روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی - ردِ رافضیت…

روافض کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر دروغ گوئی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 6

اس لیے بھی کہ بندے کا فاعل ہونا بعد اس بات کے کہ وہ فاعل نہ تھا کہ یہ ایک امر حادث ہے اور امرِ حادث کے لیے ایک محدث کا ہونا لازم ہے اور بندے حق میں یہ بات ممتنع ہے کہ وہ اپنے فاعل ہونے کا فاعل بھی وہ خود ہو۔ کیونکہ اس کا فاعل ہونا اگر تو اس کے نفس فاعل ہونے سے حادث ہوا ہے تو لازم آئے گا کہ ایک چیز بغیر پیدا کرنے والے کے از خودپیدا ہو گئی ہو اور یہ بات ممتنع ہے۔ اور اگر وہ کسی دوسری فاعلیت کی بنا پر فاعل ہوا ہے؛ پھر اگر تو یہ دوسری فاعلیت پہلی فاعلیت سے پیدا ہوئی ہے تو اس سے دورِ قبلی لازم آئے گا اور اگر یہ پہلی فاعلیت کے بغیر حادث ہوا ہے تو امورِ متناہیہ میں تسلسل لازم آئے گا اور یہ دونوں باتیں ہی باطل ہیں ۔پس معلوم ہوا کہ بندے سے ایسی طاعت و معصیت کا ہونا کہ جس سے وہ مدح و ذکر اور ثواب و عقاب کی مستحق ٹھہرے، یہ اس بات کو مانع نہیں کہ وہ ہر بات رب تعالیٰ کا محتاج ہو اور کسی بابھی اس سے بے نیاز نہ ہو اور یہ کہ اس کے جملہ امو رکا خالق اللہ ہو اور یہ کہ بندے کے حوادث و ممکنات میں سے نفس افعال اللہ کی قدرت و مشیئت کی طرف منسوب ہوں ۔


صفحہ 6 از 6