فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات

اہلِ سنت کے قدر کے بارے میں مقالہ پر رافضی کا کلام کہ نیکی کرنے اور برائی کرنے کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ کیونکہ دونوں کا صدور اللہ سے ہوتا ہے، اور رافضی کے اس قول کا رد

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’اہل سنت کے نقطۂ نظر کو ماننے سے یہ لازم آتا ہے کہ جو آدمی ساری عمر اعمال صالحہ انجام دینے میں کھپا دے اور جو عمر بھر افعال قبیحہ کا ارتکاب کرتا رہے دونوں مساوی ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا، نہ ہم اول کی مدح کر سکتے ہیں اور نہ ثانی کی قدح؛ اس لئے کہ ایک کی نیکی اور دوسرے کی برائی دونوں کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: یہ دونوں قول باطل اور بے بنیاد ہیں ؛ اس لیے کہ نیکی و بدی کے مشترکہ طور پر اللہ کے پیدا کردہ ہونے سے ہر گز یہ لازم نہیں آتا کہ دونوں افعال جملہ احکام میں بھی مشترک ہوں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ کے سوا ہر چیز اسی کی پیدا کردہ ہے اور اس کی مخلوق ہونے میں سب مشترک ہیں ۔ یہ بات عقلِ صریح سے معلوم ہے کہ امور مختلفہ متعدد امور میں مشترک ہوتے ہیں بالخصوص اس مقام میں کہ جمیع ماسوی اللہ مخلوقِ خدا ہونے میں مشترک ہیں ، اوریہ کہ ان سب کا مالک و رب اللہ ہے پھر یہ بھی معلوم ہے کہ مخلوقات میں بے شمار افتراق بھی ہے جسے اللہ ہی شمار کر سکتا ہے۔ اللہ نے تاریکیوں اور نور کو پیدا کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

﴿وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَ الْبَصِیْرُo وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النور﴾ (فاطر: ۱۹ ۔ ۲۰) 

’’اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ۔ اور نہ اندھیرے اور نہ روشنی۔‘‘

اللہ جنت دوزخ کا خالق ہے۔ لیکن دونوں برابر نہیں ۔ وہ دھوپ سائے کا خالق ہے لیکن دونوں ایک نہیں ۔ وہ اندھے اور بینا کا خالق ہے لیکن دونوں یکساں نہیں ۔ وہ زندہ و مردہ، قادر و عاجز اور عالم و جاہل کا خالق ہے لیکن دونوں ایک سے نہیں ۔ وہ نافع و ضار، اور لذت والم کا خالق ہے لیکن دونوں جدا جدا ہیں ۔ تو جب اللہ اچھے برے ذائقوں کا خالق ہے۔ پھر اچھا ذائقہ پسند بھی ہوتا ہے اور مرغوب بھی۔ اس کی تعریف بھی ہوتی ہے اور اس کو چاہا بھی جاتا ہے اور برا ذائقہقابلِ مذمت، مبغوض اور لائقِ اجتناب ہوتا ہے۔ حالانکہ دونوں کا خالق اللہ ہے۔ اور وہ اللہ فرشتوں اور نبیوں کا بھی خالق ہے اور شیطانوں ، بچھوؤں ، سانپوں وغیرہ کا بھی خالق ہے۔ انبیاء وغیرہ محمود اور معظم ہیں ۔ جبکہ شیاطین اور سانپ وغیرہ فاسق اور حل و حرم میں ہرجگہ پر لائق گردن زدنی ہیں ۔ انبیائے کرام علیہم السلام وغیرہ میں رب تعالیٰ نے طبیعتِ کریمہ پیدا کی ہے جو خیر و احسان کا تقاضاکرتی ہے اور شیاطین وغیرہ میں طبیعتِ خبیثہ پیدا کی ہے جو شرو عداوت کو لاتی ہے، اور پھر ان میں محبت و بغض اور مدح و ذم کا بھی فرق ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت و جہنم، عالم و جاہل، شہد و زہر، راحت و رنج اور آدم و ابلیس سب کو پیدا کیا ہے۔ جب شرع و عقل دونوں اس امر میں ایک دوسرے کے ہم نوا ہیں کہ جس چیز میں منفعت و مصلحت پائی جاتی ہو، وہ واجب المدح ہے اگرچہ جمادات ہی سے کیوں نہ ہو؛ تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں سے انتہائی احسان کرنے والا بنایا ہو وہ کیونکر مدح کیے جانے کا زیادہ مستحق نہ ہوگا، برائی کے بارے میں بھی یونہی کہا جا سکتا ہے۔

بخلاف ازیں منکرین تقدیر کہتے ہیں کہ: احسان کی بنا پر کوئی شخص قابل مدح ہو سکتا ہے اور نہ ایذار سانی کے باعث قابل قدح؛ وہ مدح و ستائش کا مستحق اسی صورت میں ہوسکتا ہے، جب اللہ نے اسے محسن نہ بنایا ہو۔ اس نے نیک کام کر کے ہم پر احسان نہیں کیا اور نہ ہی اس کی برائی کے ذریعہ ہمیں آزمائش میں ڈالاہو۔ اس رافضی منکر تقدیر کے قول کی حقیقت یہ ہے کہ جہاں بندے کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں اللہ کا شکر ادا نہیں کیا جا سکتا اور جہاں شکر الٰہی مطلوب ہوتا ہے وہاں بندے کا شکریہ ادا کرنا بے سود ہے۔ عقل و شرع دونوں کے نزدیک اس قول کا فساد معلوم ہے۔ کہ اس قول کی حقیقت صرف اتنی ہی ہے کہ بندہ تو مشکور ٹھہرے پر رب تعالیٰ مشکور نہ ٹھہرے، اور جہاں اللہ مشکور ہو وہاں بندہ مشکور نہ ہو۔ یہاں تک کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں جو تعلیم و تبلیغ بہم پہنچائی ہے یہ اس کا احسان نہیں ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ﴾ (آل عمران: ۱۶۳) 

’’بلاشبہ یقیناً اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان پر اس کی آیات پڑھتا اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔‘‘

اس قدری کے عقیدہ کے مطابق تو اللہ کا رسول کو بھیجنا ایسا ہی ہے جیسے ایک مخلوق نے اپنا قاصد دوسری طرف بھیج دیا۔ سو رب تعالیٰ نے صرف رسول بھیج کر احسان کیا۔ یہ احسان نہیں کہ اس نے رسول کو ان کے لیے قرآن پڑھنے والا، اور انہیں پاک کرنے والا اورانہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دینے والا بنا کر مبعوث کیا۔ بلکہ ان کے نزدیک یہ افعال رسول کی طرف منسوب ہیں جن کو اس نے پیدا کیا ہے۔ نہ کہ بھیجنے والے کی طرف جس نے ان میں سے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔

یہ قدری کہتا ہے کہ رسول بنفسہ ناطق ہے نہ کہ اسے اللہ تعالیٰ نے ناطق بنایا ہے، اور نہ ہی اللہ نے کسی اور چیز کو ناطقبنایا ہے۔ بلکہ اس میں قدرت پیدا کی ہے کہ چاہے تو وہ بولے اور چاہے نہ بولے۔ اور بندہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو حادث کرتا ہے، اور احداث کے بعد اور پہلے دونوں صورتوں میں اس کا حال یکساں ہے، اور وہ نطق پر رب تعالیٰ کی معونت اور تیسیر کے بغیر ناطق ہے۔

صفحہ 1 از 3