فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

اسی لیے قدر کے مثبتین جمہور اہلِ سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ رب تعالیٰ نے نعمتوں کے ساتھ اہلِ ایمان کو خاص کیا ہے۔ ناکہ کافروں کو۔ وہ یوں کے اس نے اہلِ ایمان کو ہدایت سے نوازا ہے۔ اگر اللہ کی مومنوں پر نعمت کافروں پر نعمت کے جیسے ہوتی تو مومن مومن نہ ہوتا۔ جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے:

﴿وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِِلَیْکُمُ الْاِِیْمَانَ وَلَکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِِلَیْکُمُ الْاِِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ الرَّاشِدُوْنَo﴾ (الحجرات: ۷) ’’اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ ہدایت والے ہیں ۔‘‘

اور فرمایا:

﴿یَمُنُّونَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَیَّ اِِسْلَامَکُمْ بَلْ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدَاکُمْ لِلْاِِیْمَانِ اِِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَo﴾ (الحجرات: ۱۷) 

’’وہ تجھ پر احسان رکھتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے، کہہ دے مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کے لیے ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔‘‘

اور فرمایا:

﴿فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہِ وَ اللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍo﴾ (البقرۃ: ۲۱۳) 

’’پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے انھیں اپنے حکم سے حق میں سے اس بات کی ہدایت دی جس میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اُوْلٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِِیْمَانَ وَاَیَّدَہُمْ بِرُوحٍ مِّنْہُ﴾ (المجادلہ: ۲۲) 

’’یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انھیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِ﴾ (الانعام: ۱۲۵) 

’’تو جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے۔‘‘

ان قدریہ نے نعمتِ دینیہ کو مومن و کافر دونوں پر یکساں قرار دیا ہے، اور کہتے ہیں کہ اللہ نے بندے کو ایسی قدرت دی ہے جو کفر و ایمان دونوں کے مناسب ہے۔ پھر اس سے دونوں میں سے ایک کا صدور ایسے کسی سببِ حادث کے بغیر ہوتا ہے جو ترجیح کے مناسب ہو، اور ان کا یہ گمان ہے کہ قادرِ مختار اپنے مقدور کی دو طرفوں میں سے ایک کو دوسرے پر بلا مرجح کے ترجیح دیتا ہے۔ ان لوگوں نے اس بات کا دعویٰ بندے اور رب دونوں کی قدرت میں کیا ہے۔

رب کی قدرت کے باب میں اس بات پر بے شمار مثبتین تقدیر نے ان کی موافقت کی ہے۔ اور رازی اور ان جیسےعلماء جنہوں نے اس بات سے قدریہ کے خلاف حجت پکڑی ہے، اس باب میں تناقض کا شکار ہوئے ہیں ۔ لہٰذا جب ان علماء نے خلقِ افعال کے مسئلہ میں قدریہ سے مناظرہ کیا ہے تو ان کے خلاف اسے دلیل بنایا ہے، اور کہا ہے کہ ممکن کے وجود کی اس کے عدم پر ترجیح مرجح تام سے ہی ہوگی۔ چاہے اس کا صدور قادر مختار ہو یا غیر قادر سے ہو۔ ان لوگوں نے حدوث عالم کے مسئلہ میں تکلم کیا ہے۔ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ حادث کے لیے سببِ حادث کا ہونا لازم ہے تو یہ لوگ قدریہ جیسا جواب دیتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ قادرِ مختار اپنے مقدور کی دو طرفوں میں سے ایک کو بلا مرجح کے ترجیح دیتا ہے۔ ان لوگوں نے قادر اور غیر قادر میں فرق کیا ہے۔ جیسا کہ قدریہ کا قول ہے۔ اور کبھی یہ بندے اور رب کے فعل میں یہ کہہ کر فرق کرتے ہیں کہ رب تعالیٰ اپنی اس مشیئتِ قدیمہ کے ذریعہ ترجیح دیتا ہے جو اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے۔ بخلاف عبد کے کہ اس کا ارادہ غیر سے حادث ہوتا ہے۔

لیکن اکثر لوگوں کا قول ہے کہ جو لوگ ازلی اور قدیم ارادہ کو تجدد شئے بغیر مرجح کے قرار دیتے ہیں ، اِن کا قول اُن کے قول کی جنس سے ہے۔ کیونکہ ارادہ کی جملہ وقتی مقدرات کی طرف نسبت ایک ہی ہے، اور جملہ ممکنات کی طرف نسبت بھی ایک ہی ہے، لہٰذا دو متماثلین میں سے ایک کی دوسرے پر ترجیح بلا مرجح ٹھہری۔ لہٰذا جب فاعل کی فعل سے قبل اور فعل کے وقت کی حالت یکساں ہوئی، پھر فعل کی وجہ سے دو میں سے ایک حال کے ساتھ اختصاص کو قرض کیا تو اس سے ترجیح بلا مرجح لازم آئی۔ ان فرقوں کا منتہائے نظر یہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ان کے کلام کو نہیں جانتے۔ جیسے رازی وغیرہ اور وہ دہریوں کی علت، قدریوں کے قادر اور کلابیوں کے مرید کے درمیان متردد ہیں ۔ وہ رب تعالیٰ کو اپنی مشیئت و قدرت کے ساتھ ازل میں فعل اور کلام پر قادر نہیں مانتے۔ پھر ان دہریہ فلسفیوں نے جیسے ابنِ سینا وغیرہ، اس دلیل کو عالم کے حدوث کے ممتنع ہونے پر اور اس کے قدیم ہونے کے واجب ہونے کو، اپنی سب سے عمدہ دلیل قرار دیا ہے۔ لیکن ان کی مذہب کی یہاں کوئی دلیل نہیں ۔ کیونکہ اس دلیل کی غایت یہ ہے کہ یہ رب تعالیٰ کی فاعلیت کے دوام کو مستلزم ہے، اور یہ فلک وغیرہ اعیانِ عالم کے قدم پر کوئی دلالت نہیں کرتی۔

لیکن ان لوگوں کا قول ہے کہ یہ دلیل تسلسل کو لازم ہے، اور تسلسل محال ہے۔ اب تسلسل سے ان کی مراد تمام تاثیر میں تسلسل ہے، جیسا کہ پہلے گزرچکا۔ رہا آثار میں تسلسل تو اس کے وہ بھی قائل ہیں ۔

ہم بیان کر چکے ہیں کہ ممتنع تسلسل وہ ہے جو دورِ ممتنع کی جنس میں سے ہو۔ کیونکہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ بندہ یہ فعلِ حادث تب کرے گا جب تک کہ وہ اس فعل کو حادث نہ کرے گا کہ جس سے وہ اس کا فاعل ہو جائے۔ لہٰذا وہ اس کے حادث ہونے کے ساتھ حادث ہوگا۔ اسی طرح دوسرا ہے، اور یہ تمام تاثیر میں تسلسل ہوگا۔

صفحہ 4 از 6