فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

منکرین تقدیر یہ بھی کہتے ہیں :’’فرشتوں کا بندوں کے لیے طلب مغفرت کرنا، علماء کا لوگوں کو علم و فضل سے بہرہ ور کرنا اور حکام کا عدل و انصاف کے ساتھ معاملات طے کرناانعامات الٰہیہ میں شامل نہیں ہے۔ ان کی رائے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملوک و سلاطین کو عادل یا ظالم بنانے میں بندوں کی کوئی آزمائش نہیں ہے۔

ایک معروف اثر میں وارد ہے: رب تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : ’’میں اللہ ہوں ، بادشاہوں کا مالک ہوں ، بادشاہوں کے دل اور ان کی پیشانیاں میرے ہاتھ میں ہیں ۔ جس نے میری اطاعت کی، میں انہیں اس پر مہربان بنا دوں گا، اور جس نے میری نافرمانی کی، میں انہیں اس پر انتقام بنا دوں گا۔ سو تم حکمرانوں کو برا بھلا کہنے میں مت لگو اور میری اطاعت کرو، میں ان کے دلوں کو تم پر مہربان کر دوں گا۔[الاتحاف السنیّۃ فی الاحادیث القدسیۃ للشیخ محمد المدنی، ص: ۶۹، ۷۷۔ ط حیدر آباد ۱۳۵۸ھـ مع اختلاف الالفاظ۔]

اس قدری کے نزدیک اللہ ان ملوک کو نہ عادل بنانے پر قادر ہے اور نہ ظالم بنانے پر۔ نہ اس نے ان کو نیکو کار بنایا ہے اور نہہی بد کردار بنایا ہے۔ وہ اس بات پر بھی قادر نہیں کہ کسی کو کسی پر احسان کرنے والا بنائے یا کسی کو کسی کے حق میں بد کردار بنائے۔ ان کے نزدیک رب تعالیٰ اس بات پر بھی قادر نہیں کہ کسی کو کسی کے حق میں محسن بنانے کا احسان کرے۔ یا کسی کو کسی ذریعے تعذیب و اہانت میں مبتلا کرے۔

اس قدری کے قول کے مطابق رب تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے کسی کو قوت والا نہیں بنایا کہ پھر وہ دیار و امصار میں دندناتے پھریں ۔ کہ اس نے نہ تو انہیں اس بات کاحکم دیا ہے اور نہ انہیں اس کا فاعل ہی بنایا ہے۔ بلکہ انہیں صرف قدرت دی ہے۔ اس طرح ان کے نزدیک اس نے شیطانوں کو ان کافروں پر نہیں بھیجا جو جا کر انہیں چوکا دیتے ہیں ۔

منکرین تقدیر کے مذکورہ بالا اقوال کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی حال میں بھی مدح و ستائش کا مستحق نہیں ، اس لئے کہ شکر اخروی انعامات پر ادا کیا جا سکتا ہے، یادینی انعامات پر یا دنیوی انعامات پر۔جہاں تک نعمت دنیاوی انعامات کا تعلق ہے؛ تو وہ ان لوگوں کے نزدیک رب تعالیٰ پر واجب ہیں ۔ اسی طرح ان نعمتوں کا حال ہے جو دینی ہیں جن پر وہ قادر ہے۔ جیسے رسولوں کا بھیجنا، قدرت کا پیدا کرنا وغیرہ۔ رہا نفس ایمان اور عمل صالح تو اس قدری کے نزدیک رب تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ کسی کو مومن و مہتدی نیکو کار و متقی اور صالح بنائے اور نہ وہ ان امور میں سے کسی پر شکریہ کا مستحق ہے۔ جن کو اس نے نہیں کیا اور نہ اس قدری کے نزدیک اس نے ان امور پر قادر بنایا ہے۔

رہیں اخروی نعمتیں تو اس قدری کے نزدیک رب تعالیٰ پر جزاء دینا واجب ہے۔ جیسا کہ مستاجر پر اجیر کو اس کی اجرت دینا واجب ہوتا ہے۔ سو اس قدری کے نزدیک یہ باب عدل مستحق سے ہے نا کہ فضل و احسان کے باب سے اوریہ اس شخص کے بمنزلہ ہے جو اپنے ذمہ قرض کو ادا کرتا ہے لہٰذا وہ فضل و احسان پر مستحق شکر نہ ہو گا۔

یہ ہے اس قدری کے قول کی حقیقت۔ بھلا یہ ہر حال میں رب تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والے اہل ایمان کو کیونکر عار دلاتا ہے جو اس بندے کے بھی شکر گزار ہیں جن کے ہاتھ پر رب تعالیٰ خیر کو جاری فرماتے ہیں کیونکہ جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اس نے رب کا بھی شکر ادا نہیں کیا، اور جو ان پر ظلم و اعتداء کرتا ہے یہ اس سے عدل کے ساتھ بدلہ لینے کو جائز قرار دیتے ہیں اور جب ظالم کی سزا الٰہ کا حق نہ ہو تو یہ اسے معاف کر دینا افضل سمجھتے ہیں ۔

ان کا اعتقاد ہے کہ رب تعالیٰ کے محسن کے ذریعے اس پر اس لیے احسان کروایا ہے تاکہ وہ اس محسن کا شکر ادا کرے۔ اور کسی کے ذریعے اس لیے ابتداء میں ڈالا ہے تاکہ یہ صبر و استغفار کرے اور راضی بہ قضاء ہے۔ جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’رب تعالیٰ بندے کے لیے جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہوتا ہے۔ سو اگر وہ اسے خوشی دیتا ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے وہ تکلیف پہنچاتا ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے خیر ہے اور امر صرف مومن کے لیے ہی ہے۔‘‘[صحیح مسلم: ۴؍ ۲۲۹۵۔ کتاب الزہد، باب، المومن امرہ کلہ خیرٌ، عن صہیب رضی اللّٰہ عنہ ۔]

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تَؤُزُّہُمْ اَزًّاo﴾ (مریم: ۸۳)

’’بے شک ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے، وہ انھیں ابھارتے ہیں ، خوب ابھارنا۔‘‘

اور فرمایا:

﴿فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا﴾ (الاسراء: ۵)

’’پھر جب ان دونوں میں سے پہلی کا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے سخت لڑائی والے کچھ بندے بھیجے، پس وہ گھروں کے اندر گھس گئے اور یہ ایساوعدہ تھا جو (پورا) کیا ہوا تھا۔‘‘

پس رب تعالیٰ کا شیطانوں کو بنی اسرائیل پر ظلم کرنے والوں پر بھیجنا، آیا یہ امر شرعی ہے؟ جس کا اس نے ان کو حکم دیا، جیسا کہ اس نے رسولوں کو نشانیوں اور ہدایت کے ساتھ بھیجا اور جیسا کہ اس نے امیوں میں رسول کو بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا تھا اور انہیں پاک کرتا تھا؟

یا یہ تقدیر اور تسلیط ہے؟ چاہے مسلط کیے جانے والا ظالم، معتدی اور رب تعالیٰ کے دین و شرع کا نا فرمان ہی ہو۔

پھر یہ بھی معلوم ہے کہ روئے زمین کے اکثر لوگ تقدیر کے قائل ہیں اور اس کے باوجود وہ محسن کی تعریف اور مسیئی کی مذمت کرتے ہیں ۔ سب بندوں کی فطرت یہ دونوں باتیں داخل ہیں ۔ سو وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ ہر شی کاخالق اور رب ہے اور اس نے یہ سب مقدر کیا ہے کہ اس کو مسلط کیا تو اس کو آسان کیا۔ اور بندے ایک کی مدح اور دوسرے کی مذمت کرتے ہیں اور قدر کے اقراری اہل اثبات محسن کی مدح اور مسیئی کی مذمت کرتے ہیں ۔ جبکہ اس پر سب کا اتفاق بھی ہے کہ وہ اللہ دونوں افعال کا خالق ہے۔

صفحہ 2 از 3