فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

ان آیات میں رب تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے جنابِ عیسیٰ علیہ السلام کو والدہ کے حسنِ سلوک کرنے والا بنایا، اور شقی سرکش نہیں بنایا۔ یہ اس باب میں اہلِ سنت کا صریح قول ہے کہ رب تعالیٰ بندوں کے فعل کا خالق ہے، اور فرعون اور اس کی قوم کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿وَ جَعَلْنٰہُمْ اَئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ﴾ (القصص: ۳۱) 

’’اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَo وَمَا تَشَآؤُوْنَ اِِلَّا اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَo﴾

(التکویر: ۲۸ ۔ ۲۹) 

’’اس کے لیے جو تم میں سے چاہے کہ سیدھا چلے۔ اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے ، جو سب جہانوں کا رب ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اِِنَّ ہٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًاo وَمَا تَشَآؤُوْنَ اِِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ اِِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًاo﴾ (الانسان: ۲۹ ۔ ۳۰) 

’’یقیناً یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف (جانے والا) راستہ اختیار کرلے۔ اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقیناً اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿کَلَّآ اِِنَّہٗ تَذْکِرَۃٌo فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہٗo﴾ (المدثر: ۵۳ ۔ ۵۵) 

’’ہرگز نہیں ! یقیناً یہ ایک یاد دہانی ہے۔ تو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔‘‘

اس آیت سے بندے کی مشیت ثابت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ہر

کام اللہ کی مشیتکے تابع ہے۔ اور یہی واضح طور پر اہلِ سنت کا عقیدہ ہے۔

قرآن کریم کے متعدد مقامات میں بتایا گیا ہے کہ بندے مختلف کام انجام دیتے، ایمان لاتے، کفر کرتے، سچ بولتے اور دروغ گوئی کے مرتکب ہوتے ہیں ، نیز یہ کہ وہ قوت و استطاعت سے بہرہ ور ہیں ۔

جمہور آئمہ اہلِ سنت کا قول ہے کہ اللہ ان سب کا خالق ہے، اور ان کے نزدیک خلق یہ مخلوق نہیں ہے۔ لہٰذا وہ اس بات میں کہ بندوں کے افعال رب کی مخلوق اور مفعول ہیں ، اور اس بات میں فرق کرتے ہیں کہ: بندے کا وہ نفسِ فعل جو وہ کرتا ہے اور وہ فعل کا مصدر ہے جو فعل بجا لاتا ہے کہ وہ مصدر کے معنی میں بندے کا فعل ہے۔ ناکہ اس اعتبار سے رب کا فعل ہے۔ بلکہ وہ رب کے حق میں مفعول ہے، اور رب تعالیٰ کو اس کے مفعولات کے ساتھ متصف نہیں کیا جاتا۔

شیعہ مصنف نے جن اعتراضات کا ذکر کیا ہے، یہ اس شخص پر وارد ہوتے ہیں ، جو رب کے فعل اور مفعول کے مابین فرق و امتیاز نہیں کرتا ؛یا افعال العباد کو افعال الٰہی قرار دیتا ہے، جیسا کہ جہم بن صفوان اور اس کے ہم نواؤں کاعقیدہ ہے؛ اور اشعری اور اس پیروکار آئمہ کہتے ہیں ۔ اسی لیے یہ مقام اس بحث کے لیے نا کافی اور تنگ دامن ہے۔ اس کی تفصیل دوسرے موقع پر ہو چکی ہے۔

اسی طرح یہ قباحت و شناعت اسے بھی لازم آتی ہے جو کہتا ہے کہ مخلوقات میں قوی و طبائع سرے سے موجود ہی نہیں ، اور کہتا ہے کہ اللہ ان کے ہوتے ہوئے فعل کرتا ہے ناکہ ان کے ذریعے۔ اس شخص کو یہ لازم آتا ہے کہ قادر اور عاجز میں کوئی فرق نہ ہو چاہے وہ قدرت کو ثابت بھی کرتا ہو، اور کہے کہ قدرت کسب سے ملی ہوئی ہے۔ اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ تو جس کسب کو ثابت کیا اور جس فعل کی نفی کی ہے، ان دونوں میں کوئی اور قادر اور عاجز میں کوئی معقول فرق ثابت نہیں کیا۔ جب کہ افتران محض کو قدرت کے ساتھ اختصاص حصال نہ ہو۔ کیونکہ بندے کا فعل اس کی حیات، علم اور ارادۂ وغیرہ کے ساتھ ملا ہوتا ہے۔ تو جب قدرت کو صرف افتران کی تاثیر ہی حاصل ہوگی تو پھر قدرت اور غیر قدرت میں کوئی فرق نہ رہا۔

اسی طرح جو یہ کہتا ہے کہ قدرت صفتِ فعل میں موثر ہے ناکہ اصلِ فعل میں ۔ جیسا کہ قاضی ابو بکر اور ان کے ہم نواؤں کا قول ہے۔ کیونکہ اگر وہ رب تعالیٰ کے پیدا کرنے کے بغیر تاثیر کو ثابت کرتا ہے تو اسے لازم آئے گا کہ بعض حوادث کا خالق رب تعالیٰ نہیں ۔ چاہے اس نے ان حوادث کو رب تعالیٰ کی تخلیق پر معلق بھی کیا ہو۔ تب بھی اصل اور صفت میں کوئی فرق نہ ہوگا۔

عقیدہ اہل سنت اور مسئلہ متنازعہ پر قرآنی آیات سے استشہاد

رہے جمہور آئمہ اہلِ سنت تو ان کا وہ قول ہے جس پر عقل و شرع دونوں سے ان کی شہادت ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ سُقْنَاہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِہٖ الْمَآئَ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ﴾ (الاعراف: ۵۷)’’ہم اسے مردہ شہر کی طرف ہانک لے جاتے ہیں اوراس کے ساتھ بارش اتارتے اور بارش سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا﴾ (البقرۃ: ۱۶۳) 

’’اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یَّہْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾ (المائدۃ: ۱۶) 

’’جس کے ساتھ اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں ،راہ سلامتی کی ہدایت دیتا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّ یَہْدیْ بِہٖ کَثِیْرًا﴾ (البقرۃ: ۲۶) 

’’اس (قرآن) کے ساتھ بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا اور بہت سے لوگوں کو ہدایت عطا کرتا ہے۔‘‘

کتاب و سنت میں اس کی متعدد مثالیں ہیں جن میں رب تعالیٰ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ وہ حوادث کو اسباب کے ذریعے پیدا کرتا ہے، اور کتاب و سنت ان قوی اور طبائع کے اثبات پر بھی دلالت کرتے ہیں جن کو رب تعالیٰ نے حیوان وغیرہ میں پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن: ۱۶) 

’’سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَہُمْ ہُوَ اَشَدُّ مِنْہُمْ قُوَّۃً﴾ (فصلت: ۱۵) 

’’اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ بے شک وہ اللہ جس نے انھیں پیدا کیا، قوت میں ان سے کہیں زیادہ سخت ہے۔‘‘

اور فرمایا:

صفحہ 2 از 6