اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ: -…

اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

مذکورہ [بالا] آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو اس امر سے منزہ قرار دیا ہے، جس پر وہ قدرت رکھتا ہے نہ کہ ایک محال بات سے جس پروہ سرے سے قادر ہی نہیں ۔اس طرح کے قرآن مجید میں کئی ایک مواقع ہیں جن سے واضع ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان انصاف کریگا۔اور ان کے مابین عدل کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور عدل سے فیصلہ نہ کرنا ظلم ہوگا ‘ جب کہ اللہ تعالیٰ ظلم سے بری ہے ۔ اور کسی ایک پر دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی﴾ [الانعام۱۶۴]

’’اور کسی جی پر کسی دوسرے کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نامناسب چیزوں سے اپنے آپ کو منزہ و بری قرار دیتے ہیں ۔ بلکہ ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہوگا جو اس نے خود کیا ہو۔ اور اسی گناہ کا بوجھ اس پر لادا جائے گا جو اس نے خود کمایا ہو۔

صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’اے میرے بندو ! میں نے اپنی ذات پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے؛ اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کرتا ہوں ‘ پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا۔‘‘ [صحیح مسلم۔ کتاب البروالصلۃ۔ باب تحریم الظلم (حدیث:۲۵۷۷)۔]

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ پر ظلم کو حرام کر رکھا ہے جس طرح اس نے رحمت کو اپنے لیے ضروری قرار دے رکھا ہے، قرآن کریم میں فرمایا ہے:

﴿ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ﴾ (الانعام:۱۲)

’’اس نے رحمت کو اپنی ذات پر لکھ رکھا ہے۔‘‘[واجب کردیا ہے]

صحیح حدیث میں وارد ہے:’’اللہ تعالیٰ نے جب مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا تو ایک کتاب میں جو عرش پر رکھی ہے یہ الفاظ تحریر کیے: ’’ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔‘‘

ظاہر ہے کہ جس چیز کو ذات باری نے اپنے لیے واجب یا حرام کر رکھا ہے، وہ اس پر قادر ہے اس لیے کہ جو چیز ممکنات میں سے نہیں وہ اللہ کی ذات پر حرام یا واجب کیوں کر ہو سکتی ہے؟اکثر اہل سنت محدثین و مفسرین نیز فقہاء صوفیا اور متکلمین اور ائمہ اربعہ کے ماننے والے؛ جو تقدیر کے قائل ہیں یہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔[جو اللہ تعالیٰ کے لیے صفت قدرت کو ثابت مانتے ہیں ۔ ]

پس اس عقیدہ کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کے عدل اور احسان کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں ۔ اس میں وہ قدریہ شامل نہیں ہیں جو کہتے ہیں کہ : کبیرہ گناہ کے مرتکب کا ایمان ضائع ہوجاتا ہے۔ اور اس قسم کے ظلم سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی پاکیزگی اور تقدیس و نزاہت بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : 

﴿ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ 0وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ﴾ [الزلزلۃِ: 7 ۔8 ]

’’پس جو کوئی ذرا بھر بھلائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا؛ اور جو ذرا بھر برائی کرے گا؛ اسے دیکھ لے گا۔‘‘

جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ مومن کو ہدایت یاب کر کے اس پر احسان دھرنا اور کافر کو اس سے محروم رکھنا ظلم ہے، اس کا یہ عقیدہ دو اعتبار سے جہالت پر مبنی ہے۔

پہلی وجہ : چونکہ مومن کافر پر فضیلت رکھتا ہے بنا بریں وہ اس اعزاز کا مستحق ہوا،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدَاکُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴾ (الحجرات: ۱۷)

’’بلکہ اللہ تم پر احسان دھرتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی جانب راہ دکھائی اگر تم سچے ہو۔‘‘

دوسری جگہ انبیاء کرام علیہم السلام کی زبانی ارشاد ہوا:

﴿ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ﴾ (ابراہیم: ۱۱)

’’ہم تو صرف تمہاری طرح کے انسان ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنا احسان فرماتا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَھٰٓؤُلَآئِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ ﴾[الأنعامِ: 53]۔

’’اوریونہی ہم نے ان کے بعض کو بعض آزمایا؛ تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں ۔‘‘

پس اس گروہ کو ایمان کے لیے خاص کرنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی کو علم و قوت اور صحت و جمال اور مال میں مزید عنایت سے بہرہ ور کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:

﴿اَہُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَۃَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَعِیْشَتَہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا﴾[الزخرفِ: 32 ]

’’کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں ؟ہم نے ان کے درمیان ان کی معیشت دنیا کی زندگی میں تقسیم کی اور ان میں سے بعض کو بعض پر درجوں میں بلند کیا، تاکہ ان کا بعض، بعض کو تابع بنالے‘‘

جب اللہ تعالیٰ نے دو اشخاص میں سے کسی ایک کو قوت کے ساتھ خاص کیا ہو؛ اور اس کے ساتھ ہی ایسی طبیعت دی ہو؛ جو کہ عمدہ اور مناسب غذا کا تقاضا کرتی ہے؛ تو اسے اس چیز کے ساتھ خاص کیا ہے جو اس کی صحت و عافیت کے لیے مناسب ہے ۔اور جب دوسرے کو یہی چیز نہیں ملتی؛ اور اس میں نقص آتا ہے۔ اور کمزوری پیدا ہوجاتی ہے۔ یا بیمار ہوجاتا ہے۔

ظلم تو یہ ہوتا ہے کہ : کسی چیز کو ایسی جگہ پر رکھا جائے جو اس کے لیے مناسب نہ ہو۔ پس اللہ تعالیٰ تو کبھی بھی کسی ایسے کو سزا نہیں دیتے جو اس کا مستحق نہ ہو۔ وہ کبھی بھی احسان کرنے والے کو سزانہیں دیتے۔

، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

صفحہ 2 از 5