فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد - ردِ رافضیت…

فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

یہ حدیث حجاج میں متعدد طرق سے مروی ہے اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستفیض ہے اور اس کی صحت و ثبوت متفق علیہ ہے۔[صحیح البخاری: ۸؍ ۶۸۔ کتاب الدعوات، باب التوبۃ عن عبداللّٰہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ بالفاظ مختلفۃ۔]

غرض اس جیسی متعدد احادیث میں تب پھر رب تعالیٰ بندوں سے طاعات کو اس ارادہ کے ساتھ چاہا ہے جو طاعات بجا لانے پر اس کی محبت و رضا کو متضمن ہے۔ چاہے وہ ان کو بجا نہ بھی لائے اور اسے کفر و فسق وغیرہ بندے سے ناپسند ہےاگرچہ اس نے ان کو ایک حکمت کے تحت پیدا بھی کیا ہے جو ان کی پیدائش کو مقتضی تھی اور جب اس نے کفر وغیرہ کو بندے نے ناپسند کیا کیونکہ یہ بندے کے لیے مضر ہے اور اللہ اسے ناپسند فرماتا ہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسے ان کا پیدا کرنا بھی ناپسند ہے۔ کیونکہ ان میں اس کی حکمت ہے۔ کیونکہ ایک فعل کبھی ایک سے اچھا تو دوسرے سے برا ہوتا ہے۔ کیونکہ دونوں فاعلوں کا حال جدا جدا ہوتا ہے۔

تب پھر یہ لازم کیسے آ گیا کہ ایک فعل جو بندے سے قبیح ہو وہ رب تعالیٰ سے بھی قبیح ہو گا۔ حالانکہ مخلوق کو اللہ سے کوئی نسبت بھی نہیں اور جب مخلوق بھی بسا اوقات ایک ایسی بات کا ارادہ کر لیتی ہے جو اسے ناگوار ہوتا ہے۔ جیسے مریض کا ایسی دوا پینے کا ارادہ کرنا جو اسے ناگوار ہو۔ اور کبھی انسان ایسی بات بھی پسند کرتا ہے جس کا وہ ارادہ نہیں کرتا۔ جیسے مریض کا ایسے کھانے کو پسند کرتا جو اس کے حق میں مضر ہو۔ اور جیسے روزہ دار کا کھانے اور پینے کو پسند کرتا حالانکہ وہ ان کا ارادہ نہیں رکھتا اور بندے کا شہوتوں کو پسند کرنا حالانکہ وہ اپنے عقل و دین دونوں کے اعتبار سے ان کو ناپسند کرتا ہے۔

پس جب ایک بغیر دوسرے کا ثبوت معقول ہے اور یہ کہ مخلوقات میں ایک دوسرے کو مستلزم نہیں ۔ تو بھلا ایک کا ثبوت دوسرے کے بغیر حق تعالیٰ کے حق میں کیونکر نا ممکن ہے۔

کبھی یہ کہتے ہیں کہ یہ سب امور مراد اور محبوب ہیں ۔ لیکن ان میں مراد لنفسہ ہوتا ہے۔ یہ مراد بالذات ہے اور اللہ کو محبوب اور پسند ہوتا ہے اور کوئی ان میں سے مراد الغیر ہوتا ہے اور وہ مراد بالعرض ہوتا ہے کیونکہ وہ محبوب بالذات اور مراد بالذات تک وسیلہ ہوتا ہے۔

پس انسان عافیت کو بنفسہ چاہتا ہے اور دوا پینے کو اس تک وسیلہ کے اعتبار سے چاہتا ہے۔ البتہ بنفسہ محبوب ہونے کی وجہ سے نہیں چاہتا۔ تو جب مراد کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایک مراد لنفسہ، یہ بالذات محبوب ہے۔ (۲) اور مراد لغیرہ، یہ غیر تک وسیلہ کے لیے مراد ہے۔ گو کبھی محبوب لنفسہ نہ بھی ہو۔ تو پھر اس باب میں محبت اور ارادہ میں فرق کرنا ممکن ٹھہرا۔

ارادہ کی دو قسمیں ہیں ۔ جو چیز محبوب ہو، وہ مراد لنفسہ ہوتی ہے اور جو فی نفسہ محبوب نہ ہو وہ مراد لغیرہ ہوتی ہے اور اسی تقسیم پر اس مسئلہ کی بنیاد ہے کہ رب تعالیٰ کا خود اپنے محبت کرنا اور رب تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لیے محبت کرنا۔ سو جن کے نزدیک محبت و رضا ارادہ عامہ ہے، ان کا قول ہے کہ حقیقت میں رب تعالیٰ محبت نہیں کرتا اور وہ رب تعالیٰ کے اپنے بندوں سے محبت کرنے کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ وہ انہیں ثواب دے گا اور بندوں کا رب تعالیٰ سے محبت کرنا یہ اس کی طاعت کرنے کا ارادہ کرنا ہے اور اس کا تفرب تلاش کرنا ہے۔

ان میں سے اکثر جماعتوں کا یہ قول ہے کہ وہ خود محبوب اور مستحق محبت ہے۔ البتہ اس کا دوسرے سے محبت کرنا یہ مشیئت کے معنی میں ہے۔

رہے اسلاف، حدیث و تصوف کے ائمہ اور اکثر اہل کلام و نظر تو وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ رب تعالیٰ محبوب لذاتہ ہے بلکہ صرف وہی محبوب لذاتہ کہلانے کا حق دار ہے اور یہ الوہیت کی حقیقت ہے اور یہی ملت ابراہیم کی حقیقتہے۔ اور جو اس بات کا اقرار نہیں کرتے، وہ ربوبیت اور الٰہیت میں فرق نہیں کرتے اور وہ رب تعالیٰ کو معبود لذاتہ قرار نہیں دیتے اور نہ وہ اس کی طرف دیکھنے سے تلذذ کو ثابت کرتے ہیں اور نہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ اللہ اہل جنت کے نزدیک جنت کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو گا۔

در حقیقت یہ ان لوگوں کا قول ہے جو ملت ابراہیم سے خارج اور اللہ کے اس کے ماسوا سے معبود ہونے کے منکر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب اوائل اسلام میں یہ قول ظاہر ہوا تو اس کے قائل کو قتل کر دیا گیا۔ یہ جعد بن درہم تھا جسے خالد بن عبداللہ قسری نے عیدالاضحیٰ کے دن عید گاہ میں علماء کی مرضی کے عین مطابق ذبح کر دیا تھا اور یہ کہا کہ: اے اہل اسلام! اپنی قربانیاں کرو۔ اللہ تمہاری قربانیاں قبول کرے اور میں جعد بن درہم کو قربان کر رہا ہوں ۔ کیونکہ جعد کا گمان ہے کہ اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل نہیں بنایا اور نہ موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا۔ اللہ جعد کی ان باتوں سے بے حد بلند و برتر ہے۔ پھر منبر سے اتر کر جعد کو ذبح کر دیا۔

ایک صحیح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’جب جنت والے جنت میں داخل ہو چکیں گے تو ایک منادی یہ نداء کرے گا۔ اے جنت والو! اللہ کے ہاں تمہارے لیے ایک وعدہ ہے وہ اس وعدہ کو تم لوگوں کے ساتھ پورا کرنا چاہتا ہے۔‘‘ وہ پوچھیں گے: وہ وعدہ کیا ہے؟ کیا اس نے ہمارے چہرے سفید (روشن) نہیں کر دیے اور ہماری تولیں بھاری نہیں کر دیں اور ہمیں جنت میں داخل کر کے جہنم سے بچا نہیں لیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’پس رب تعالیٰ حجاب کو کھول دیں گے اور اہل جنت اسے دیکھیں گے۔ پس رب تعالیٰ انہیں اپنی زیارت سے زیادہ محبوب کوئی شی نہ دے گا اور یہی ’’زیادتی‘‘ ہے (جس کا قرآن میں تذکرہ ہے)۔[صحیح مسلم: ۱؍ ۱۶۳۔ کتاب الایمان: باب اثبات رؤیۃ المومنین فی الآخرۃ ربہم سبحانہ وتعالیٰ۔]

سنن میں متعدد طرق سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے: ’’اور میں تجھ سے تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘

صفحہ 2 از 6