Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح رے 22ھ

  علی محمد الصلابی

حضرت نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے ہمدان پر یزید بن قیس ہمدانی کو اپنا نائب بنایا اور خود لشکر لے کر رَے (قزوین سے 27 فرسخ کی دوری پر ایک مشہور شہر ہے) جا پہنچے، وہاں مشرکین کی ایک بھاری فوج سے مڈبھیڑ ہوئی اور رے کے دامن کوہ میں جنگ لڑی گئی۔ مسلمانوں نے صبر وہمت کا ثبوت دیا، بالآخر مشرکوں کی فوج شکست سے دوچار ہوئی۔ حضرت نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ خاص طور پر بڑی بے جگری سے لڑے اور بہت زیادہ لوگوں کو تہ تیغ کیا۔ فتح میں اتنا مال غنیمت ہاتھ آیا جتنا کہ انہوں نے مدائن میں حاصل کیا تھا۔ ابو الفرخان، جو زینبی کے لقب سے مشہور تھا، اس نے صلح کی درخواست کی اور اسے امان دے دی گئی، اس کے بعد حضرت نعیم رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس مال غنیمت کا خمس بھیجا اور فتح کی بشارت دی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 136، 137)