ہمدان پر دوسری فتح 22ھ میں
علی محمد الصلابییہ بات گزر چکی ہے کہ جب مسلمان فتح نہاوند سے فارغ ہوئے تھے تو حلوان اور ہمدان کو فتح کر لیا تھا، لیکن کچھ ہی دنوں بعد ہمدان والوں کی حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے جو مصالحت ہوئی تھی اسے انہوں نے توڑ دیا، حضرت نعیم بن مقرنؓ نے ہمدان والوں پر چڑھائی کرنے کے لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، سیدنا عمرؓ نے انہیں اجازت دے دی۔ حضرت نعیم رضی اللہ عنہ نے ’’ثنیۃ العسل‘‘ میں پڑاؤ ڈالا، پھر نشیبی علاقہ سے ہوتے ہوئے ہمدان والوں پر چڑھائی کی اور ان کو گھیرے میں لے کر محاصرہ کر لیا۔ ہمدان والوں نے دوبارہ مصالحت کی پیش کش کی اور امان مانگی۔ آپ نے مصالحت منظور کر لی اور شہر میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے۔
ابھی آپ اپنے ساتھ بارہ ہزار (12،000) مجاہدین کی فوج لے کر اندر گھس رہے تھے کہ دیلم نے اے اور آذربائیجان والوں سے خط و کتابت کر کے انہیں حضرت نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ کے خلاف بھاری فوج کے ساتھ حملہ کرنے پر ابھارا، نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے دیلم کی اس تحریک کی خبر پاتے ہی اپنے ساتھ فوج کو لیے ہوئے اپنی پیش قدمی جاری رکھی ’’واج الروذ‘‘ میں پہنچ کر دیلم اور ان کے اتحادیوں سے مقابلہ ہوا۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی، جنگ کی شدت جنگ نہاوند کے مساوی تھی۔ مسلمانوں نے کافروں کی لا تعداد لاشیں گرائیں، دیلم کا بادشاہ بھی قتل ہو گیا، ان کی جماعت تتر بتر ہوگئی اور بہت سی جانیں گنوانے کے بعد سب نے شکست کھائی۔ مسلمانوں میں سے حضرت نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے دیلم پر وار کیا تھا
(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: 160)
اور انہوں نے ہی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو دیلم کی اتحادی تحریک سے آگاہ کیا تھا۔ یہ خبر سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فکر مند رہنے لگے تھے لیکن فتح کا مژدہ سنانے والے نے یکایک سیدنا عمرؓ کی خاموشی توڑی، سیدنا عمرؓ نے پوچھا: کیا بشیر ہے؟ حضرت نعیم رضی اللہ عنہ کے قاصد نے کہا: نہیں بلکہ عروہ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ پوچھا: کیا بشیر ہے؟ اب کی بار قاصد نے سمجھ لیا اور کہا: جی ہاں، بشیر ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: نعیم اور سماک بن عبید کے قاصد؟ اس نے کہا: جی ہاں نعیم کا قاصد۔ سیدنا عمرؓ نے پوچھا: کیا خبر لائے ہو۔ اس نے کہا: فتح کی بشارت۔ پھر پوری تفصیل سیدنا عمرؓ کے سامنے رکھ دی۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور نعیم کے خط کو لوگوں کے سامنے پڑھنے کا حکم دیا۔ خط پڑھ کر سنایا گیا، لوگوں نے اللہ کی تعریف کی۔ پھر سماک بن مخرمہ، سماک بن عبید، اور سماک بن خرشہ خمس کا مال لے کر وفد کے ساتھ آ پہنچے، آپؓ نے ان سے ان کا نسب دریافت کیا، آپ کو سماک، سماک اور سماک کے ذریعہ سے نسب کے متعلق بتایا گیا، سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ اے اللہ! ان کے ذریعہ سے اسلام کو سر بلندی عطا کر اور اسلام کے ذریعہ سے ان کی تائید فرما۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 134)