معرکۂ خراسان 22ھ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

معرکۂ خراسان 22ھ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

مسلمانوں نے حضرت احنفؓ سے کہا کہ اگر ان کا پیچھا کیا جائے تو کیسا رہے گا؟ احنفؓ نے کہا: اپنی جگہ ٹھہرے رہو، انہیں جانے دو۔ احنفؓ کا فیصلہ بالکل درست تھا، اس لیے کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

اُتْرُکُوْا التُرَّکَ مَا تَرَکُوْکُمْ

(معجم الطبرانی الکبیر۔ امام البانی نے کہا کہ یہ موضوع روایت ہے۔ دیکھئے: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ: حدیث 1747)

’’ترک جب تک تمہیں نہ چھیڑیں تم انہیں نہ چھیڑو۔‘‘

فرمان الہٰی سچ ہے:

وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا‌ وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ‌ وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا ۞ (سوة الأحزاب آیت 25)

ترجمہ: اور جو لوگ کافر تھے، اللہ نے انہیں ان کے سارے غیظ و غضب کے ساتھ اس طرح پسپا کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے۔ اور مومنوں کی طرف سے لڑائی کے لیے اللہ خود کافی ہوگیا۔ اور اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔

کسریٰ یزدگرد، زبردست نقصان اٹھا کر واپس لوٹا، اس کی پیاس نہ بجھی، نہ کوئی بھلائی ہاتھ آئی اور نہ اپنی امید کے مطابق اسے کامیابی ملی، بلکہ جس پر امداد کی امید لگائے بیٹھا تھا وہی بھاگ کھڑا ہوا، یزدگرد کے سامنے اب اندھیرا ہی اندھیرا تھا، اب وہ نہ ادھر کا تھا نہ ادھر کا:

  وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞(سورۃ النساء آیت 88)

ترجمہ: جسے اللہ گمراہی میں مبتلا کردے، اس کے لیے تم ہرگز کبھی کوئی بھلائی کا راستہ نہیں پاسکتے۔

اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کرے اور کہاں جائے؟ مدد کا آخری سہارا چین کے بادشاہ کے پاس اپنا قاصد بھیج کر اس سے مدد طلب کی۔ بادشاہ نے قاصد سے پوچھا کہ ہمیں اس قوم کے بارے میں کچھ بتاؤ جس نے بڑے بڑے شہروں کو فتح اور سرداروں اور سورماؤں کو غلام بنا لیا ہے۔ قاصد نے مسلمانوں کا تعارف پیش کیا اور بتایا کہ وہ کس طرح گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہوتے ہیں، کیا کرتے ہیں اور کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ بادشاہ نے قاصد کے ہاتھوں یزدگرد کے نام جوابی خط تحریر کیا کہ ایسا لشکر جرار جس کا اگلا سرا ’’مرو‘‘ میں اور آخری سرا چین میں ہوگا، اسے بھیجنے میں یہ بات میرے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی کہ میں اپنی ذمہ داری سے ناواقف ہوں۔ نہیں، بلکہ تمہارے قاصد نے اس قوم (یعنی مسلمانوں) کی جو صفت بیان کی ہے، میرے خیال سے اگر وہ پہاڑ سے ٹکرا جائیں تو اسے بھی چُور چُور کر دیں گے۔ پس اگر میں تمہاری مدد کے لیے آگے آتا ہوں تومیرا انجام بالکل ظاہر ہے۔ یزدگرد مرتا کیا نہ کرتا، مجبور ہو کر مسلمانوں سے صلح کی درخواست کرنے لگا اور ان کی شرائط پر صلح کر لی۔ اس طرح کسریٰ اور آل کسریٰ سلطنت اسلامیہ کے بعض شہروں میں ذلت و رسوائی کی زندگی گزارتے رہے۔ یہاں تک کہ دور عثمانی میں اسے قتل کر دیا گیا۔ 

( تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 160)

اور جب احنفؓ نے فتح کی خوشخبری، ترک سپاہیوں سے چھینے ہوئے اموال غنیمت، ان کے سخت جانی نقصان اور نامراد واپسی کی تفصیل لکھ کر سیدنا فاروق عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی تو خط پانے کے بعد سیدنا عمرؓ منبر پر تشریف لے گئے، چند آیات قرآنی کی تلاوت کی گئی اور پھر آپؓ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دے کر مبعوث کیا اور ان کے متبعین سے دیر سویر دنیا و آخرت کی بھلائی اور ثواب دینے کا وعدہ کیا، فرمایا:

هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ ۞(سورۃ التوبة آیت 33)

ترجمہ: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔

پس شکر ہے اس اللہ واحد کا جس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے لشکر کی مدد کی۔ سن لو! آج اللہ نے مجوسی بادشاہت کو زمین بوس اور ان کے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اپنی حکومت کی ایک بالشت زمین کی بھی ملکیت اب ان کے ہاتھوں میں نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو نقصان پہنچا سکیں۔ سن لو! اللہ نے اب تم کو ان کی زمین، جائیداد، مکانات اور رعایا کا وارث بنا دیا ہے تاکہ دیکھے کہ تم کیسے کرتے ہو، لہٰذا ہمیشہ چوکنے رہو، تم سے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ تم اپنے اندر تبدیلی نہ پیدا کرنا کہ وہ تمہارے بدلے دوسری قوم کو لے آئے گا۔ مجھے اس امت محمدیہ پر اس کے داخلی فتنوں ہی سے خوف ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 162، 163)


صفحہ 2 از 2