Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکۂ خراسان 22ھ

  علی محمد الصلابی

حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا تھا کہ بلاد عجم میں اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے دیں اور کسریٰ یزدگرد کو چاروں طرف سے گھیر لیں، اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف فارسی افواج کو لڑانے کا وہی اصل محرک ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ رائے پسند آئی اور آپؓ نے اس بات کی اجازت دے دی۔ احنف ہی کو امیر لشکر مقرر کیا اور بلاد خراسان کو فتح کرنے کی ذمہ داری انہیں سونپ دی، احنف نے اسلامی افواج کا ایک انبوہ لے کر یزدگرد کے خلاف خراسان پر چڑھائی کی، خراسان میں داخل ہوئے اور لڑتے ہوئے ’’ہرات‘‘ کو فتح کیا، وہاں صحار بن فلان العبدی کو اپنا نائب بنایا اور خود مرو الشاہجان (اصل مرو کا ایک شہر اور خراسان کا ایک قصبہ ہے)کی طرف آگے بڑھے، کیونکہ وہاں یزدگرد موجود تھا، آپؓ نے اپنے آگے مطرف بن عبداللہ شخیر کو نیساپور اور حارث بن حسان کو ’’سرخس‘‘(نیساپور اور مرو کے درمیانی راستے پر ایک شہر ہے) روانہ کیا۔ جب احنفؓ مرو الشاہجان کے قریب پہنچے تو یزدگرد وہاں سے بھاگ کر ’’مرو الروذ‘‘ چلا گیا۔ احنفؓ نے آسانی سے مرو الشاہجان کو فتح کر لیا اور وہاں ٹھہر گئے، ادھر یزدگرد جونہی مرو الروذ پہنچا اس نے شاہ ترک خاقان، شاہ صغد اور شاہ چین سے خط و کتابت کر کے ان سب سے مدد کی درخواست کی۔ احنف بن قیسؓ نے حارثہ بن نعمان کو مروالشاہجان پر اپنا نائب مقرر کیا اور خود آگے بڑھ کر مروالروذ پہنچے، اس وقت تک احنف بن قیسؓ کے پاس چار امراء کی الگ الگ قیادت میں کوفہ سے امدادی افواج آ پہنچیں، جب یزدگرد کو اس بات کا علم ہوا تو وہاں سے بلخ (خراسان کے خوبصورت شہروں میں سے ایک ہے، نہر جیحون کے قریب واقع ہے) بھاگ گیا، احنف نے بلخ تک اس کا پیچھا کیا اور وہیں پر دونوں افواج آپس میں ٹکرا گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے یزد گرد کو شکست دی اور وہ اپنی بچی کھچی فوج لے کر دریائے جیحون کے اس پار بھاگ گیا۔ اس طرح پورے خراسان کی باگ ڈور احنف بن قیسؓ کے ہاتھوں میں آگئی اور انہوں نے ہر شہر میں اپنا مقرر امیر مقرر کیا، خود لوٹ کر ’’مروالروذ‘‘ پہنچے اور پورے خراسان کی فتح کی بشارت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے احنفؓ کے نام جوابی خط تحریر کیا اور یہ ہدایت کی کہ دریا عبور نہ کرنا اور تمہارے سامنے خراسان کے جو مفتوحہ علاقے ہیں ان کی حفاظت کرنا۔

یہ بات گزر چکی ہے کہ یزدگرد نے مروالروذ سے شاہان عجم کے نام تعاون کے لیے خط لکھا تھا، چنانچہ جب اس کا قاصد امداد طلبی کا خط لے کر ان دونوں شاہان عجم کے پاس پہنچا تو انہوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی، ادھر یزدگرد دریائے جیحون عبور کر کے ان دونوں کی ملکی سرحدوں میں داخل ہو کر ان سے مدد کی فریاد کرنے لگا۔ خاقان نے اس کا ساتھ دیا اور بلخ تک آیا، یہاں تک کہ مروالروذ میں احنف بن قیسؓ کے قریب ہوگیا۔ تب تک احنفؓ بھی کوفہ اور بصرہ سے آئی ہوئی اپنی افواج کو لے کر ظاہر ہوئے، ان کی تعداد بیس ہزار تھی۔ اس دوران دشمن کے دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اگر مسلمانوں کا امیر لشکر ہوشیار ہوگا تو وہ اس پہاڑ کو اپنی پشت پناہ اور دریا کو خندق کا درجہ دے گا، کیونکہ ایسی صورت میں مقابل کو اس تک پہنچنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ ملے گا۔ جب صبح نمودار ہوئی تو احنف بن قیسؓ نے مسلمانوں کو ٹھیک اسی جگہ کھڑا کیا جو مدد اور صحیح تجزیہ کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ دوسری طرف سے فارسیوں اور ترکوں کا دل دہلا دینے والا لشکر جرار آگے بڑھتا دکھائی دیا۔ احنف بن قیسؓ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: تمہاری قلت اور دشمن کی کثیر تعداد تمہیں خوفزدہ نہ کرے، اللہ کا ارشاد ہے:

کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞(سورۃ البقرة آیت 249)

ترجمہ: نہ جانے کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔

ترک فوج دن بھر جنگی جھڑپیں کرتی رہیں اور احنفؓ کو نہیں معلوم تھا کہ یہ لوگ رات کو کہاں جائیں گے۔ چنانچہ رات کے آخری حصہ میں آپؓ ایک دستہ کے ساتھ خاقان کی تلاش میں نکلے اور صبح ہوتے ہوتے دیکھا کہ ترک فوج کا ایک شہ سوار حالات کے تیور معلوم کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے گلے میں طوق ہے اور طبلہ بجا رہا ہے۔ احنفؓ اس کی طرف بڑھے اور طرفین سے نیزوں کا تبادلہ ہوا، احنفؓ کا وار کامیاب رہا اور یہ شعر پڑھتے ہوئے اسے قتل کر دیا:

إن علی کل رئیس حقًا

أن یخضب الصعدۃ أو تندقا

’’یہ سردار پر واجب ہے کہ نیزے کو خون سے رنگ دے یا (لڑتے لڑتے) ٹوٹ جائے۔‘‘

إن لہا شیخًا بہا ملقی

سیف أبی حفص الذی تبقی

’’اس نیزے کو چلانے والا بے شک ایک بوڑھا ہے۔ ابو حفص کی تلوار ہی باقی رہے گی۔‘‘

پھر ترک فوجی سے اس کے گلے کا طوق چھین لیا اور اس کی جگہ کھڑے ہوگئے، دوسرا باہر آیا، اس کے ساتھ ایک طبلہ تھا وہ اسے بجا رہا تھا۔ حضرت احنفؓ اس کی طرف بڑھے اور اسے بھی قتل کر دیا اور اس کا طوق چھین لیا، پھر تیسرا فوجی نکلا اس کو بھی قتل کر کے اس کا طوق لے لیا۔ پھر احنفؓ جلدی سے لوٹ کر اپنی فوج میں واپس آئے اور اس واردات کی خبر کسی ترک سپاہی کو نہ ہوئی۔ ترک افواج کے یہاں جنگ لڑنے کا یہ رواج تھا کہ وہ آغاز جنگ سے پہلے ادھیڑ عمر کے تین آدمیوں کو آگے بھیجتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک باری باری طبلہ بجاتے آگے جاتا تھا۔ بہرحال تینوں کا کام تمام ہونے کے بعد ترک فوجی آگے آئے تو دیکھا کہ ان کا شہ سوار دستہ زمین پر مقتول پڑا ہے۔ اس واردات کو خاقان نے بدشگونی پر محمول کیا اور اپنی فوج سے مخاطب ہو کر کہا: اب ہمارا پڑاؤ لمبا ہو چکا ہے اور ہمارے آدمی ایسی جگہ مارے جا چکے ہیں کہ ہم نے کبھی اس کا تصور بھی نہ کیا تھا۔ اس قوم (مسلمانوں) سے جنگ کرنے میں ہمارے لیے بھلائی نہیں ہے، ہمیں لوٹ جانا چاہیے اور پھر سب واپس لوٹ گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 159)

مسلمانوں نے حضرت احنفؓ سے کہا کہ اگر ان کا پیچھا کیا جائے تو کیسا رہے گا؟ احنفؓ نے کہا: اپنی جگہ ٹھہرے رہو، انہیں جانے دو۔ احنفؓ کا فیصلہ بالکل درست تھا، اس لیے کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

اُتْرُکُوْا التُرَّکَ مَا تَرَکُوْکُمْ

(معجم الطبرانی الکبیر۔ امام البانی نے کہا کہ یہ موضوع روایت ہے۔ دیکھئے: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ: حدیث 1747)

’’ترک جب تک تمہیں نہ چھیڑیں تم انہیں نہ چھیڑو۔‘‘

فرمان الہٰی سچ ہے:

وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا‌ وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ‌ وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا ۞ (سوة الأحزاب آیت 25)

ترجمہ: اور جو لوگ کافر تھے، اللہ نے انہیں ان کے سارے غیظ و غضب کے ساتھ اس طرح پسپا کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے۔ اور مومنوں کی طرف سے لڑائی کے لیے اللہ خود کافی ہوگیا۔ اور اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔

کسریٰ یزدگرد، زبردست نقصان اٹھا کر واپس لوٹا، اس کی پیاس نہ بجھی، نہ کوئی بھلائی ہاتھ آئی اور نہ اپنی امید کے مطابق اسے کامیابی ملی، بلکہ جس پر امداد کی امید لگائے بیٹھا تھا وہی بھاگ کھڑا ہوا، یزدگرد کے سامنے اب اندھیرا ہی اندھیرا تھا، اب وہ نہ ادھر کا تھا نہ ادھر کا:

  وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞(سورۃ النساء آیت 88)

ترجمہ: جسے اللہ گمراہی میں مبتلا کردے، اس کے لیے تم ہرگز کبھی کوئی بھلائی کا راستہ نہیں پاسکتے۔

اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کرے اور کہاں جائے؟ مدد کا آخری سہارا چین کے بادشاہ کے پاس اپنا قاصد بھیج کر اس سے مدد طلب کی۔ بادشاہ نے قاصد سے پوچھا کہ ہمیں اس قوم کے بارے میں کچھ بتاؤ جس نے بڑے بڑے شہروں کو فتح اور سرداروں اور سورماؤں کو غلام بنا لیا ہے۔ قاصد نے مسلمانوں کا تعارف پیش کیا اور بتایا کہ وہ کس طرح گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہوتے ہیں، کیا کرتے ہیں اور کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ بادشاہ نے قاصد کے ہاتھوں یزدگرد کے نام جوابی خط تحریر کیا کہ ایسا لشکر جرار جس کا اگلا سرا ’’مرو‘‘ میں اور آخری سرا چین میں ہوگا، اسے بھیجنے میں یہ بات میرے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی کہ میں اپنی ذمہ داری سے ناواقف ہوں۔ نہیں، بلکہ تمہارے قاصد نے اس قوم (یعنی مسلمانوں) کی جو صفت بیان کی ہے، میرے خیال سے اگر وہ پہاڑ سے ٹکرا جائیں تو اسے بھی چُور چُور کر دیں گے۔ پس اگر میں تمہاری مدد کے لیے آگے آتا ہوں تومیرا انجام بالکل ظاہر ہے۔ یزدگرد مرتا کیا نہ کرتا، مجبور ہو کر مسلمانوں سے صلح کی درخواست کرنے لگا اور ان کی شرائط پر صلح کر لی۔ اس طرح کسریٰ اور آل کسریٰ سلطنت اسلامیہ کے بعض شہروں میں ذلت و رسوائی کی زندگی گزارتے رہے۔ یہاں تک کہ دور عثمانی میں اسے قتل کر دیا گیا۔ 

( تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 160)

اور جب احنفؓ نے فتح کی خوشخبری، ترک سپاہیوں سے چھینے ہوئے اموال غنیمت، ان کے سخت جانی نقصان اور نامراد واپسی کی تفصیل لکھ کر سیدنا فاروق عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی تو خط پانے کے بعد سیدنا عمرؓ منبر پر تشریف لے گئے، چند آیات قرآنی کی تلاوت کی گئی اور پھر آپؓ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دے کر مبعوث کیا اور ان کے متبعین سے دیر سویر دنیا و آخرت کی بھلائی اور ثواب دینے کا وعدہ کیا، فرمایا:

هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ ۞(سورۃ التوبة آیت 33)

ترجمہ: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔

پس شکر ہے اس اللہ واحد کا جس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے لشکر کی مدد کی۔ سن لو! آج اللہ نے مجوسی بادشاہت کو زمین بوس اور ان کے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اپنی حکومت کی ایک بالشت زمین کی بھی ملکیت اب ان کے ہاتھوں میں نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو نقصان پہنچا سکیں۔ سن لو! اللہ نے اب تم کو ان کی زمین، جائیداد، مکانات اور رعایا کا وارث بنا دیا ہے تاکہ دیکھے کہ تم کیسے کرتے ہو، لہٰذا ہمیشہ چوکنے رہو، تم سے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ تم اپنے اندر تبدیلی نہ پیدا کرنا کہ وہ تمہارے بدلے دوسری قوم کو لے آئے گا۔ مجھے اس امت محمدیہ پر اس کے داخلی فتنوں ہی سے خوف ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 162، 163)