مشرق میں فتوحات کے دروازے کھل جانا
علی محمد الصلابیفتح نہاوند کے بعد ایرانیوں کی قوت جواب دے گئی اور مسلمان دربار خلافت سے اجازت پانے کے بعد بلاد عجم میں گھستے چلے گئے، نہاوند کے بعد اصفہان کا ایک شہر ’’جی‘‘ کافی مزاحمت اور شدید معرکہ آرائی کے بعد فتح ہوا۔ وہاں کے باشندوں نے آخر مسلمانوں سے صلح کر لی اور عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مصالحت کے بعد امان دے دی، ان میں سے تیس ہزار (30،000) ایرانی ’’کرمان‘‘ بھاگ گئے اور صلح کے لیے راضی نہ ہوئے۔ 21 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ’’قم‘‘ اور ’’قاشان‘‘ کو اور حضرت سہیل بن عدی رضی اللہ عنہ نے شہر ’’کرمان‘‘ کو فتح کیا۔