فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

﴿اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّن ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّ شَیْبَۃً یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ﴾ (الروم: ۵۳) 

’’اللہ وہ ہے جس نے تمھیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنا دیا، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔‘‘

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اشج بن عبدالقیس رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا تھا:’’تم میں دو عادتیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں : بردباری اور متانت۔‘‘ انہوں نے عرض کی: کیا میں نے دو خصلتوں کو اپنے اندر پیدا کیا ہے، یا میں ان دونوں خصلتوں پر پیدا کیا گیا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں بلکہ تم ان دونوں خصلتوں پر پیدا کیے گئے ہو۔‘‘ اس پر انہوں نے عرض کیا: سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے دو ایسی خصلتوں پر پیدا کیا ہے جو اسے محبوب ہیں ۔‘‘ [صحیح مسلم ۔ کتاب الایمان باب الامر بالایمان باللّٰہ تعالیٰ و رسولہ (حدیث: ۲۵؍۱۷،۱۸)۔]

یہ حضرات بندے کے لیے قدرت کو ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں : قدرت کی مقدور میں تاثیر ایسے ہی ہے جیسے جملہ اسباب کی مسببات میں تاثیر ہے، اور سبب مسبب میں مستقل نہیں پایا جاتا۔ بلکہ وہ اپنے معاون کا محتاج ہوتا ہے۔ اس طرح بندے کی قدرت ہے کہ وہ مقدور میں مستقل نہیں ، اور یہ کہ اس کا سبب اسے روکتا اور اس کی راہ میں رکاوٹ بھی بنتا ہے۔ اسی طرح بندے کی قدرت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا سبب کا خالق ہے، اور اس کا بھی جو سبب میں معاون ہو یا اس میں روکاوٹ ہو۔ اسی طرح بندے کی قدرت ہے۔

اسی طرح اس امامی نے جو ہمارے مقاصد و دواعی کے اعتبار سے واقع ہونے والے افعالِ اختیاریہ میں اور افعالِ اضطراریہ میں ، جیسے نبض کی حرکت وغیرہ۔ جو ضروری فرق بیان کیا ہے، وہ برحق ہے اور اہلِ سنت والجماعت اور ان کے پیروکاروں کا قول ہے، اور اس میں امتِ مسلمہ کے کسی ایک فرد نے بھی، جسے امت میں لسانِ صدق حاصل ہے۔ جیسے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ وغیرہ، اختلاف نہیں کیا، اور مالک، ابو حنیفہ، ثوری، اوزاعی، لبث، شافعی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ جیسے مجتہدین اور خلفاء نے اختلاف کیا ہے۔

تو جب مثبتین قدر میں ایسے لوگ ہیں جنہیں بطلانِ فرق لازم آتاہے تو ان کا قول باطل ہوگا۔ لیکن بہرحال منکرین تقدیر کایہ قول اس سے بھی زیادہ باطل ہے۔ سو اس قدری نے ایک باطل کا رد اس سے بھی زیادہ بڑے باطل کے ساتھ کیا ہے، اور اہل سنت ان دونوں امور میں اس کے موافق نہیں ۔یقیناً وہ صرف حق کہتے اور جانتے ہیں ۔ اس قدری امامی کا قول زیادہ باطل ہے۔

مندرجہ بالا بیان اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ بندوں کے افعال حادث ہیں ؛ اور معدوم ہونے کے بعد عالم وجود میں آئے ہیں ، لہٰذا ان کا حکم بھی وہی ہے جو باقی حوادث کاہے اور یہ بھی دیگر ممکنات کے زمرہ میں داخل ہیں ۔ بنا بریں جس دلیل سے بھی حوادث و ممکنات کے مخلوق ہونے پر استدلال کیا جائے گا اس سے یہ بھی عیاں ہوگا کہ افعال العباد اللہ کے پیدا کردہ ہیں ۔

یہ حقیقت محتاج بیان نہیں کہ ہر محدث (حادث شدہ چیز) اپنے وجود میں محدث (وجود میں لانے والے) کی محتاج ہے۔ یہ مقدمہ جمہور کے نزدیک ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ بعینہ اسی طرح ہر ممکن مرجّح تام کا محتاج ہے، جب بندے کے افعال حادث ہیں تو ان کے لیے ایک محدث کا وجود ناگزیر ہے، جب بندے کو اپنے افعال کا موجد قرار دیا جائے تو یہ تسلیمکرنا پڑے گا کہ بندہ آغاز کار میں موجد نہ تھا، یہ منصب اسے بعد میں ملا ہے۔ لہٰذا یہ ایک امر حادث ہے اور اسے بھی کسی محدث کی ضرورت ہوگی، اس لیے کہ اگر بندہ شروع ہی سے محدث ہوتا تو یہ فعل حادث بھی دائمی ہوتا[ اس سے فعل حادث کا دوام لازم آئے گا]۔اور جب بندے کا محدث ہونا حادث ہے تو اس کے لیے کسی اور محدث کی ضرورت ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ بندے کا ارادہ محدث ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: بنا بریں ارادہ حادث ہے اور اس کے لیے کسی اور محدث کا وجود ناگزیر ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ یہ ارادہ بندے کے ارادہ سے عالم وجود میں آیا تو کہا جائے گا کہ اس ارادہ کیلئے بھی محدث کی ضرورت ہے۔

خلاصہ کلام! بندے میں جس کو آپ محدث فرض کریں گے؛ تو اس کے ساتھ اسی قسم کی گفتگو کی جاسکتی ہے، جیسے حادث اول میں بیان ہوئی۔ اگر بندہ کے افعال کو قدیم اور ازلی قرار دو گے تو یہ محال ہے۔ اس لیے کہ جو فعل بندہ سے وابستہ ہو وہ قدیم نہیں ہو سکتا، اور اگر کہو کہ فعل بندے کا وصف ہے اور اس کی قدرت اس میں پیدا کی گئی ہے اور اس میں اسی طرح گفتگو کا امکان ہے جس طرح ارادہ میں تو اس صورت میں بھی مرجّح تام کا وجود ضروری ہے۔ لیکن تمہاری یہ دلیل بھی تمہارے کام نہ آئے گی۔ جس کی یہ وجوہات ہیں :

اوّل یہ کہ کہا جائے کہ جب اس میں پیدا کی گئی یہ قدرت اس میں فعل کے حدوث سے پہلے اور حدوث کے وقت پیدا کی گئی ہے تو ایک اور سببِ حادث کا ہونا لازم ہے جو اسے منضم ہو۔ وگرنہ دو مثلین میں سے ایک کا دوسرے پر بلا مرجع کے راجح ہونا لازم آئے گا۔ اسی طرح حوادث کا بلا سبب حادث کے حلاوث لازم آئے گا۔ وگرنہ اگر بندے کا حال فعل سے قبل اور فعل کے وقت یکساں ہو تو ایک حال کی دوسرے حال پر کوئی برتری اور فوقیت نہ ہوگی، اور اس حال کی کہ بندہ اس میں فاعل ہے، دوسرے حال کی بہ نسبت کوئی تخصیص باقی نہ رہے گی، اور اس میں دو متماثلین میں سے ایک کی دوسری پر بلا مرجیح لازم آئے گی۔

اسی طرح جب یہ کہا جائے کہ بندے کے فعل کا ہونا اور نہ ہونا دونوں ممکن ہیں ، اور اس کا وجود عدم پر کسی مرجح تام کے ساتھ راجح ہوگا۔

پھر یہ مرجح تام اگر تو بندے سے ہے تو اسی میں وہی قول ہے جو فعل میں ہے۔ تب پھر لازم ہوا کہ یہ مرجح تام اللہ کی طرف سے ہو، اور یہ کہ اس کا وجود فعل کے وجود کو مستلزم ہو۔ وگرنہ وہ مرجح تام نہ ہوگا۔

صفحہ 3 از 6