فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد - ردِ رافضیت…

فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

سو جو بھی موجود ہے، وہ اللہ اس پر محمود ہے اور وہ چیز جو معلوم اور مذکور ہے وہ اس پر محمود ہے اور وہ اپنی ذات میں اپنے جن اسماء و صفات کے ساتھ متصف ہے، اس پر اس کی حمد ہے اور اس کی حمد ہے اس کے خلق و امر پر۔ وہ اپنی ہر آفرینش پر محمود ہے چاہے اس میں بعض لوگوں کے لیے ایک نوع کا ضرر ہو۔ کیونکہ اس میں اس کی حکمت ہے اور وہ اپنے ہر امر میں محمود ہے، کیونکہ اس میں ہدایت اور بیان ہے۔ اسی لیے اس کی حمد ہے آسمانوں بھر، اور زمینوں بھر اور درمیان کی سب فضاؤں میں اور اس کے بعد جو اس نے چاہا، اس کے بقدر۔ کہ یہ سب اس کی مخلوق ہے اور اس کے بعد وہ جو بھی چاہے گا وہ اس کی مخلوق ہو گی اور وہ اپنی ہر آفرینش پر محمود ہے۔

اب مخلوق میں ذکر کی گئی گذشتہ مثالیں اگرچہ ان کی نظیر رب کے حق میں نہیں ذکر کی جاتی۔ لیکن یہاں یہ مقصود ہے کہ حکیم مخلوق میں یہ بات ممکن ہے کہ وہ غیر کو ایک بات کا امر کر کے خود اس پر اعانت نہ کرے۔ تو خالق و مالک اپنی حکمت کے اس بات کا زیادہ مستحق ہے سو جس کو اس نے امر دیا اور فعل مامور میں اس کی اعانت بھی کی۔ تو اس مامور بہ سے اس کی خلق اور امر متعلق ہو گیا اور اس نے اس کی آفرینش اور محبت کو چاہا۔ سو وہ جہت خلق اور جہت امر دونوں اعتبار سے مراد ہوااور جس کی اس نے فعل مامور میں اعانت نہیں کی، تو اس مامور کے ساتھ اس کا امر تو متعلق ہوا لیکن اس کی آفرینش متعلق نہ ہوئی کیونکہ وہ حکمت معدوم تھی جو خلق کے اس سے متعلق ہونے کو مقتضی تھی اور وہ حکمت حاصل تھی جو اس کی ضد کے خلق سے متعلق تھی۔

دو ضدین میں سے ایک کا خلق دوسری ضد کے منافی ہے۔ کیونکہ بندے میں اس بیماری کا پیدا کرنا جس سے اس میں اپنے رب کے آگے ذلت و زاری، گریہ و دعا، توبہ و انابت پیدا ہوتی ہو، گناہوں کی تکفیر ہوتی ہو، دل مر جائے، ؟؟ اکڑ نکل جائے، سرکشی و فعلی جاتی رہے ک یہ اس صحت کے خلق کے منافی ہیں جس کے ہوتے ہوئے یہ مصالح و منافع حاصل نہیں ہو سکتے۔

اسی طرح ظالم کے ظلم کو پیدا کرنے سے مظلوم میں وہی صفات پیدا ہوتی ہوں جو مرض کی وجہ سے پیدا ہوتی ہوں یہ اس عدل کو پیدا کرنے کے منافی ہیں جس کے ذریعے یہ مصالح و منافع حاصل نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ اس کی مصلحت اس میں ہو کہ عدل ہو۔

بندوں کی عقلیں اس بات کے سمجھنے سے قاصر و درماندہ ہیں کہ انہیں رب تعالیٰ کے خلق و امر کی حکمتیں معلوم ہوں ان قدریہ نے فاسدہ طریقہ سے تعلیل کے میدان میں قدم رکھا اور اس باب میں انہوں نے رب تعالیٰ کو اس کی خلق سے تشبیہ و تمثیل دے ڈالی اور وہ حکمت ثابت نہ کی جو اس کی طرف لوٹتی ہے۔ ان لوگوں نے رب تعالیٰ کی صفاتِ کمال جیسے حکمت و قدرت اور محبت وغیرہ رب تعالیٰ کے حق میں سلب مان لیا۔ پھر ان کے مد مقابل جھمیہ جبریہ وہ طریق اپنایا کہ انہوں نے نفس الامر حکمت و تعلیل کو ہی باطل کہہ ڈالا۔ جیسا کہ انہوں نے حسن و قبیح کے مسئلہ میں نزاع کیا کہ ان لوگوں سے اس کو اس طریق سے ثابت کیا کہ اس میں اللہ اور مخلوق کو ایک صف میں کھڑا کر دیا اور ایسا حسن و قبیح ثابت کیا جو محبوب و مکروہ کو متضمن نہیں ۔ بے شک یہ قول بے حقیقت ہے۔ جیسا کہ انہوں نے اس تعلیل کو ثابت کیا جس کا حکم فاعل کی طرف سے لوٹتا۔

تو ان کے مقابلوں نے جملہ افعال ایک کر دیے اور انہوں نے اللہ کے لیے نہ مکروہ ثابت کیا اور نہ محبوب۔ ان کا گمان ہے کہ اگر تو حسن فعل کی صفتِ ذاتیہ ہے تو اس کا حال مختلف نہیں ۔ لیکن یہ ان کی خطا ہے۔ کیونکہ موصوف کی صفتِ ذاتیہ سے کبھی اس کا لازم مراد ہوتا ہے۔ یہ منطقی لازم کو ذاتی اور عرضی میں تقسیم کرتے ہیں ۔ اگرچہ یہ تقسیم غلط ہے۔ اور کبھی صفتِ ذاتیہ سے مراد وہ صفت ہوتی ہے جو ثبوتی اور موصوف کے ساتھ قائم ہو تاکہ امورِ نسبتیہ اضافیہ سے احتراز ہو جائے۔

اس باب میں یہ لوگ احکام شرعیہ میں شدید اضطراب کا شکار ہو گئے۔ سو حسن و قبیح عقلیہ کے نفاۃ کا گمان یہ ہے کہ یہ نہ تو افعال کی صفتِ ثبوتیہ ہے اور افعال کی صفتِ ثبوتیہ کو مستلزم ہے۔ بلکہ یہ صفاتِ نستبیہ اضافیہ میں سے ہے۔ سو حسن کے بارے میں صرف یہ کہا جائے گا کہ اسے کر لے۔ یا یہ کہ اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں اور قبیح کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ اسے مت کر۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ قول سے متعلق قول کی کوئی صفتِ ثبوتیہ نہیں اور یہ لوگوں اپنے منازعین کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ان کا قول ہے کہ: احکام یہ افعال کی صفتِ ذاتیہ ہیں ۔ لیکن انہوں نے اس کی نقیض یہ پیش کی ہے ک جنس کے ایک ہونے کے باوجود احکام میں تغیر تبدل ہو سکتا ہے۔

اس کی تحقیق یہ ہے کہ افعال کے احکام صفاتِ لازمہ میں سے نہیں ہیں ۔ بلکہ یہ افعال کی صفتِ عارضہ ہیں ۔ جو ان ی مناسبت اور منافرت کے اعتبار سے ہیں ۔ لہٰذا حسن اور قبیح اس اعتبار سے ہو گا کہ ایک شی محبوب یا مکروہ، نافع یا ضار، یا مناسب اور غیر مناسب ہو، اور یہ موصوف کی صفتِ ثبوتیہ ہے۔ لیکن اس میں شی کے احوال کے تنوع سے تنوع آتا ہے۔ البتہ یہ اسے لازم نہیں ۔

جس نے یہ کہا ہے کہ افعال میں ایسی کوئی صفت نہیں ہوتی جو حسن و قبیح کو مقتضی ہو۔ تو یہ اس کے اس قول کے بمنزلہ ہے کہ اجسام میں ایسی کوئی صفات نہیں جو تسخین (گرم کرنا) اور تبرید (ٹھنڈا کرنا) کو اور اِشباعِ (پیت بھرنا) اور راء واء (پیاس بجھانا) کو مقتضی ہو۔ پس اعیان کی ان صفات کا سلب جو آثار کو مقتضی ہوں ، یہ افعال کو ان صفات کے سلب کے جیس اہے جو آثار کو مقتضی ہوں ۔

البتہ اعیان کی صفات اور طبائع و آثار کو ثابت کرنے والے جمہور مسلمان ہیں ۔ اسی طرح وہ اشیاء میں حسن و قبیح کو بھی ثابت کرتے ہیں ۔ جو ان کی مناسبت اور منافرت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

﴿یَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰٓئِثَ﴾ (الاعراف: ۱۵۷)

’’جو انھیں نیکی کا حکم دیتا اور انھیں برائی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتا اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے۔‘‘

صفحہ 5 از 6