فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

سو رافضیوں کا قول کہ اس سے انہیں لازم آتا ہے کہ وہ ان دونوں باتوں میں فرق نہ کریں ۔ یہ لذومِ ما لا یلزم ہے۔ اور غایتِ امر یہ ہے کہ اللہ نے اسے مستحق مدح و ثواب بنایا ہے اور دوسرے کو مستحق ذم و عقاب۔ تو پھر جب اس نے محسن کو قابل مدح اور مسیئی کو قابل مذمت بنایا ہے تو ایک کی مدح اور دوسرے کی مذمت ممتنع نہ ٹھہری۔ البتہ اس کا ان دونوں کو پیدا کرنا دیگر اشیاء کے پیدا کرنے کی طرح ہے اور یہ خلق مخولقات میں حکمت کلیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ بارہا بیان ہوا۔

اور اس قدری کی رائے پر شکر و ثناء اور مدح کا مستحق وہی ہے جسے اللہ نے محسن نہیں بنایا اور مذمت کا مستحق بھی وہی ہے جو اس نے مسیئی نے نہیں بنایا۔ بلکہ جسے اللہ محسن یا مسیئی بنانے پر قادر نہیں ۔ وہ مدح و ذم کا محل نہیں فکر اللہ کے عجز اور اس کی مشیئت و خلق میں قصور اور بدون محدث کے حدوثِ دوارث کی شرط کے ساتھ۔


صفحہ 3 از 3