فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد - ردِ رافضیت…

فصل:....کافر کا کفر اور اہل سنت پر الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 6

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ فعل فی نفسہ معروف بھی ہوتا ہے اور منکر بھی اور مطعوم طیب بھی ہوتا ہے اور خبیث بھی اور اگر اعیان میں اور افعال میں کوئی صفت نہیں ہوتی مگر جب امرو نہی اس کے متعلق ہو۔ تو پھر اس آیت کی تقدیری عبارت یوں ہوتی: ’’وہ انہیں امر دیتا ان باتوں کا جن کا وہ حکم دیتا ہے اور انہیں ان باتوں سے روکتا ہے جن سے روکتا ہے اور ان کے لیے وہ حلال کرتا ہے جو ان کے لیے حلال کرتا ہے اور ان پر وہ حرام کرتا ہے جو ان پر حرام کرتا ہے۔ حالانکہ رب تعالیٰ ایسے کلام سے منزہ اور پاک ہے اسی طرح ارشاد ہے:

﴿وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَ سَآئَ سَبِیْلًاo﴾ (الاسراء: ۳۲)

’’اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔‘‘

اور فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ﴾ (الاعراف: ۲۸)

’’بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔‘‘اور اس کی نظائروامثال بے شمار ہیں ۔


صفحہ 6 از 6