ترکوں سے پہلا معرکہ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عبدالرحمٰن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے نام ترکوں پر لشکر کشی کا جب حکم آیا تو آپؓ نے کارروائی شروع کی اور حکم فاروقی کی تعمیل میں اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ’’باب‘‘ سے آگے بڑھے۔ یہ پیش قدمی دیکھ کر شہربزار نے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ترکوں کے بادشاہ بَلَنْجَرْ کو زیر کرنا ہے۔ شہر بزار نے کہا کہ ہمیں ان سے صلح کر لینی چاہیے۔ ہم باب کے پیچھے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ نے جواب دیا: اللہ نے ہمارے پاس رسول بھیجا، اس کی زبان سے ہمیں اپنی مدد وکامیابی کا یقین دلایا اور اب تک ہم بحمد اللہ کامیاب ہوتے رہے ہیں، پھر آپؓ نے آگے بڑھ کر ترک والوں سے جنگ کی اور بلنجر کے حدود سلطنت میں دو سو فرسخ تک اندر گھستے چلے گئے۔ متعدد حملے کیے اور پھر دور عثمانی میں بھی آپؓ کے مثالی کارنامے رہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 142 تا 147)