فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد - ردِ رافضیت…

فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

۱۔ ایک یہ کہ آمر[حکم چلانے والے] نے دوسرے کو ایسی مصلحت کا حکم دیا ہو جو اس کی طرف لوٹتی ہو، جیسے بادشاہ کا فوج کو ایسی بات کا حکم دینا جس سے اس کا ملک مضبوط ہوتا ہے اور آقا کا غلام کو ایسی بات کا حکم دینا جس سے اس کے مال کی درستی ہوتی ہو اور آدمی کا اپنے شریک کو ایسی بات کا حکم دینا جس سے ان کے مشترکہ مفاد کی درستی ہوتی ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔

۲۔ دوسرا یہ کہ آمر مامور کی اعانت میں اس کی مصلحت دیکھے۔ جیسے امر بالمعروف کہ جب آمر برّ و تقویٰ میں مامور کی اعانت کر لے۔ کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ اللہ اسے طاعت پر معاونت میں اجر دے گا اور یہ کہ بندہ جب تک اپنے بھائی کی اعانت میں رہتا ہے اللہ اس کی اعانت میں رہتا ہے۔

غرض جب فرض کیا گیا کہ آمر مامور کو اس کی مصلحت کے لیے امر دیتا ہے۔ نا کہ اپنے کسی نفع کے لیے جو مامور کےکرنے سے اسے پہنچتا ہو، جیسے ناصح میشر۔ اور فرض کیا کہ جب وہ مامور کی اعانت کرے گا تو اس میں اس کی کوئی مصلحت نہیں ۔ کیونکہ مامور کی مصلحت کے حصول میں آمر کی مضرت ہوتی ہو۔ جیسے کوئی مظلوم کو ظالم سے بھاگ جانے کو کہے کہ اگر وہ اس میں مظلوم کی اعانت کرتا ہے تو اس میں دونوں کی یا کسی ایک مضرت ہے۔ جیسے وہ شخص جو بستی کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور یہ کہا تھا کہ:

﴿اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَo﴾ (القصص: ۲۰)

’’بے شک سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں ، پس نکل جا، یقیناً میں تیرے لیے خیرخواہوں سے ہوں ۔‘‘

یہاں اس کی مصلحت صرف اسی میں تھی کہ وہ جنابِ موسیٰ علیہ السلام کو بھاگ جانے کا ہی مشورہ اور امر دے نا کہ بھاگنے میں ان کی اعانت بھی کرے۔ کیونکہ اعانت میں اس کی قوم اسے نقصان پہنچاتی۔

اس کی مثالیں بے شمار ہیں ۔ جیسے آدمی کسی کو اس عورت سے نکاح کرنے کا کہے جس سے وہ خود نکاح کرنا چاہتا ہے۔ یا اسے وہ سامان خریدنے کو کہے جو وہ خود خریدنا چاہتا ہے، یا اسے وہ مکان کرایہ پر لینے کو کہے جسے وہ خود کرائے پر لینا چاہتا ہے۔ یا اسے ایسی قوم سے صلح کرنے کو کہے جس سے مامور کو نفع پہنچے حالانکہ وہ قوم آمر کی دشمن ہو اور صلح کرنے کے بعد وہ اور زیادہ قوی ہو جاتی ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔ کہ یہ وہ مثالیں ہیں جن میں آمر مامور کی معاونت نہیں کرتا، گو اس بات کے امر میں وہ مامور کے حق میں ناصح ہو اور اس امر کا ارادہ کرنے والا بھی ہو۔

غرض مامور کو ایک ایسے فعل کا امر کرنا جس کی مصلحت اسی کی طرف راجع ہو، یہ آمر کے اس کی اس مامور کو بجا لانے پر معاونت کرنے کے علاوہ ایک بات ہے۔ چاہے وہ مامور کی اعانت کر بھی سکتا ہو۔

پس جب یہ کہا جائے گا کہ رب تعالیٰ نے بندوں کو ان افعال کا امر دیا ہے جن میں ان کی مصلحت ہے اور ان کی مصلحت کا اس نے ارادہ بھی کیا، تو اس سے یہ لازم نہیں آتا وہ مامور بہ میں ان کی معاونت بھی کرے گا۔ بالخصوص قدریہ کے نزدیک، وہ اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ وہ کسی کی ایسی اعانت کرے جس سے وہ فاعل بن جائے۔ کیونکہ اگرچہ اس کے افعال معلل بالحکمت نہیں لیکن وہ ایک مراد کی دوسری مراد سے تمیز کے بغیر جو چاہے کرتا ہے۔ اس توجیہ کی بنا پر کسی فعل کی لمیت ہونا متمنع ہے چہ جائیکہ وہ فرق کو طلب کرے۔

اگر اس کے افعال کو معلل بالحکمت کہا جائے اور یہ کہا جائے کہ لمیت نفس الامر میں ثابت ہے۔ چاہے ہم نہیں بھی جانتے۔ تو بھی یہ لازم نہیں آتا کہ جب نفس الامر میں امر میں حکمت ہو تو مامور بہ کی اعانت میں بھی حکمت ہو گی۔ بلکہ بسا اوقات حکمت اس بات کو مقتضی ہوتی ہے کہ مامور بہ میں اعانت نہ کی جائے۔ کیونکہ جب مخلوق میں یہ بات ممکن ہے کہ حکمت و مصلحت کا مقتضی یہ ہو کہ آدمی غیر کو ایک ایسی بات کا امر دے جس میں اس کی مصلحت ہو جبکہ آمر کی حکمت و مصلحت اسی میں ہو کہ وہ اس کی اس امر میں اعانت نہ کرے، تو رب تعالیٰ کے حق میں اس بات کا امکان بدرجہ اولیٰ ہوگا۔سو رب تعالیٰ کفار کو ایک بات کا حکم دیتا ہے جسے کے بجا لانے میں ان کی مصلحت ہوتی ہے۔ لیکن وہ اس امر میں ان کی معاونت نہیں کرتا اور نہ اس کو پیدا فرماتا ہے۔ جیسا کہ اس نے متعدد ایسے امور کو پیدا نہیں کیا کہ حکمت و مصلحت کا کمال ان کے پیدا نہ کرنے میں ہی تھا۔

جب مخلوق یہ دیکھتی ہے کہ رعایا کے ایک فرد کی مصلحت اس میں ہے کہ وہ تیر اندازی اور اسباب مملکت کو سیکھے تاکہ ملک کو حاصل کر کے جبکہ خود اپنے بچے مصلحت وہ اس میں دیکھتا ہے کہ وہ شخص قوی نہ بنے کہ مبادا اس کے بچے سے اس کا ملک چھین لے۔ یا اس پر چڑھ دوڑے۔ تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس شخص کو تو وہ حکم دے جس میں اس کی مصلحت ہو، جبکہ خود وہ کرے جس میں اس کی اولاد اور رعایا کی مصلحت ہو۔

غرض مصالح و مفاسد نفوس کے مناسب و منافی ہوا کرتے ہیں ۔ پس مامور کے مناسب وہ ہے جس کا اس کے ناصح نے اسے حکم دیا ہے اور آمر کے مناسب یہ ہے کہ اس مامور کو اس کی مراد حاصل نہ ہو۔ کیونکہ اس میں آمر کے مصالح اور مرادات کی تفویت ہوتی ہے۔

یہ نہایت عمدہ نکتہ ہے جسے وہی ثابت کرتا ہے جو رب تعالیٰ کے خلق و امر میں اس کی حکمت کو جانتا ہو اور وہ رب تعالیٰ کو بعض امور کے ساتھ محبت و فرح کے ساتھ متصف کرتا ہو، اور یہ کہ کبھی محبوب کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ مگر جبکہ جب اس کی ضد کو دفع کرے اور اس کے لازم کو موجود کرے۔ کیونکہ اجتماعِ ضدین متمنع ہے اور ملزوم کا وجود لازم کے وجود کے بغیر متمنع ہے۔

اسی لیے رب تعالیٰ ہر حال میں محمود ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اسی کی تعریف ہے دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی۔ حکم اسی کا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

صفحہ 4 از 6