فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد - ردِ رافضیت…

فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

امام احمد اور امام نسائی نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے: ’’میں تجھ سے تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں جو کسی ضرر رساں مضرت کے اور گمراہ کن فتنہ سے خالی ہو۔‘‘[یہ دو طویل احادیث کا جز ہے۔ پہلا حدیث سنن النسائی: ۳؍ ۴۶، ۴۷۔ کتاب السہو باب الدعاء بعد الذکر میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ جبکہ دوسری حدیث الفاظ کے اختلاف کے ساتھ پہلی حدیث کے معنی میں ہے جو ’’مسند احمد: ۵؍ ۱۹۱، ط، حلبی۔ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔]

جو لوگ اس کے محبوب ہونے کو اور اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس کی غیر سے محبت اس کی مشیئت کے معنی میںہے۔ سو ان لوگوں کا یہ گمان ہے کہ اس نے جو بھی پیدا کیا ہے، وہ اسے محبوب ہے۔ یہ لوگ بسا اوقات ابادیت کی طرف نکل جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے کفر، فسوق اور عصیان محبوب ہے اور وہ اس پر راضی ہے اور عارف جب اس مقام کا مشاہدہ کر لیتا ہے تو اس کی قیومیت عامہ کے اور اس بات کے مشاہدہ کی وجہ سے کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے، اس کے نزدیک کوئی شی اچھی یا بری نہیں رہتی۔ صوفیہ اور اہل فکر و نظر کے بے شمار شیوخ اس مغالطہ کا شکار ہوئے ہیں ۔ بلاشبہ یہ ایک عظیم غلطی ہے۔

کتاب و سنت اور اسلافِ امت کا اتفاق بتلاتا ہے کہ رب تعالیٰ کو اس کے انبیاء و اولیاء بے حد محبوب ہیں ۔ اسے اپنا امر بھی محبوب ہے اور وہ شیاطین کو اور منہی عنہ کو ناپسند کرتا ہے۔ اگرچہ یہ سب کچھ اس کی مشیئت سے ہے۔ جنید بن محمد اور اس کے اصحاب کی جماعت کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہوا تھا۔ تو جنید نے انہیں دوسرے فرق کی طرف دعوت دی۔ وہ یہ اس کی مخلوقات میں اور اس کی محبوب اور غیر محبوب چیزوں میں فرق کریں ۔ لیکن انہیں اس میں اشکال ہو، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ہر مخلوق اس کی مشیئت سے ہے۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس کی مشیئت سے پیدا ہونے والی مخلوق میں اس کی محبوب مخلوق بھی ہے اور غیر محبوب بھی۔ سو جنید کی بات درست تھی۔

پانچویں وجہ :....یہ کہا جائے گا کہ ارادہ کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایک بمعنی مشیئت ہے اور یہ فاعل کا فعل کا ارادہ کرنا ہے یہ ارادہ فعل سے متعلق ہے۔ (۲) اور دوسرا یہ کہ وہ غیر سے اس بات کا ارادہ کر لے کہ وہ ایک فعل کرے یہ غیر کے فعل کا ارادہ کرنا ہے۔

لوگوں میں یہ دونوں معانی ہی معقول ہیں ۔ لیکن جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ امر یہ ارادہ کو متضمن نہیں ۔ وہ ارادہ کی صرف پہلی نوع کو ہی ثابت کرتے ہیں اور جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ افعالِ عباد کا خالق نہیں ، وہ صرف دوسرے ارادہ کو ثابت کرتے ہیں ۔

ان فدایہ کے نزدیک پہلے معنی میں رب تعالیٰ کا افعالِ عباد کا خالق ہونا متمنع ہے۔ کیونکہ اس نے ان کو ان کے نزدیک پیدا ہی نہیں کیا اور ان کے بالمقابل دوسرے، ان کے نزدیک رب تعالیٰ کا ارادہ بایں معنی متمنع ہے کہ وہ ارادہ خالق ہے اور جس کے پیدا کرنے کا اس نے ارادہ نہیں کیا اس کی بابت یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس کا ارادہ کرنے والا ہے۔ ان کے نزدیک وہ ہر مخلوق کا ارادہ کرنے والا ہے۔ چاہے وہ کفر ہی ہو اور اس نے جس کو پید انہیں کیا، اس کا اس نے ارادہ بھی نہیں کیا چاہے وہ ایمان ہی ہو۔

اگرچہ یہ لوگ حق کے زیادہ قریب ہیں ۔ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ دونوں قسم کا ارادہ ثابت ہے۔ جیسا کہ آئمہ اسلاف نے اس کو ثابت بھی کیا ہے۔ جیسا کہ جعفر نے کہا: ’’اس نے ان کا ارادہ بھی کیا اور ان سے ارادہ بھی کیا۔‘‘ اب ایک دوسرے کی خیر خواہی کا ارادہ کر کے اسے امرو نہی کرتا ہے اور اس کی نافع شی کو بیان کرتا ہے۔ چاہے اس کے ساتھ اس نے اس فعل پر اس کی اعانت کا ارادہ نہ بھی کیا ہو۔ کیونکہ دوسرے کو کسی بات کے امر و نصیحت کرنے میں مصلحت ہونے سےضروری نہیں کہ اس پر اس کی معاونت میں بھی مصلحت ہو۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ مصلحت اس امر و نصیحت کی ضد میں ہو۔

جیسے اگر ایک آدمی دوسرے سے ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجنے کا مشورہ لے اور وہ دوسرا اسے اس عورت سے نکاح کر لینے کو کہے کیونکہ اس مشورہ لینے والے کی مصلحت اسی میں تھی۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ خود مشورہ دینے والے کی مصلحت اس میں ہو کہ اس عورت سے شادی وہ خود کر لے نا کہ کوئی دوسرا۔ لہٰذا دوسرے کی خیر خواہی کے اعتبار اسے مشورہ دینا اور بات ہے اور خود اپنے لیے کوئی فعل کرنا دوسری بات ہے۔

تو جب مخلوق کے حق میں یہ فرق ممکن ہے تو خالق کے حق میں تو بدرجہ اولیٰ ممکن ہے۔ وہ خالق و مالک مخلوق کو رسولوں کی زبانی ان کی نافع باتیں بیان کرنا ہے اور انہیں ضرر رساں باتوں سے روکنا ہے۔ پھر ان میں سے کسی کے فعل کے خلق کا تو وہ ارادہ کرتا ہے اور اسے اس فعل کا فاعل بناتا ہے اور کسی کے فعل کے خلق کا ارادہ نہیں کرتا۔ سو رب تعالیٰ کا مخلوق کے افعال کے خلق کا اور دوسری مخلوقات کے خلق کا ارادہ کرنا اور بات ہے، اور اس کا بندوں کو اس اعتبار سے امر کرنا اور بات ہے کہ وہ ان کی مصلحت یا مفسدہ کو بیان کرے۔ رب تعالیٰ نے جب فرعون اور ابو لہب کو ایمان لے آنے کا حکم دیا تھا تو انہیں ان کی اس مصلحت اور منفعت کو بیان کر دیا جو امتثالِ امر میں موجود تھی اور انہیں امر دیتے ہوئے یہ ضروری نہ تھا کہ وہ ان کی اعانت بھی فرماتا۔ بلکہ بسا اوقات ان کے لیے اس فعل کے پیدا کرنے میں اور اس پر ان کی اعانت میں اس اعتبار سے مفسدہ ہوتا ہے کہ یہ اس کا فعل ہو۔ کیونکہ وہ جو بھی پیدا کرتا ہے کسی حکمت سے پیدا کرتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جب فعل مامور بہ کے بجا لانے میں مامور کی مصلحت ہو تو اس مامور کے فعل بجا لانے میں آمد کی بھی مصلحت ہو یا وہ مامور کو اس کا فاعل بنائے۔ لہٰذا کہاں خلق کا پہلو اور کہاں امر کا پہلو۔

یہ قدریہ دوسرے کو کسی بات کا امر دینے والے کے لیے ایک مثال بیان کرتے ہیں کہ مامور جس فعل کے زیادہ قریب ہو اس کا کرنا لازم ہے۔ جیسے چہرے کی تروتازگی، اور بیٹھنے کی جگہیں تیار کرنا وغیرہ۔

ان لوگوں کو اس کا جواب دو طرح سے دیا جائے گا:

صفحہ 3 از 6