فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد - ردِ رافضیت…

فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا ردّ

[ اہل سنت کے تقدیر کے بارے میں عقیدہ پر رافضی کا کلام کہ کافر کفر کر کے بھی رب تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہے کیونکہ وہ رب تعالیٰ کی مراد کو بجا لایا ہے]۔

[اعتراض]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’اہلِ سنت کے افکار و آراء سے لازم آتا ہے کہ: کافر اپنے کفر کے باوصف اطاعت شعار ہو اس لیے کہ اس نے جو کچھ بھی کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق کیا ہے۔کیونکہ رب تعالیٰ نے اس سے کفر کا ارادہ کیا اور وہ کفر کر رہا ہے اور وہ اس ایمان کو نہیں لایا جو رب تعالیٰ کو اس سے نا پسند ہے۔ سو اس نے رب تعالیٰ کی طاعت کی ہے اور اسے ایمان لانے کو کہہ کر نبی نا فرمان ٹھہرے گا کیونکہ نبی اسے اس ایمان لانے کو کہہ رہا ہے جو اللہ کو اس کافر سے پسند نہیں اور اس کو اس کفر سے روک رہا ہے جو اللہ اس کافر سے چاہتا ہے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]۔[جواب ]:اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے : 

پہلی وجہ:....شیعہ مصنف کا یہ خیال اس امر پر مبنی ہے کہ آیا اطاعت اللہ تعالیٰ امر کے مطابق ہے یا ارادہ کے؟ نیز یہ کہ کیا امر ارادہ کو مستلزم ہے یا نہیں ؟اس میں بحث بہت مشہور ہے۔ اس قدری نے اپنے قول کی صحت ذکر نہیں کی؛ اور نہ اپنے مخالفین کے قول کا فساد بیان کیا ہے۔ بلکہ اس نے صرف دعویٰ کر دیا ہے جو اس بات پر مبنی ہے کہ طاعت ارادہ کے موافق ہوتی ہے۔ سو جب اس کے مخالفین نے اسے یہ کہا کہ ہم تمہارے اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتے تو قدری کے پاس دلیل نہ ہونے کی وجہ سے منازعین کی اتنی ہی بات اس کے دعویٰ کے رد کے لیے کافی ٹھہری۔

دوسری وجہ :....ان کا استدلال اس بات سے ہے کہ امر ارادہ کو مستلزم نہیں کیونکہ اللہ بندوں کے افعال کا خالق ہے ۔ہم قبل ازیں یہ حقیقت واضح کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے افعال کو اپنے ارادہ سے پیدا کرتا ہے ۔ اس نے کفر و عصیان اور فسق کا حکم نہیں دیا۔ تو معلوم ہوا کہ بعض اوقات وہ ایسی چیز کو پیدا کرتا ہے، جس کا وہ حکم نہیں دیتا،یہ بات کتاب و سنت اور علماء کے اجماع سے ثابت ہے۔ اگر کوئی شخص حلف اٹھا کر یہ کہے کہ کل وہ اس کا حق ادا کر دے گا، ان شاء اللہ۔ کل کا روز گزر جائے اور وہ قدرت کے باوجود اس کی تعمیل سے قاصر رہے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔اور اگر ان شاء اللہ کے الفاظ میں مشیت کا لفظ امر کے معنی میں ہوتا تو وہ حانث ٹھہرتا، کیونکہ وہ اس کا مامور ہوتا۔ علی ہذا القیاس جب کسی فعل مامور پر حلف اٹھا کر اسے مشیت باری تعالیٰ سے معلق کر دیا جائے تو قسم اٹھانے والا اس میں حانث نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَلَوْ شَائَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعًا﴾ (یونس:۹۹)

’’اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو کرۂ ارضی پر بسنے والے سب ایمان لے آتے۔‘‘

حالانکہ اس نے بندوں کو ایمان لانے کا حکم بھی کیا ہے۔ سو معلوم ہوا کہ اس نے بندوں کو ایمان لانے کاحکم تو دیا ہے لیکن اس کو چاہا نہیں ۔ [ اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ امر اور مشیت میں فرق ہے]۔دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

﴿ وَمَنْ یُّرِد ْ اَنْ یَّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا﴾ (الانعام:۱۲۵)

’’اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، اس کے سینہ کو تنگ کر دیتا ہے۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، مگر گمراہ ہونے کا حکم نہیں دیتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’رب تعالیٰ کو تمہارے لیے تین باتیں ناپسند ہیں : (۱) قیل و قال (۲) کثرت سوال (۳) اور اضاعتِ مال۔‘‘ [صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، باب قول اللّٰہ تعالیٰ: لا یسئلون الناس الحاف۔]

امت اس بات پر متفق ہے کہ رب تعالیٰ منہیات کو ناپسند فرماتا ہے، تاکہ مامورات کو، اور یہ کہ وہ مقتضین، محسنین اور صابرین کو محبوب رکھتا ہے۔ وہ توابین اور متطہرین سے محبت کرتا ہے۔ مومنوں اور نیک اعمال والوں سے راضی ہے اور یہ کہ وہ کافرین سے غصہ ہے اور ان پر غضب ناک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’اللہ سے بڑھ کر کسی کو مدح محبوب نہیں اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو عذر پیش کرنا محبوب نہیں ۔‘‘

اور فرمایا: ’’اللہ سے بڑھ کر کوئی اس بات میں غیرت مند نہیں کہ اس کا بندہ زنا کرے یا اس کی بندی زنا کرے۔‘‘[صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الغیرۃ۔]

اور فرمایا: ’’اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔‘‘[ایسے الفاظ متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں ۔ اور یہ الفاظ صحیح مسلم: ۲۰۶۲، ۲۰۶۳ کے ہیں ۔ دیکھیں : کتاب الذکر والدعاء، باب فی اسماء اللّٰہ تعالیٰ۔]

اور فرمایا: ’’اللہ جمال والا ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔‘‘[صحیح مسلم: ۱۹۳۔ کتاب الایمان، باب تحریم الکبرء بیانہ۔ یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔]

فرمایا: اللہ کو یہ بات محبوب ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جیسا کہ اسے یہ بات ناپسند ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔‘‘[مسند احمد: ۸؍ ۱۷۰۔ عن ابن عمر رضی اللہ عنہ ، ط: المعارف۔]

فرمایا: ’’بے شک اللہ کو متقی، غنی اور گم نام بندہ پسند ہے۔‘‘

فرمایا: ’’اللہ کو تمہارے لیے تین باتیں محبوب ہیں : (۱) تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (۲) اور تم سب اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ (۳) اور یہ کہ اللہ نے جس کو تمہارا والی امر بنایا ہے اس کے ساتھ خیر خواہی کرو۔‘‘[اس کی تخریج گزر چکی ہے۔]

فرمایا: ’’رب تعالیٰ کو اپنے مومن بندے کے توبہ کرنے پر اس آدمی سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کی سواری ایک ویران اور ہلاکت آفرین میدان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کے کھانے پینے کا سامان لدا ہوا تھا اور اسے ڈھونڈنے کے باوجود بھی وہ سواری نہ ملی تھی اور اب وہ موت کے انتظار میں لیٹ گیا۔ پھر جب وہ بیدار ہوا تو اچانک اس کی وہ سواری اس کے سامنے تھی۔ پس اللہ اپنے بندے کے توبہ کرنے پر اس کے بندے پر اپنی سواری ملنے پر خوش ہونے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔‘‘

صفحہ 1 از 6