Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قومیس اور جرجان کی فتح 22ھ

  علی محمد الصلابی

جب رے کی فتح کا مژدہ سنانے اور خمس لانے والا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو سیدنا عمر فاروقؓ نے اسی کے ہاتھ حضرت نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ کے نام ایک خط تحریر کیا کہ اپنے بھائی سوید بن مقرن کو قومیس (ریّ اور نیساپور کے درمیان طبرستان کے پہاڑی سلسلہ کے آخری حصہ پر واقع ہے) فتح کرنے کے لیے بھیج دو۔ سوید فوج لے کر وہاں پہنچے، آپؓ سے کوئی مزاحمت نہ ہوئی اور وہاں کے باشندوں نے مصالحت کر لی، آپؓ نے ان کو امان دے دی اور مصالحت منظور کر لی۔ سوید نے جب قومیس پر لشکر کشی کی تو جرجان (طبرستان اور خراسان کے درمیان ایک بڑا شہر ہے)اور طبرستان (طبرستان کثیر پہاڑیوں پر مشتمل ایک وسیع ملک ہے، وہاں بہت سارے علماء اور ادباء پیدا ہوئے اور شہرت پائی) کے باشندوں نے بھی جزیہ پر رضا مندی کا اظہار کرتے ہوئے صلح کی درخواست کی۔ آپؓ نے سب سے صلح کر لی اور سب کو امان دینے پر اتفاق کر لیا۔

(تہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 161)