اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ: -…

اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ

چوتھی بات: [الزام]: ابن المطہر کا یہ عقیدہ کہ:’’ اہل سنت ذات باری تعالیٰ کے لیے عدل و حکمت کا اثبات نہیں کرتے۔ ان کی رائے میں اللہ تعالیٰ افعال قبیحہ اور اخلال بالواجب کا مرتکب ہو سکتا ہے۔‘‘ 

[جواب]: (یہ بات ) دو لحاظ سے باطل ہے۔ 

پہلی وجہ یہ ہے کہ بہت سے اہل سنت والجماعت جو خلافت کے بارے میں منکر نصوص ہیں ؛ اور بارہ اماموں کو بھی نہیں مانتے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے عدل و انصاف کا اثبات ایسے ہی کرتے ہیں جیسا کہ شیعہ مصنف کی تحریر میں بیان ہوچکاہے۔مصنف اور اس کے شیوخ اور دیگر لوگوں نے یہ عقیدہ معتزلہ سے لیا ہے۔ متاخرین روافضہ بھی اس عقیدہ میں ان کے ہم نوا بن گئے ہیں ۔پس اس عقیدہ کو تمام اہل سنت والجماعت کی طرف منسوب کرنا سوائے شیعہ کے ‘ یہ اس مصنف کی طرف سے ایک جھوٹی بات ہے ۔

دوسری وجہ : وہ تمام اہل سنت والجماعت جو تقدیر کا اقرار کرتے ہیں ‘ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو یہ کہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ عادل نہیں ‘یا پھرحکیم نہیں ۔ اور ان میں سے کوئی ایک ترک واجب کے جواز کا بھی نہیں کہتا۔ اور کوئی بھی اسے قبائح کا مرتکب نہیں ٹھہراتا۔ ، اہل اسلام میں جو شخص علی الاطلاق ایسا عقیدہ رکھتا ہو اور وہ بالاتفاق مباح الدم ہے۔ لیکن مسئلہ قدر اور اس طرح کے دیگر مسائل میں مسلمانوں کے مابین اختلاف بڑا مشہور و معروف ہے۔

مسئلہ تقدیراور شیعہ امامیہ :

[تقدیر کا مسئلہ متنازع فیہا ہے]۔ جب کہ قدر کی نفی کرنے والے جیسے معتزلہ اور ان کے ہم نوا؛ان کا وہی عقیدہ ہے جو متاخرین امامیہ کاہے۔جب کہ قدر کوثابت کرنے والے جمہورائمہ اہل اسلام صحابہ و تابعین اور اہل بیت اور دوسرے لوگوں کے مابین یہ امر اختلافی ہے کہ خداوندی عدل و حکمت اور اس ظلم سے کیا مراد ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا منزہ ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے افعال و احکام کے معلل ہونے میں بھی اختلاف ہے:

۱۔ ایک گروہ کا نقطۂ نظریہ ہے کہ اللہ سے ظلم کا صدور ممکن نہیں اور وہ جمع بین الضدین کی طرح ذات باری کے لیے محال لذاتہ ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو چیز ممکن ہو اور قدرت الٰہی کے دائرہ میں داخل ہو اسے ظلم سے تعبیر نہیں کر سکتے۔

ان لوگوں کا کہنا ہے : مثلاً اللہ تعالیٰ اگر اطاعت شعار کو عذاب میں مبتلا کر دے اور عاصی پر انعامات کی بارش کرے تو بقول ان کے یہ ظلم نہیں ۔ وہ کہتے ہیں : ظلم اس تصرف کا نام ہے جس کا حق حاصل نہ ہو، جب کہ اللہ تعالیٰ جملہ اختیارات سے بہرہ ور ہے۔یا پھر ظلم وہ ہے جس میں کسی کے حکم کی مخالفت ہو۔ اللہ تعالیٰ تو خود حکم دینے والا ہے۔ تو اس کا یہ فعل ظلم کیوں کر ہوا؟ عقیدہ قدر پر ایمان رکھنے والے بہت سے متکلمین اور فقہاء اور اصحاب ائمہ اربعہ یہی رائے رکھتے ہیں ۔

۲۔ دوسرے گروہ کی رائے ہے کہ ظلم قدرت الٰہی کے احاطہ میں داخل ہے۔ اور وہ ممکنات میں سے بھی ہے ؛چونکہ اللہ تعالیٰ عادل ہے اس لیے وہ ظلم کا ارتکاب نہیں کرتا، اس نے خود اپنی ذات کی مدح ان الفاظ میں فرمائی ہے:

﴿ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا﴾ (یونس۴۴)

’’بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔‘‘

ظاہر ہے کہ مدح اسی کام کے چھوڑنے پر کی جا سکتی ہے جس کے کرنے پر قدرت رکھتا ہو؛ نہ کہ وہ کام ترک کرنے پر جس پر کوئی قدرت ہی نہ ہو۔ان لوگوں کا کہنا ہے : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخَافُ ظُلْمًا وَّلَا ہَضْمًا﴾ (طہ:۱۱۲)

’’جو حالت ایمان میں نیک کام کرے وہ ظلم اور کمی سے نہیں ڈرے گا۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ : ظلم یہ ہوگا کہ کسی پر دوسرے کی برائیوں کا بوجھ ڈال دیا جائے۔اور ہضم یہ ہوگا کہ اس کی نیکیوں کا اجر نہ دیا جائے۔ جب کہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآئِ الْقُرٰی نَقُصُّہٗ عَلَیْکَ مِنْہَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌoوَ مَا ظَلَمْنٰہُمْ وَ لٰکِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ ﴾ [ھود۱۰۰۔۱۰۱]

’’یہ ان بستیوں کی چند خبریں ہیں جو ہم آپ کیلئے بیان کرتے ہیں ، ان میں سے کچھ کھڑی ہیں اور کچھ کٹ چکی ہیں ۔اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن انھوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ خبر دی ہے کہ اس نے جب ان لوگوں کوہلاک کیا توان پرکوئی ظلم نہیں کیا ؛ بلکہ انہیں ہلاک کرنا ان کے گناہوں کی وجہ سے تھا ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے :

﴿ وَجِیئَ بِالنَّبِیِّینَ وَالشُّہَدَائِ وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ﴾ [الزمر۶۹]

’’اور نبی اور گواہ لائے گئے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔‘‘

یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان بغیر حق کے فیصلہ کرنا ظلم ہے۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس سے منزہ ہے ۔ جیساکہ ارشاد ربانی ہے :

﴿وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا ﴾ [انبیاء۴۷]

’’اور ہم بروز قیامت انصاف کے ترازو رکھیں گے ، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا۔‘‘

مراد یہ ہے کہ ان کی نیکیوں میں سے کچھ بھی کم نہ کیا جائے گا۔ اورنہ ہی کسی کو بغیر گناہوں کے سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ایسے افعال سے منزہ و مبرا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

﴿ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِِلَیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ oمَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَمَا اَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیدِ ﴾ (ق: ۲۹)

’’میرے پاس جھگڑا مت کرو، حالانکہ میں نے تو تمھاری طرف ڈرانے کا پیغام پہلے بھیج دیاتھا ۔میرے ہاں بات بدلی بھی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ہرگز کوئی ظلم ڈھانے والا بھی نہیں ۔‘‘

صفحہ 1 از 5