فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

جب یہ کہا جائے کہ بندہ ایک شے کو اس وقت حادث نہ کرے گاحتی کہ دوسری شے کو حادث کرلے ؛ تو یہ دورِ ممتنع ہوگا، اور یہی تسلسل ہے۔ جبکہ حوادث میں کلام مطلق ہو، اور حادث معین ہو تو یہ دورکی بات ہے۔جہمیہ اور قدریہ پر یہ متکلمین کی حجتِ الزامیہ ہے۔ جبکہ اشعریہ، کرامیہ، اور معتزلہ اور ان کے موافق فقہاء وغیرہ کی بھی یہی دلیل ہے، اور اس کا دوام ان کے نزدیک ہے۔ جس نے اُسے یعنی رب تعالیٰ کو یہ ٹھہرایا ہے کہ اسے اپنی قدرت اور مشیئت کے ساتھ تکلم اور فعل ممکن نہ تھا، پھر اس لیے ممکن ہو گیا تو یہ ترجیح بلا مرجع کو اور اس تسلسل اور دور کو مستلزم ہے جس کے امتناع پر اتفاق ہے، اور ممتنع تسلسل موثرات اور تمام تاثیر میں ہے۔ البتہ رہا آثار میں تسلسل تو یہی موردِ نزاع ہے۔

یہ لوگ ان دو قسموں کو باطل قرار دیتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ جو چیز غیر متناہی ہو اس میں تفاوت ممتنع ہے، اور جمہور فلاسفہ، آئمہ اہلِ ملل کے ساتھ ہیں ؛ وہ دوسری قسم کا انکار نہیں کرتے۔

اس صورت میں ان فلسفیوں کو یہ کہا جائے گا کہ اگر تو آثار میں تسلسل ممتنع ہے تو تمہار اقول باطل ٹھہرا، اور قول کے باطل ہونے کے ساتھ ہی تمہاری دلیل بھی باطل ٹھہری۔ کیونکہ قول باطل پر حجت صحیحہ قائم نہیں کی جا سکتی۔

اگر تسلسل فی الآثار ممکن ہے تو تمہاری دلیل باطل ٹھہری۔ کیونکہ ممکن ہے کہ اس کے کلمات غیر متناہی ہوں ، اور یہ کہ وہ ازل سے اپنی مشیئت کے ساتھ متکلم بھی ہے اور فعال بھی ہے، اور وہ ایک کے بعد ایک فعل کرتا ہے جس میں افعال اور مفعولات میں سے کوئی معین شے قدیم نہیں ہوتی۔ تب پھر دلیل دونوں صورتوں میں باطل ٹھہری۔ کیونکہ جب تسلسلِ آثار ممکن ہوا تو افلاک کا حدوث اسے قبل کے اسبابِ حادثہ کی وجہ سے ممکن ہوا۔

جملہ انبیاء کرام علیہم السلام اس بات کی خبر دی ہے کہ رب تعالیٰ ہے زمینوں اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ جبکہ اس کا عرش ان کے پیدا کیے جانے سے قبل پانی پر تھا۔ یہ بات ضرورت اور جملہ رسولوں کے دین میں نقل متوار سے منقول ہوتی چلی آ رہی ہے۔ جبکہ تمہاری کوئی دلیل ان کے قدم کو لازم قرار نہیں دیتی۔ لہٰذا تمام افلاک کے قدم کا قول کرنا۔ اس میں کوئی حجتِ عقلیہ نہیں ، اور یہ بلا سبب پیغمبروں کی تکذیب ہے۔

پھر عقلِ صریح بھی تمہارا قول باطل قرار دیتی ہے۔ کیونکہ افلاک وغیرہ عالم مستلزم حوادث ہیں ۔ اگر یہ قدیم ہوتے تو لازم آتا ہے کہ یہ حوادث اپنے ایسے موجب سے صادر ہوئے ہیں جو قدیم ہے۔ تب پھر موجب اپنے ایسے موجب و مقتضی کو مستلزم ہوتا جو اس سے متاخر نہیں ہے۔ کیونکہ اگر اس کے موجب کا اس سے تاخر جائز ہوتا تو یہ علتِ تامہ نہ ہوتا۔ کیونکہ علتِ تامہ معلول کو مستلزم ہوتی ہے۔ تو جب یہ علتِ تامہ ہی نہ ٹھہری تو اس کے موجب کا اس کے ساتھ اقتران ممتنع ٹھہرا۔ کیونکہ بدون علتِ تامہ کے معلول کا قدم ممتنع ہے۔

پھر یہ کہ اگر اس کے موجب کا تاخر جائز ہوتا۔ جبکہ ازل میں اس کے ساتھ اس کا اقتران بھی جائز ہو تو اس کی دو میں سے ایک کے ساتھ تخصیص ایسے مرجح کی محتاج ہوتی جو موجب بالذات نہ ہوتی، اور یہاں اس کے سوا او رکوئی مرجح ہے نہیں ۔ سو افلاک وغیرہ کا وجود ممتنع ٹھہرا، اور یہ باطل ہے کیونکہ افلاک موجود بھی ہیں اور عیاناً مشہود بھی ہیں ، او ریہ انہیں بھی تسلیم ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ افلاک علتِ قدیمہ کے ساتھ معلول ہیں ، اور وہ موجب بالذات ہے اور اس کا موجب اس سے متاخر نہیں ہوتا۔جب یہ عقلِ صریح کے ذریعے معلوم ہے اور وہ اس کے موافق بھی ہیں ، بلکہ یہ ان کے قول کی اصل ہے۔ انہیں یہ کہا جائے گا کہ جو حوادث کو مستلزم ہو اس کا موجب بالذات سے صدور ممتنع ہے۔ کیونکہ حوادث رفتہ رفتہ وجود میں آتے ہیں ، اور جو رفتہ رفتہ وجود میں آتا ہو۔ اس کے اجزاء ازلیہ اور قدیمہ نہیں ہوتے، اور نہ موجب بالذات سے ان کا صدور ہوتا ہے۔ لہٰذا حواد کا موجب بالذات سے صدور ممتنع ٹھہرا، اور عالم کی کسی شے کا صدور حوادثِ لازمہ کے بغیر ممتنع ممتنع ہوا۔ کیونکہ لازم کے بغیر ملزوم کا وجود ممتنع ہے۔ لہٰذا ظاہر ہوا کہ فلک کا ازلی و قدیم ہونا ممتنع ہے، اور یہ کہنا ممکن نہیں کہ ازل میں یہ حوادث سے خالی تھا، حوادث اس میں بعد میں پید اہوئے ہیں ۔ کیونکہ تب یہ کہا جائے گا کہ ان حوادث کا سبب ہونا بھی لازم ہے۔ لہٰذا ان میں بھی وہی قول ہے جو جو دوسرے حوادث میں ہے۔ پس اگر تو یہ جائز ہے کہ وہ سببِ حادث کے بغیر ہیں تو یہ فلک میں ممکن ہوا، اور ان کی حجت باطل ٹھہری، اور اس سے دو متماثلین میں سے ایک کو دوسرے پر بلا مرجح کے ترجیں دینا لازم آیا، اور اگر حوادث کے لیے سبب لازم ہے تو حوادث کا تسلسل و دوام لازم آیا، اور یہ کہ فلک اور رب تعالیٰ کے سوا جملہ اشیاء ہمیشہ سے حوادث کے مقارن رہی ہیں ، اور ہر ممکن جو حوادث کے مقارن ہو اس کا موجب بالذات سے صدور ممکن نہیں ۔ لہٰذا خود اس حادث کا بھی قدیم ہونا ممتنع ٹھہرا۔

حوادث کو مستلزم کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، اور یہ وہ ہے جو حوادث سے خالی نہ رہتا ہو، اور جسے اقترانِ حوادث لازم ہو۔ کیا اس کا حادث ہونا واجب ہے یا اس کے حدوث غیر واجب اور اس کا قدم جائز ہے۔ چاہے وہ واجب ما سوا سے غنی ہو، یا ممکن ہو، یا واجب بنفسہ اور ماسوا سے غنی کے درمیان اور ممکن، اور محتاج الی الغیر میں فرق کیا جائے گا۔ اس بارے تین اقوال ہیں :

۱۔ پہلا قول: یہ اُن اہلِ نظر و کلام کا قول ہے، جو فاعلیت ِ رب کے دوام کے امتناع کے، اور ازل میں رب تعالیٰ کے اپنی مشیئت و قدرت کے ساتھ فعل و تکلم کے امتناع کے قائل ہیں اور یہ کہ یہ ممکن نہیں ۔ ان لوگوں کے مستقبل میں رب تعالیٰ کی فاعلیت کے امکان کی بابت دو اقوال ہیں ۔

۲۔ دوسرا قول: یہ ان فلاسفہ کا قول ہے جو ما سوی اللہ کے قدم کے قائل ہیں ۔ جیسے افلاک یا عقول یا دوسری اشیاء وغیرہ۔ یہ رب تعالیٰ کو موجب بالذات قرار دیتے ہیں ۔ جیسے عالم کی کسی شے کی تغییر یا اس کا اِحداث ممکن نہیں ۔ بلکہ ان کے قول کی حقیقت یہ ہے کہ حوادث اس سے صادر ہی نہیں ہوئے۔ بلکہ ان کا حدوث و صدور کسی محدث کے بغیر ہے۔

صفحہ 5 از 6