فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعالِ اختیاریہ پر رافضی کا کلام اور اس پر ردّ

جب تکلیف مالایطاق کی تفسیر بایں طور کی جائے کہ وہ ایسا فعل ہے جس کو انجام دینے پر فاعل کو قدرت حاصل نہ ہو تو اس تفسیر کے مطابق امتناع کا دعویٰ مورد نزاع ہوگا اور اس کی نفی محتاج دلیل ہوگی۔

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’ اہل سنت کے نقطۂ نگاہ کے مطابق یہ لازم آتا ہے کہ ہمارے وہ افعال اختیاری جو قصد و ارادہ کے تحت ہم سے صادر ہوتے ہیں ، جیسے دائیں بائیں حرکت کرنا؛ ہاتھ سے پکڑنا اور پاؤں سے چلنا وغیرہ وغیرہ؛وہ ان اضطراری افعال کی مانند ہو کر رہ جائیں جو بلا ارادہ ظہور پذیر ہوتے ہیں ، مثلاً نبض کی حرکت یا کسی اونچی جگہ سے گرنے والا جو حرکت کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ افعال اختیاری و اضطراری کے مابین فرق و امتیاز ضروری ہے۔کیونکہ ہر عاقل اس بات کا حکم لگاتا ہے کہ ہم حرکت ِ اختیاریہ پر تو قادر ہیں لیکن آسمان میں اڑنے جیسی حرکت ِ غیر اختیاریہ پر قادر نہیں ۔ ابو الہذیل علاف کا قول ہے کہ: بشر کا گدھا بشر سے زیادہ عقل مند ہے۔ وہ یوں کہ اگر تو ایسے چھوٹی ندی عبور کرنے کو کہا تو وہ ندی میں داخل ہو کر اسے عبور کرلے گا۔ لیکن اگر تو اسے گہری ندی کے کنارے لائے تو وہ اس میں داخل نہ ہوگا۔ کیونکہ گدھا بھی یہ فرق جانتا ہے کہ میں کس ندی کو عبور کر سکتا ہوں اور کس کو نہیں ۔ لیکن بشر مقدور اور غیر مقدور میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]:ہم کہتے ہیں یہ اس شخص کے نزدیک لازم آتا ہے، جس کا قول ہے کہ بندے کو اپنے افعال اختیاری پر قدرت حاصل نہیں ۔یہ کسی معروف امام کا قول نہیں اور تقدیر کے قائلین اہل سنت میں سے کوئی بھی یہ عقیدہ نہیں رکھتا۔ البتہ جہم بن صفوان اور اس کے غالی ہم نوا کہتے ہیں کہ: بندہ ہر گز قدرت سے بہرہ ور نہیں [وہ بندے سے قدرت کو سلب شدہ مانتے ہیں ]۔ وہ کہتے ہیں : بندہ اسی طرح حرکت کرتا ہے، جیسے درخت ہلانے سے ہلنے لگے۔ اسلامی فرقوں میں سے امام اشعری رحمہ اللہ اور ان کے ہم نوا فقہاء امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کے اصحاب ہیں ؛کا نقطۂ نظر ان سے قریب تر ہے، تاہم وہ بندہ کے لیے قدرت محدثہ کا اثبات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فعل بندے کا کسب ہے، مگر اس کے پہلو بہ پہلو وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بندے کی قدرت کو ایجاد مقدور سے کوئی واسطہ نہیں ۔ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ بندے میں جس کسب کا اثبات کرتے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے۔

٭ اسی لیے کہنے والا یہ کہتا ہے: ’’وہ کسب جو اشعری ثابت کرتا ہے وہ غیر معقول ہے، اور جمہور اہلِ اثبات اس بات پر ہیں کہ بندہ اپنے فعل کا فاعلِ حقیقی ہے۔ اسے قدرت اور اختیار حاصل ہے، اور اس کی قدرت مقدور میں مؤثر ہے۔جیسا کہ قوی اور طبائع شروط و اسباب میں سے مؤثر ہوتے ہیں ۔اشعری کا قول جمہور اہلِ سنت پر لازم نہیں آتا۔ ہم بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اہل سنت سے بعض اوقات خطا سرزد ہوتی ہے مگر سب اہل سنت خطاکاری کے مرتکب نہیں ہوتے۔ بخلاف ازیں امامیہ خطا کے ارتکاب میں ایک دوسرے سے ہم نوا ہوتے ہیں اور اجماعی حیثیت سے اس کا ارتکاب کرتے ہیں ، یہ ایک مسلمہ حقیقت وصداقت ہے کہ جن جن مسائل میں امامیہ نے اہل سنت سے اختلاف کیا ہے، ان میں اہل سنت کا مسلک قرین ِ حق و صواب ہے،اور وہ مسائل جن میں اہلِ سنت اور امامیہ دونوں نے اختلاف کیا ہے۔ اس میں دونوں میں سے کسی کا بھی کوئی اختصاص نہیں ۔

خلاصہ کلام ! سلف و خلف کے جمہور اہلِ سنت کا مسئلہ زیرِ نظر میں زاویہ نگاہ یہ ہے کہ بندہ میں حقیقی قدرت پائی جاتی ہے، لہٰذا وہ فاعل حقیقی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے افعال کا خالق ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:

﴿ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ ﴾ ’’ وہ ہر چیز کا خالق ہے۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمِیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَکَ ﴾ (البقرۃ: ۱۲۸) 

’’اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا۔‘‘

نیز فرمایا:﴿ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ﴾ (ابرہیم:۳۰)

’’اے میرے رب مجھے نماز کا پابند بنا لے اور میری اولاد کو بھی۔‘‘

نیز ارشاد فرمایا:﴿وَ جَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا﴾ (السجدہ: ۲۳) 

’’اور ہم نے ان میں پیشوا بنائے، جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے، جب انھوں نے صبر کیا۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَ جَعَلْنٰہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْہِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَ اِیْتَآئَ الزَّکٰوۃِ وَ کَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَo﴾ (الانبیاء: ۷۳) 

’’اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اِِنَّ الْاِِنسَانَ خُلِقَ ہَلُوْعًاo اِِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًاo وَاِِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا﴾ (المعارج: ۱۹ ۔ ۲۱)

’’بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا

ہے۔ اور جب اسےبھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔‘‘

سو رب سبحانہ و تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہی مسلم کو مسلم، مقیم صلوٰۃ کو مقیم الصلوٰۃ اور امام ہادی کو امامِ ہادی بناتا ہے، اور حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

﴿وَّجَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّاo وَّبَرًّ ا بِوَالِدَتِیْ وَلَمْ یَجْعَلْنِِیْ جَبَّارًا شَقِیًّاo﴾ (مریم: ۳۱ ۔ ۳۲) 

’’اور مجھے بابرکت بنایا جہاں بھی میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی، جب تک میں زندہ رہوں ۔ اور اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے سرکش، بدبخت نہیں بنایا۔‘‘

صفحہ 1 از 6