Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات

  امام ابنِ تیمیہؒ

فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات

اہلِ سنت کے قدر کے بارے میں مقالہ پر رافضی کا کلام کہ نیکی کرنے اور برائی کرنے کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ کیونکہ دونوں کا صدور اللہ سے ہوتا ہے، اور رافضی کے اس قول کا رد

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’اہل سنت کے نقطۂ نظر کو ماننے سے یہ لازم آتا ہے کہ جو آدمی ساری عمر اعمال صالحہ انجام دینے میں کھپا دے اور جو عمر بھر افعال قبیحہ کا ارتکاب کرتا رہے دونوں مساوی ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا، نہ ہم اول کی مدح کر سکتے ہیں اور نہ ثانی کی قدح؛ اس لئے کہ ایک کی نیکی اور دوسرے کی برائی دونوں کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: یہ دونوں قول باطل اور بے بنیاد ہیں ؛ اس لیے کہ نیکی و بدی کے مشترکہ طور پر اللہ کے پیدا کردہ ہونے سے ہر گز یہ لازم نہیں آتا کہ دونوں افعال جملہ احکام میں بھی مشترک ہوں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ کے سوا ہر چیز اسی کی پیدا کردہ ہے اور اس کی مخلوق ہونے میں سب مشترک ہیں ۔ یہ بات عقلِ صریح سے معلوم ہے کہ امور مختلفہ متعدد امور میں مشترک ہوتے ہیں بالخصوص اس مقام میں کہ جمیع ماسوی اللہ مخلوقِ خدا ہونے میں مشترک ہیں ، اوریہ کہ ان سب کا مالک و رب اللہ ہے پھر یہ بھی معلوم ہے کہ مخلوقات میں بے شمار افتراق بھی ہے جسے اللہ ہی شمار کر سکتا ہے۔ اللہ نے تاریکیوں اور نور کو پیدا کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

﴿وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَ الْبَصِیْرُo وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النور﴾ (فاطر: ۱۹ ۔ ۲۰) 

’’اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ۔ اور نہ اندھیرے اور نہ روشنی۔‘‘

اللہ جنت دوزخ کا خالق ہے۔ لیکن دونوں برابر نہیں ۔ وہ دھوپ سائے کا خالق ہے لیکن دونوں ایک نہیں ۔ وہ اندھے اور بینا کا خالق ہے لیکن دونوں یکساں نہیں ۔ وہ زندہ و مردہ، قادر و عاجز اور عالم و جاہل کا خالق ہے لیکن دونوں ایک سے نہیں ۔ وہ نافع و ضار، اور لذت والم کا خالق ہے لیکن دونوں جدا جدا ہیں ۔ تو جب اللہ اچھے برے ذائقوں کا خالق ہے۔ پھر اچھا ذائقہ پسند بھی ہوتا ہے اور مرغوب بھی۔ اس کی تعریف بھی ہوتی ہے اور اس کو چاہا بھی جاتا ہے اور برا ذائقہقابلِ مذمت، مبغوض اور لائقِ اجتناب ہوتا ہے۔ حالانکہ دونوں کا خالق اللہ ہے۔ اور وہ اللہ فرشتوں اور نبیوں کا بھی خالق ہے اور شیطانوں ، بچھوؤں ، سانپوں وغیرہ کا بھی خالق ہے۔ انبیاء وغیرہ محمود اور معظم ہیں ۔ جبکہ شیاطین اور سانپ وغیرہ فاسق اور حل و حرم میں ہرجگہ پر لائق گردن زدنی ہیں ۔ انبیائے کرام علیہم السلام وغیرہ میں رب تعالیٰ نے طبیعتِ کریمہ پیدا کی ہے جو خیر و احسان کا تقاضاکرتی ہے اور شیاطین وغیرہ میں طبیعتِ خبیثہ پیدا کی ہے جو شرو عداوت کو لاتی ہے، اور پھر ان میں محبت و بغض اور مدح و ذم کا بھی فرق ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت و جہنم، عالم و جاہل، شہد و زہر، راحت و رنج اور آدم و ابلیس سب کو پیدا کیا ہے۔ جب شرع و عقل دونوں اس امر میں ایک دوسرے کے ہم نوا ہیں کہ جس چیز میں منفعت و مصلحت پائی جاتی ہو، وہ واجب المدح ہے اگرچہ جمادات ہی سے کیوں نہ ہو؛ تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں سے انتہائی احسان کرنے والا بنایا ہو وہ کیونکر مدح کیے جانے کا زیادہ مستحق نہ ہوگا، برائی کے بارے میں بھی یونہی کہا جا سکتا ہے۔

بخلاف ازیں منکرین تقدیر کہتے ہیں کہ: احسان کی بنا پر کوئی شخص قابل مدح ہو سکتا ہے اور نہ ایذار سانی کے باعث قابل قدح؛ وہ مدح و ستائش کا مستحق اسی صورت میں ہوسکتا ہے، جب اللہ نے اسے محسن نہ بنایا ہو۔ اس نے نیک کام کر کے ہم پر احسان نہیں کیا اور نہ ہی اس کی برائی کے ذریعہ ہمیں آزمائش میں ڈالاہو۔ اس رافضی منکر تقدیر کے قول کی حقیقت یہ ہے کہ جہاں بندے کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں اللہ کا شکر ادا نہیں کیا جا سکتا اور جہاں شکر الٰہی مطلوب ہوتا ہے وہاں بندے کا شکریہ ادا کرنا بے سود ہے۔ عقل و شرع دونوں کے نزدیک اس قول کا فساد معلوم ہے۔ کہ اس قول کی حقیقت صرف اتنی ہی ہے کہ بندہ تو مشکور ٹھہرے پر رب تعالیٰ مشکور نہ ٹھہرے، اور جہاں اللہ مشکور ہو وہاں بندہ مشکور نہ ہو۔ یہاں تک کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں جو تعلیم و تبلیغ بہم پہنچائی ہے یہ اس کا احسان نہیں ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ﴾ (آل عمران: ۱۶۳) 

’’بلاشبہ یقیناً اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان پر اس کی آیات پڑھتا اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔‘‘

اس قدری کے عقیدہ کے مطابق تو اللہ کا رسول کو بھیجنا ایسا ہی ہے جیسے ایک مخلوق نے اپنا قاصد دوسری طرف بھیج دیا۔ سو رب تعالیٰ نے صرف رسول بھیج کر احسان کیا۔ یہ احسان نہیں کہ اس نے رسول کو ان کے لیے قرآن پڑھنے والا، اور انہیں پاک کرنے والا اورانہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دینے والا بنا کر مبعوث کیا۔ بلکہ ان کے نزدیک یہ افعال رسول کی طرف منسوب ہیں جن کو اس نے پیدا کیا ہے۔ نہ کہ بھیجنے والے کی طرف جس نے ان میں سے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔

یہ قدری کہتا ہے کہ رسول بنفسہ ناطق ہے نہ کہ اسے اللہ تعالیٰ نے ناطق بنایا ہے، اور نہ ہی اللہ نے کسی اور چیز کو ناطقبنایا ہے۔ بلکہ اس میں قدرت پیدا کی ہے کہ چاہے تو وہ بولے اور چاہے نہ بولے۔ اور بندہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو حادث کرتا ہے، اور احداث کے بعد اور پہلے دونوں صورتوں میں اس کا حال یکساں ہے، اور وہ نطق پر رب تعالیٰ کی معونت اور تیسیر کے بغیر ناطق ہے۔

منکرین تقدیر یہ بھی کہتے ہیں :’’فرشتوں کا بندوں کے لیے طلب مغفرت کرنا، علماء کا لوگوں کو علم و فضل سے بہرہ ور کرنا اور حکام کا عدل و انصاف کے ساتھ معاملات طے کرناانعامات الٰہیہ میں شامل نہیں ہے۔ ان کی رائے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملوک و سلاطین کو عادل یا ظالم بنانے میں بندوں کی کوئی آزمائش نہیں ہے۔

ایک معروف اثر میں وارد ہے: رب تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : ’’میں اللہ ہوں ، بادشاہوں کا مالک ہوں ، بادشاہوں کے دل اور ان کی پیشانیاں میرے ہاتھ میں ہیں ۔ جس نے میری اطاعت کی، میں انہیں اس پر مہربان بنا دوں گا، اور جس نے میری نافرمانی کی، میں انہیں اس پر انتقام بنا دوں گا۔ سو تم حکمرانوں کو برا بھلا کہنے میں مت لگو اور میری اطاعت کرو، میں ان کے دلوں کو تم پر مہربان کر دوں گا۔[الاتحاف السنیّۃ فی الاحادیث القدسیۃ للشیخ محمد المدنی، ص: ۶۹، ۷۷۔ ط حیدر آباد ۱۳۵۸ھـ مع اختلاف الالفاظ۔]

اس قدری کے نزدیک اللہ ان ملوک کو نہ عادل بنانے پر قادر ہے اور نہ ظالم بنانے پر۔ نہ اس نے ان کو نیکو کار بنایا ہے اور نہہی بد کردار بنایا ہے۔ وہ اس بات پر بھی قادر نہیں کہ کسی کو کسی پر احسان کرنے والا بنائے یا کسی کو کسی کے حق میں بد کردار بنائے۔ ان کے نزدیک رب تعالیٰ اس بات پر بھی قادر نہیں کہ کسی کو کسی کے حق میں محسن بنانے کا احسان کرے۔ یا کسی کو کسی ذریعے تعذیب و اہانت میں مبتلا کرے۔

اس قدری کے قول کے مطابق رب تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے کسی کو قوت والا نہیں بنایا کہ پھر وہ دیار و امصار میں دندناتے پھریں ۔ کہ اس نے نہ تو انہیں اس بات کاحکم دیا ہے اور نہ انہیں اس کا فاعل ہی بنایا ہے۔ بلکہ انہیں صرف قدرت دی ہے۔ اس طرح ان کے نزدیک اس نے شیطانوں کو ان کافروں پر نہیں بھیجا جو جا کر انہیں چوکا دیتے ہیں ۔

منکرین تقدیر کے مذکورہ بالا اقوال کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی حال میں بھی مدح و ستائش کا مستحق نہیں ، اس لئے کہ شکر اخروی انعامات پر ادا کیا جا سکتا ہے، یادینی انعامات پر یا دنیوی انعامات پر۔جہاں تک نعمت دنیاوی انعامات کا تعلق ہے؛ تو وہ ان لوگوں کے نزدیک رب تعالیٰ پر واجب ہیں ۔ اسی طرح ان نعمتوں کا حال ہے جو دینی ہیں جن پر وہ قادر ہے۔ جیسے رسولوں کا بھیجنا، قدرت کا پیدا کرنا وغیرہ۔ رہا نفس ایمان اور عمل صالح تو اس قدری کے نزدیک رب تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ کسی کو مومن و مہتدی نیکو کار و متقی اور صالح بنائے اور نہ وہ ان امور میں سے کسی پر شکریہ کا مستحق ہے۔ جن کو اس نے نہیں کیا اور نہ اس قدری کے نزدیک اس نے ان امور پر قادر بنایا ہے۔

رہیں اخروی نعمتیں تو اس قدری کے نزدیک رب تعالیٰ پر جزاء دینا واجب ہے۔ جیسا کہ مستاجر پر اجیر کو اس کی اجرت دینا واجب ہوتا ہے۔ سو اس قدری کے نزدیک یہ باب عدل مستحق سے ہے نا کہ فضل و احسان کے باب سے اوریہ اس شخص کے بمنزلہ ہے جو اپنے ذمہ قرض کو ادا کرتا ہے لہٰذا وہ فضل و احسان پر مستحق شکر نہ ہو گا۔

یہ ہے اس قدری کے قول کی حقیقت۔ بھلا یہ ہر حال میں رب تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والے اہل ایمان کو کیونکر عار دلاتا ہے جو اس بندے کے بھی شکر گزار ہیں جن کے ہاتھ پر رب تعالیٰ خیر کو جاری فرماتے ہیں کیونکہ جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اس نے رب کا بھی شکر ادا نہیں کیا، اور جو ان پر ظلم و اعتداء کرتا ہے یہ اس سے عدل کے ساتھ بدلہ لینے کو جائز قرار دیتے ہیں اور جب ظالم کی سزا الٰہ کا حق نہ ہو تو یہ اسے معاف کر دینا افضل سمجھتے ہیں ۔

ان کا اعتقاد ہے کہ رب تعالیٰ کے محسن کے ذریعے اس پر اس لیے احسان کروایا ہے تاکہ وہ اس محسن کا شکر ادا کرے۔ اور کسی کے ذریعے اس لیے ابتداء میں ڈالا ہے تاکہ یہ صبر و استغفار کرے اور راضی بہ قضاء ہے۔ جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’رب تعالیٰ بندے کے لیے جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہوتا ہے۔ سو اگر وہ اسے خوشی دیتا ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے وہ تکلیف پہنچاتا ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے خیر ہے اور امر صرف مومن کے لیے ہی ہے۔‘‘[صحیح مسلم: ۴؍ ۲۲۹۵۔ کتاب الزہد، باب، المومن امرہ کلہ خیرٌ، عن صہیب رضی اللّٰہ عنہ ۔]

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تَؤُزُّہُمْ اَزًّاo﴾ (مریم: ۸۳)

’’بے شک ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے، وہ انھیں ابھارتے ہیں ، خوب ابھارنا۔‘‘

اور فرمایا:

﴿فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا﴾ (الاسراء: ۵)

’’پھر جب ان دونوں میں سے پہلی کا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے سخت لڑائی والے کچھ بندے بھیجے، پس وہ گھروں کے اندر گھس گئے اور یہ ایساوعدہ تھا جو (پورا) کیا ہوا تھا۔‘‘

پس رب تعالیٰ کا شیطانوں کو بنی اسرائیل پر ظلم کرنے والوں پر بھیجنا، آیا یہ امر شرعی ہے؟ جس کا اس نے ان کو حکم دیا، جیسا کہ اس نے رسولوں کو نشانیوں اور ہدایت کے ساتھ بھیجا اور جیسا کہ اس نے امیوں میں رسول کو بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا تھا اور انہیں پاک کرتا تھا؟

یا یہ تقدیر اور تسلیط ہے؟ چاہے مسلط کیے جانے والا ظالم، معتدی اور رب تعالیٰ کے دین و شرع کا نا فرمان ہی ہو۔

پھر یہ بھی معلوم ہے کہ روئے زمین کے اکثر لوگ تقدیر کے قائل ہیں اور اس کے باوجود وہ محسن کی تعریف اور مسیئی کی مذمت کرتے ہیں ۔ سب بندوں کی فطرت یہ دونوں باتیں داخل ہیں ۔ سو وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ ہر شی کاخالق اور رب ہے اور اس نے یہ سب مقدر کیا ہے کہ اس کو مسلط کیا تو اس کو آسان کیا۔ اور بندے ایک کی مدح اور دوسرے کی مذمت کرتے ہیں اور قدر کے اقراری اہل اثبات محسن کی مدح اور مسیئی کی مذمت کرتے ہیں ۔ جبکہ اس پر سب کا اتفاق بھی ہے کہ وہ اللہ دونوں افعال کا خالق ہے۔

سو رافضیوں کا قول کہ اس سے انہیں لازم آتا ہے کہ وہ ان دونوں باتوں میں فرق نہ کریں ۔ یہ لذومِ ما لا یلزم ہے۔ اور غایتِ امر یہ ہے کہ اللہ نے اسے مستحق مدح و ثواب بنایا ہے اور دوسرے کو مستحق ذم و عقاب۔ تو پھر جب اس نے محسن کو قابل مدح اور مسیئی کو قابل مذمت بنایا ہے تو ایک کی مدح اور دوسرے کی مذمت ممتنع نہ ٹھہری۔ البتہ اس کا ان دونوں کو پیدا کرنا دیگر اشیاء کے پیدا کرنے کی طرح ہے اور یہ خلق مخولقات میں حکمت کلیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ بارہا بیان ہوا۔

اور اس قدری کی رائے پر شکر و ثناء اور مدح کا مستحق وہی ہے جسے اللہ نے محسن نہیں بنایا اور مذمت کا مستحق بھی وہی ہے جو اس نے مسیئی نے نہیں بنایا۔ بلکہ جسے اللہ محسن یا مسیئی بنانے پر قادر نہیں ۔ وہ مدح و ذم کا محل نہیں فکر اللہ کے عجز اور اس کی مشیئت و خلق میں قصور اور بدون محدث کے حدوثِ دوارث کی شرط کے ساتھ۔