اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ: -…

اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

[صحیح بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب ما جاء فی قول اللّٰہ تعالیٰ﴿ وَ ہُوَ الَّذِیْ یَبْدَئُ الْخَلْق....﴾ (ح:۳۱۹۴) صحیح مسلم، کتاب التوبۃ۔ باب فی سعۃ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ (ح:۲۷۵۱)۔]

قرآن کریم میں جن افعال الٰہیہ کا ذکر آیا ہے ان میں لام تعلیل نہیں بلکہ لام عاقبت ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کے افعال معلل نہیں ہیں )۔

بخلاف ازیں جمہور کے نزدیک لام تعلیل اللہ تعالیٰ کے افعال و احکام میں داخل ہے۔ قاضی ابو یعلیٰ ؛ ابو الحسن بن الزاغونی اور ان کے ہم نوا و ہم خیال امام احمد رحمہ اللہ کے ساتھی اگرچہ پہلے قول کے قائل ہیں ‘ لیکن کئی ایک مقامات پر ان سب سے یہ دوسرا قول بھی منقول ہے۔ اور امام شافعی ‘ امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں اور دیگر فقہاء سے بھی اس طرح کا قول منقول ہے۔

اب ابن عقیل، قاضی (بعض مواقع پر) ابوخازم بن القاضی ابی یعلی اور ابو الخطاب وغیرہ رب تعالیٰ کے افعال میں حکمت اور تعلیل کی تصریح کرتے ہیں جو اس باب میں اہل نظر کے قول کے موافق ہے اور منفیہ جو اہل سنت ہیں اور تقدیر کے قائل ہیں ، ان کے جمہور کا قول تعلیل اور مصالح کا ہے۔

ادھر کرامیہ بھی تعلیل کے قائل ہیں ، جوتقدیر مانتے ہیں اور جو جنابِ ابوبکر، جناب عمر اور جناب عثمان رضی اللہ عنہم کے لیے تفضیل خلافت کے قائل بھی ہیں کہ یہ بھی تعلیل اور حکمت کا قول کرتے ہیں ۔

پھر امام مالک امام شافعی اور امام احمد کے اکثر اصحاب تعلیل، حکمت اور عقلی تحسین و تقبیح کے قائل ہیں جیسے ابوبکر قفّال ابو علی بن ابی ہریرہ وغیرہ اصحاب شافعی اور اصحاب احمد میں سے ابو الحسین تمیمی اور ابو الخطاب وغیرہ۔

غرض خلاصہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ کے افعال و احکام کی تعلیل میں اختلاف کا امامت کے ساتھ سرے سے کوئی تعلق نہیں ۔ اکثر اہل سنت تعلیل و حکمت کے اثبات کے قائل ہیں ۔ البتہ اہل سنت میں سے جنھوں نے اس بات کا انکار کیا ہے، ان کا استدلال دو باتوں سے ہے:

۱۔ اس سے تسلسل لازم آتا ہے کیونکہ رب تعالیٰ جب کسی فعل کو کسی علت کے لیے کرے گا تو وہ علت بھی حادث ہو گی اور ایک اورعلت کی محتاج ہو گی، کیونکہ یہ بات واجب ہے کہ ہر حادث کی ایک علت ہو اور اگر یہ سمجھا جائے کہ اِحداث بدون علت کے ہے تو علت کے اثبات کی ضرورت ہی نہ رہے اور یہ عبث نہ ہو گا اور احداث کا وجود علت کی بنا پر ہے تو پھر حدوثِ علت کی بابت قول حدوثِ معلول کی بابت قول کے جیسا ہو گا اور اس سے تسلسل لازم آتا ہے۔

۲۔ ان کا دوسرا استدلال اس بات سے ہے کہ جو کسی علت کی بنا پر کوئی فعل کرتا ہے تو اس ذات کا استعمال بھی اسی علت سے ہو گا۔ کیونکہ اگر علت کا حصول اس کے عدم سے اولیٰ نہ ہو، تو وہ علت ہی نہ ہو اور غیر کے ساتھ مکمل ہونا ناقص بنفسہٖ ہوتا ہے اور یہ بات رب تعالیٰ کے حق میں ممتنع ہے۔

ان لوگوں نے معتزلہ اور ان کے ہم نوا شعبوں پر ایسا اعتراض کیا ہے جو ان کے اصول کی بنا پر انھیں لاجواب کر کے رکھ دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ علت جس کی بنا پر رب تعالیٰ نے ایک فعل کیا ہے۔

اگر تو رب تعالیٰ کی طرف نسبت کے اعتبار سے اس علت کا عدم اور وجود برابر ہے تو اس علت ک اعلت ہونا ممتنع ٹھہرا اور اگر اس کا وجود اولیٰ ہے، پھر اگر وہ علت باری تعالیٰ کی ذات سے منفصل ہے تو لازم آیا کہ اللہ اس غیر کے ساتھ کامل ہو اور اگر وہ علت اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے تو ذاتِ باری تعالیٰ کا محل حوادث ہونا لازم آیا۔

اب تعلیل کو جائز کہنے والوں میں نزاع ہے۔ چنانچہ معتزلہ اور ان کے خوشہ چین شیعہ ایسی علت ثابت کرتے ہیں جو غیر معقول ہے۔ وہ یہ کہ اللہ ایسی علت کی وجہ سے فعل کرتا ہے جو اس کی ذات سے منفصل ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس کی طرف نسبت کے اعتبار سے علت کا عدم اور وجود برابر ہے۔

رہے علت کے قائل اہل سنت تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ محبت کرتا ہے اور پسند کرتا ہے جیسا کہ کتاب و سنت کی اس پر دلالت ہے، ان کا قول ہے کہ محبت و رضا یہ ارادہ سے اخص ہے۔

ادھر معتزلہ اور اصحاب اشعری کہتے ہیں : محبت، رضا اور ارادہ سب ایک جیسا ہے۔ جمہور اہل سنت کا قول ہے اللہ کفر اور فسق و عصیان کو نہ محبوب رکھتا ہے اور نہ ان چیزوں سے راضی ہے۔ چاہے یہ چیزیں اس کی مراد میں داخل بھی ہیں ۔ جیسا کہ جملہ مخلوقات اس کی مراد میں داخل ہیں ۔ کیونکہ اس میں حکمت ہے۔ چاہے یہ چیزیں اس کی مراد میں داخل بھی ہیں ، جیسا کہ جملہ مخلوقات اس کی مراد میں داخل ہیں ۔ کیونکہ اس میں حکمت ہے۔ چاہے وہ فعل فاعل کی طرف نسبت کے اعتبار سے شر ہو، کیونکہ یہ بات نہیں کہ کسی شخص کی طرف نسبت کے اعتبار سے اگر ایک بات شر ہو تو وہ شخص حکمت سے خالی بھی ضرور ہی ہو گا۔ بلکہ اللہ کی اپنی مخلوقات میں بے شمار حکمتیں ہیں کہ جن کو کوئی تو جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا۔

[تسلسل کا جواب ]

یہ لوگ تسلسل کے دو جواب دیتے ہیں :

۱۔ ایک یہ کہ یہ تسلسل حوادثِ مستقبلیہ میں ہے نہ کہ حوادثِ ماضیہ میں ، کیونکہ رب تعالیٰ جب کسی فعل کو کسی حکمت سے کرتا ہے تو وہ حکمت فعل کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ پھر جب اس حکمت کے بعد اس حکمت سے ایک اور حکمت طلب کی جائے تو یہ تسلسل مستقبل میں ہو گا اور وہ حکمت حاصلہ اسے محبوب ہو گی اور دوسری حکمت کے حصول کا سبب بھی ہو گی۔ پس رب تعالیٰ ایسی حکمتوں کو پیدا فرماتے رہتے ہیں جو اسے محبوب ہوتی ہیں اور انھیں اپنی محبوبات کا سبب بناتے رہتے ہیں ۔

صفحہ 4 از 5