روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی - ردِ رافضیت…

روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

پھر رافضی نے اس حکایت میں جو یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’اللہ اس بات سے کہیں زیادہ عدل والا ہے کہ وہ اپنے بندے پر ظلم کرے اور اس کے نا کردہ پر اس کا مؤاخذہ کرے۔‘‘ کہ یہ قدریہ کے کلام کی اصل و اساس ہے جسے عوام و خواص سب جانتے ہیں ۔ یہ ان کے مذہب کی اساس اور ان کا شعار ہے۔ اسی لیے یہ لوگ خود کو ’’عدلیہ‘‘ بھی کہلاتے ہیں ۔ لہٰذا اگر تو اس حکایت کی موسیٰ بن جعفر کی طرف نسبت درست ہے تو اس میں ان کی نہ کوئی فضیلت ہے اور نہ تعریف و مدح۔ جبکہ قدریہ کے بچے بھی اس کو جانتے ہیں ۔ پھر اس وقت حال ہو گا جب یہ حکایت جھوٹی اور اختلافی ہو؟دوسرا جواب :....اس تقسیم کی بابت یہ ہے کہ یہ تقسیم حصری نہیں ۔ کیونکہ قائل کا یہ قول کہ: ’’اَلْمَعْصِیَۃُ مِمَّنْ ‘‘ایک مجمل و مبہم لفظ ہے جو محتاج تشریح ہے۔ ظاہر ہے کہ معصیت ہویا طاعت و عبادت؛وہ ایک عرض (وہ چیز جو اپنے وجود میں کسی دوسری چیز کی محتاج ہو) ہے جو قائم بالغیر ہے؛ اورضروری طورپر اپنے قیام میں کسی محل کی محتاج ہے؛ اور لا محالہ یہ بات بھی پوشیدہ نہیں کہ اس کا قیام بندے کے ساتھ ہے، اللہ کے ساتھ نہیں ، اور جو چیز بھی اللہ کی پیدا کردہ ہے اس کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے، بایں معنی کہ وہ اس کی پیدا کردہ ہے، مگر یہ الگ چیزہے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ قائم ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے موصوف ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ﴾ (الجاثیۃ: ۱۳)

’’اور ا س نے تمھاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کر دیا۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:﴿ وَمَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ﴾ (النحل:۵۳)

’’ تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘

اب اگرچہ رب تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، اسی نے خیر و شر کو پیدا کیا ہے اور اس میں اس اعتبار سے حکمت ہے کہ اس کا فعل حسن اور متفق ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْئٍ خَلَقَہٗ وَ بَدَ اَخَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍo﴾ (السجدۃ: ۷)

’’جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔‘‘

اور فرمایا:

﴿صُنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْئٍ﴾ (النمل: ۸۸)

’’اس اللہ کی کاری گری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔‘‘

اس لیے نرے شر کی اللہ کی طرف نسبت نہ کی جائے گی بلکہ یا تو اسے عموم میں داخل کر کے ذکر کریں گے یا سبب کی طرف مضاف کریں گے یا اس کے فاعل کو محذوف کر کے ذکر کریں گے۔ پہلی کی مثال: ارشاد ربانی ہے:

﴿اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ﴾ (الزمر: ۶۲)

’’اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔‘‘

دوسری کی مثال:

﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الفلقo مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَo﴾ (الفلق: ۱۔۲)

’’تو کہہ میں مخلوق کے رب کی پناہ پکڑتا ہوں ۔ اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔‘‘

تیسری کی مثال وہ ہے جو جن کی حکایت کے تحت ہے۔ ارشاد ہے:﴿وَاَنَّا لَا نَدْرِی اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًاo﴾ (الجن: ۱۰)

’’اور یہ کہ بے شک ہم نہیں جانتے کیا ان لوگوں کے ساتھ جو زمین میں ہیں ، کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے، یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔‘‘

اور سورۂ فاتحہ میں ارشاد ہے:

﴿اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمo صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْo غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنo﴾ (الفاتحۃ: ۵۔ ۷)

’’ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں ۔‘‘

پس اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ فاعل نعمت ہے جبکہ فاعل غضب کو حذف کر دیا اور ضلالت کو ان کی طرف منسوب فرمایا اور حضرت خلیل علیہ السلام فرماتے ہیں :

﴿وَاِِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِینِo﴾ (الشعراء: ۸۰)

’’اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔‘‘

اس لیے جملہ اسمائے حسنیٰ اللہ ہی کے ہیں ۔ رب تعالیٰ نے اپنے وہ اسمائے حتیٰ رکھے ہیں جو سراسر خیر کو ہی مقتضی ہیں ۔ اور شر کو صرف مفعولات میں ذکر کیا جائے گا۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo﴾ (المائدۃ: ۹۸)

’’جان لو! بیشک اللہ بہت سخت عذاب والا ہے اور بیشک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘

اور سورۂ انعام کے آخر میں ارشاد ہے:

﴿اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo﴾ (الانعام: ۱۶۵)

’’بے شک تیرا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وبے حد بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

اور سورۂ اعراف میں ارشاد ہے:

﴿اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo﴾ (الاعراف: ۱۶۷)

’’بے شک تیرا رب یقیناً بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ بے حد بخشنے والا رحم والا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿نَبِّیْٔ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُo وَ اَنَّ عَذَابِیْ ہُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُo﴾ (الحجر: ۳۹۔ ۵۰)

’’میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہوں ۔ اور یہ بھی کہ بے شک میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔‘‘اور فرمایا:

﴿حٰمٓo تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِo غافر الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ذِیْ الطَّوْلِ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا ہُوَ﴾ (غافر: ۱۔ ۳)

’’حٓمٓ۔اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب ، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، بہت سخت سزا والا، بڑے فضل والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘

صفحہ 2 از 6