اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ: -…

اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

’’ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اور اس کو رات اور دن کی بخشش بھی کم نہیں کرتی ہے اور آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے دیکھا کہ جب سے آسمانوں اور زمین کو اللہ نے پیدا کیا ہے کس قدر خرچ کیا ہے اور جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے اس میں کمی نہیں ہوئی اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے کہ کسی کے لئے اس کو جھکا دیتا ہے اور کسی کے لئے اونچی کر دیتا ہے۔‘‘ [البخارِی9؍122۔ِکتاب التوحِیدِ ؛ مسلِم 3؍690 ۔کتاب الزکاۃِ، باب الحثِ علی النفقۃِ؛ سنن ابن ماجہ 1؍71۔المقدِمۃ، باب فِیما أنکرتِ الجہمِیۃ۔]

پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ عدل بھی کرتے ہیں احسان بھی کرتے ہیں ۔ اور اس کا فعل عدل اور احسان سے باہر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو سزا دیتا ہے جو اس کا مستحق ہو؛ نیز نیکوکار کو کبھی عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔اسی لیے یہ مثل مشہور ہے:

’’کُلُّ نِعْمَۃٍ مِّنْہُ فَضْلٌ وَکُلُّ نِقْمَۃٍ مِنْہُ عَدْلٌ۔‘‘

’’ ہراحسان اس کا فضل ہے اور ہر سزا اس کا عدل ہے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے سزا دیتے ہیں ۔ اور ان پر اس کی نعمتوں کا ہونااس کا احسان محض ہے ۔ جیسا کہ صحیح حدیث قدسی میں ہے: ’’ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے اللہ عزوجل نے فرمایا:

’’ اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو........ اے میرے بندو یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لئے اکٹھا کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو بہتر بدلہ نہ پائے تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔‘‘ [مسلِم۴؍۱۹۹۴۔کتاب البِرِ والصِلۃِ والآدابِ، باب تحرِیمِ الظلمِ ؛ سنن التِرمِذِیِ۴؍۶۷۔کتاب صِفۃِ القِیامۃِ، باب۱۵؛حدِیث رقم۲۶۱۳۔ سنن ابن ماجہ ۲؍۱۴۲۲۔]

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ﴾[النِساء:79]

’’آپ کو جو بھلائی پہنچے سو اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے سو تیرے نفس کی طرف سے ہے۔‘‘

یعنی تمہیں جو بھی اچھائی ملتی ہے؛ جسے تم لوگ پسند کرتے ہو؛ جیسے فتح و نصرت؛ رزق وغیرہ۔ یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی تم پر انعام کرتے ہیں ۔ اور جو کچھ تمہیں آزمائش آتی ہے جسے تم نا پسند کرتے ہو؛ تو وہ بھی تمہارے گناہوں کی اور غلطیوں کی وجہ سے ہے۔ نیکیاں اور بدیاں یہاں پر ان سے مراد نعمتیں اور مصائب ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان گرامی ہے:

﴿ وَبَلَوْنَاہُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّـئَاتِ ﴾ (الاعراف:۱۶۸)

’’ہم نے ان کو بھلائی و عافیت اور تکلیفات سے آزمایا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اِنْ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ﴾ (التوبہ:۵۰)۔

’’اگر تجھے آرام پہنچتا ہے تو انہیں برا محسوس ہوتا ہے۔‘‘

مزید ارشاد فرمایا:

﴿ اِنْ تَمْسَسْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَۃٌ یَّفْرَحُوْا بِہَا﴾(آل عمران: ۱۲۰)

’’اگر تمہیں خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو انہیں برا محسوس ہوتا ہے اور اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں ۔‘‘

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے :

﴿وَ اِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً فَرِحُوْابِھَا وَ اِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ اِذَاھُمْ یَقْنَطُوْنَ ﴾[الرومِ: 36]

’’اور جب ہم لوگوں کو رحمت چکھاتے ہیں وہ اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو اچانک وہ نا امید ہو جاتے ہیں ۔‘‘

اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ لوگوں کو جو کچھ خیر و بھلائی ملتی ہے؛ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو وہ اپنے بندوں پر احسان فرماتے ہیں ۔ اور جو کچھ ان پر مصیبت آتی ہے؛ وہ ان کے گناہوں کی وجہ سے ہے۔ اور یہ پوری گفتگو دوسری جگہ پر تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے۔

اور یہی حال حکمت کے بارے میں بھی ہے۔ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ حکمت سے موصوف ہیں ۔ لیکن اس کی تفسیر میں اختلاف اور تنازعہ ہے۔

ایک گروہ کا کہنا ہے کہ حکمت کا افعال العباد سے متعلق اس کا علم ہے۔ کہ ان افعال کا ایسے ہی واقع ہوننا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے ۔ اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے صرف علم ارادہ اور قدرت کی صفات کو ثابت مانتے ہیں ۔

کیا افعال الٰہی معلل ہیں ؟:

مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ موصوف بالحکمت ہے۔مگر اس کی تفسیر میں ان کے مابین اختلاف ہوا ہے۔ ایک گروہ کے نزدیک حکمت کے معنی یہ ہے کہ اسے افعال العباد کا علم ہے اور وہ حسب ارادہ ان کو وجود میں لاتا ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے صرف علم ‘ ارادہ اور قدرت کی صفات کو ثابت مانتے ہیں ۔

جمہور اہل سنت کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خلق و امر میں حکیم ہے، حکمت سے مشیت علی الاطلاق مراد نہیں ، اگر ایساہوتا تو ہر صاحب ارادہ حکیم بھی ہوتا۔ ظاہر ہے کہ ارادہ کی دو قسمیں ہیں :

۱۔محمود ۲۔مذموم

اللہ تعالیٰ کے خلق و امر میں جواچھے انجام کار اور بہترین نتائج پائے جاتے ہیں اسی کو حکمت کہتے ہیں ۔ان الفاظ میں حکمت کا اثبات معتزلہ اور ان کی موافقت رکھنے والے شیعہ کا قول نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان گروہوں میں سے جمہور کا یہی قول ہے ۔مفسرین ‘محدثین ؛ صوفیاء؛ اہل کلام ‘ اور دوسرے لوگ یہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔ ائمہ فقہاء احکام شریعت میں اللہ تعالیٰ کے لیے حکمت ‘ اور مصلحت کے اثبات پر یک زبان اور متفق ہیں ۔اس میں تنازعہ کرنے والے فقط تقدیر کے منکر اورکچھ دوسرے لوگ ہیں ۔ اور ایسے ہی اس کی تخلیق میں بندوں کے لیے جو مصلحتیں اور حکمتیں ہیں وہ معلوم شدہ ہیں ۔

پہلے نظریہ کے قائلین جہم بن صفوان اور اس کی موافقت رکھنے والے مثلاً ابو الحسن اشعری اور ان کے ہم خیال فقہاء ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے اصحاب کا قول ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ :

صفحہ 3 از 5