وفد بھیجنا
حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے نہاوند کی طرف عسکری پیش قدمی کرنے سے پہلے طلیحہ بن خویلد اسدی، عمرو بن ابو سلمیٰ عنزی اور عمرو بن معد یکرب زبیدی رضی اللہ عنہم کو بطور معائنہ کار راستے کی تحقیق و تفتیش کے لیے روانہ کیا۔ واضح رہے کہ جس مقام پر اسلامی فوج نے پڑاؤ ڈالا تھا وہاں سے نہاوند بیس فرسخ سے کچھ زیادہ دوری پر واقع تھا۔ تینوں معائنہ کار ایک دن اور ایک رات کا سفر کرکے واپس لوٹے اور اپنے سپہ سالار کو بتایا کہ نہاوند تک کا جنگی سفر کرنے میں کسی ناخوشگوار حادثہ کے وقوع کا کوئی اندیشہ نہیں ہے اور نہ راستے میں کسی سے ملاقات ہوئی ہے۔ گویا معائنہ کاروں کی یہ جماعت موجودہ دور کے ہر اول دستہ کے قائم مقام تھی، جو فوجی کارروائی کرنے سے پہلے دشمن کی فوج کا اندازہ اور راستے کی تحقیق کرتا ہے۔ اطمینان بخش مخبری کے باوجود حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کافی احتیاط برتتے ہوئے اپنی فوج کو لے کر آگے بڑھے اور جس رفتار سے قدم بڑھانا چاہیے قدم بڑھایا۔
ب: دشمن کو بھٹکانے کی جنگی حکمت عملی
معرکہ نہاوند کے موقع پر مسلمانوں نے دشمن کو بھٹکانے کے لیے جو حکمت عملی اپنائی تھی وہ بلا شبہ جنگی داؤ پیچ کا ایسا بہترین مظاہرہ تھا جسے قدیم و جدید تاریخ میں افواج استعمال کر سکتی ہیں۔ چنانچہ جب گہری خندق، خاردار تاروں اور ماہر تیر اندازوں سے گھری ہوئی، شہر نہاوند کی محفوظ شہر پناہ سے اندر گھسنا مسلمانوں کے لیے مشکل ثابت ہوا اور انہوں نے اندازہ کر لیا کہ ہمارا محاصرہ طول کھینچ سکتا ہے بالخصوص اس لیے بھی کہ ایرانیوں نے نہاوند میں خوراک اور ضروریات زندگی کے دیگر اسباب کو وافر مقدار میں جمع کر لیا ہے، تو انہوں نے دشمن کو ڈھیل دینے، اسے بہکانے اور فوجی سرنگوں اور میدان جنگ سے باہر لانے کے لیے نہایت کامیاب حیلہ تلاش کیا۔ وہ اپنی اس تدبیر میں کامیاب ہوگئے کہ دشمن کو شہر پناہ سے باہر لے آئے اور ان کے منتخب کردہ میدان جنگ سے ہٹا کر دوسری جگہ ان پر جنگ تھوپ دی۔ مسلمانوں نے اپنے منتخب نشانے و مقررہ حدود تک دشمن کو ڈھیل دی اور پھر اپنے اپنے بنکروں سے نکل کر ہر طرف سے آمنے سامنے کی جنگ چھیڑ دی، اب دشمن چونکا اور گھبرایا اور خود بخود اپنے مقابل کی جھولی میں آگرا اور شکست کا منہ لے کر رہ گیا۔ اس نازک صورت حال میں اپنے دشمن کو زیر کرنے اور اسے اس کی پناہ گاہ سے باہر نکالنے کے لیے مسلمانوں نے جو حیلہ اپنایا تھا اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا چارہ کار بھی نہ تھا۔
(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 295، 296)
ج: حملہ کے لیے مناسب وقت کا انتخاب
تاریخ حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے مثالی صبر اور حملہ کے لیے مناسب وقت کے انتخاب میں ان کی مہارت و دانائی پر شاہد ہے، وہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے رکھتے ہوئے زوال آفتاب کے بعد جب ہوائیں چلنے لگتیں تب حملہ کرتے۔ حضرت نعمان بن مقرنؓ نے اسی فیصلہ کن جنگ میں شہادت پائی اور جب یہ خبر امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور رونے لگے اور اتنا روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں، ان کی شہادت کا سیدنا عمرؓ پر ایسا اثر ہوا کہ غم سے نڈھال ہوگئے۔ دوسرے شہداء کے بارے میں بھی پوچھا، چند لوگوں کا نام بتایا گیا۔ آپ ان لوگوں سے متعارف نہ تھے، سیدنا عمرؓ نے فرمایا: یہ مسلمانوں میں سے کمزور (غیر معروف) لوگ تھے، لیکن جس ذات نے انہیں شہادت کا اعزاز بخشا ہے وہ ان کے نام و نسب تک کو جانتا ہے۔ عمر کے پہچاننے سے ان کا کیا فائدہ ہوگا؟
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 113)
نہاوند کے معرکہ میں ایک قابل ذکر واقعہ یہ پیش آیا کہ مسلمانوں کو مال غنیمت میں کسریٰ کے ذخیروں میں سے قیمتی جواہرات سے بھرے ہوئے دو ٹوکرے ملے، امیر لشکر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ ٹوکرے حضرت سائب بن اقرع رضی اللہ عنہ کو دے کر امیرالمؤمنین کے پاس بھیج دیا، جب وہ ٹوکرے سیدنا عمرؓ کے پاس لائے گئے تو آپؓ نے کہا: انہیں بیت المال میں رکھ دو اور اپنے مجاہدین ساتھیوں سے جا ملو، حضرت سائب رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور واپس لوٹ پڑے، کچھ دیر بعد عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایلچی کو بھیجا کہ سائب کو واپس بلا لائے۔ وہ گھوڑے کی ٹاپوں کی علامت دیکھتے ہوئے حضرت سائبؓ کو بلانے نکل گیا، کوفہ میں ان سے جا ملا پھر انہیں واپس بلا لایا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 114)
جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سائبؓ کو دیکھا تو کہا: اے سائب بات صرف یہ ہے کہ جس شام تم یہاں سے واپس گئے ہو اسی رات میں نے خواب دیکھا کہ فرشتے مجھے کھینچ کر دونوں ٹوکروں کے پاس لاتے ہیں اور وہاں آگ کو خوب ہوا دیتے ہیں۔ وہ دونوں مجھے دھمکی دیتے ہیں کہ اگر میں نے ان ٹوکروں میں بھرے قیمتی سامان کو تقسیم نہ کیا تو وہ مجھے آگ سے داغیں گے۔ اس لیے اے سائب! ان دونوں کو لے جاؤ اور بازار میں اسے فروخت کر دو، لوگوں میں غلہ تقسیم کر دو، چنانچہ کوفہ کے بازار میں وہ سب فروخت کر دیا گیا اور اس کے بدلے غلہ تقسیم کیا گیا۔
اے عمر! تیری عظمت کا کیا کہنا، اللہ تجھ سے راضی ہو، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر چلا، خود معزز رہا اور اسلام و مسلمانوں کو معزز رکھا، اے اللہ! ہمیں اتباع کی توفیق دے اور ابتداع سے محفوظ رکھ۔
(إتمام الوفاء: 98)
معرکہ نہاوند کے بعد عمائدین و زعمائے فارس بھاگ بھاگ کر ہمدان، طبرستان اور اصفہان جانے لگے اور مسلمانوں سے صلح کی درخواست کی، مسلمانوں نے بھی یکے بعد دیگرے ان سے صلح کر لی۔
(إتمام الوفاء: صفحہ 99، 100، 101)