فلاسفہ کے عقیدہ کہ ’’عالم قدیم ہے‘‘ پر رد کی مزید تفصیل -…

فلاسفہ کے عقیدہ کہ ’’عالم قدیم ہے‘‘ پر رد کی مزید تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

پہلی وجہ : یہ کہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ اگر فلک کی حرکت اس کے لیے لازم ہے جیسے کہ ان کی رائے ہے تو لازم آئے گا کہ ملزوم کے لازم کے بغیر پیدا کیا جو کہ ممتنع ہے اور اللہ تعالیٰ کا حرکتِ فلک کے لیے مُوجِب بالذات یعنی علت تامہ ازلیہ ہونا بھی ممتنع ہے کیونکہ حرکت تھوڑا تھوڑا کر کے وجود میں آتی ہے۔ اور وہ علتِ تامہ جو ازل میں اپنے معلوم کو پیدا کرنے والی ہو وہ اپنے معلوم سے بالکل مؤخر نہیں ہوتی۔پس حرکت ِ فلک اس علتِ تامہ ازلیہ کا معلوم نہیں بن سکتی جس کے ساتھ اس کے معلوم کا وجوب لازم ہے۔ اور اگر فلک کی حرکت اس کے لیے لازم نہ ہو تو پھر وہ حادث ہوگی۔ پس اس کے لیے ایک ایسے سبب کا ہونا ضروری ہے جو واجب بالذات اور حادث ہو؟ اور یہ حرکت اپنے حدوث کی وجہ سے ایسی علتِ تامہ ازلیہ سے صادر نہیں ہو سکتی جس سے اس کا موجب کچھ بھی جدا نہیں ہو سکتا ۔اسی وجہ سے ان لوگوں کا عقیدہ جو حوادث کو علتِ تامہ ازلیہ سے پیدا ہونے والا مانتے ہیں سخت ترین فساد کا شکار ہے؛ بہ نسبت ان لوگوں کے عقیدہ سے جو یہ کہتے ہیں کہ تمام حوادث ایک قدرت والی ذات سے بغیر سبب ِ حادث کیپیدا ہوتے ہیں ۔ اس لیے کہ یہ دوسرا فریق حوادث کے لیے فاعل کو تو ثابت کرتا ہے لیکن کسی سبب ِ حادث کو ثابت نہیں کرتا۔ اور ان لوگوں کے عقیدہ سے لازم آتا ہے کہ تمام حوادث کے لیے کوئی فاعل نہ ہو۔کیونکہ وہ علت ِ تامہ جو ازل میں اپنی ذات کے اعتبار سے حوادث ک لیے مُوجِب ہے وہ کسی بھی چیز کو صفت ِ حدوث کے ساتھ نہیں پیدا کرے گی؛ اور اسی وجہ سے ان کے نزدیک حوادث فلک کی حرکت سے پیدا ہوتے ہیں ؛ اور وہ فلک سے اوپر کوئی ایسی چیز نہیں مانتے جس کی حرکت اللہ نے پیدا کی ہو۔ بلکہ آسمانوں اور تمام باقی حوادث کی حرکا ت میں ان کا عقیدہ افعالِ حیوانات میں قدریہ کے عقیدہ کی طرح ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں کی حرکات اور باقی حوادث بغیر کسی سبب ِ حادث کے پیدا ہوئے ہیں ۔ لیکن قدریہ نے اسے حیوانات کے احوال کے ساتھ خاص کر دیا اور انہوں نے کہا ہے :یہ ہر حادث میں ہے خواہ عالمِ بالا کا ہو یا عالم سفلی کا۔

دوسری وجہ کا بیان : فاعل کوخواہ قادر مانا جائے یا مُوجِب بالذات؛ یا یہ کہا جائے کہ وہ ایسا قادر ہے جو اپنی  مشیت اور قدرت کے ذریعے وجود دیتا ہے تو ان تمام صورتوں میں ضروری ہے کہ وہ فاعل اپنے مفعول کے وجود کے وقت موجود ہو۔ اور یہ ممتنع ہے کہ مفعول کے وجود میں آنے کے وقت فاعل معدوم ہو کیونکہ معدوم کسی موجود کا سبب نہیں بن سکتا ۔اور اس فاعل کا نفسِ فعل اور اس کے وجود کا تقاضا کرنا اور اس کا احداث یہ سب اس معین اور خاص مفعول کے وجود میں آنے کے وقت بالفعل ثابت ہونا ضروری ہے۔ پس وہ فاعل حقیقتاً فاعل اس وقت بنے گا جب مفعول وجود میں آئے گا ۔پس اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اس ذات نے فعل کو انجام دیا اور اس کا ارادہ بھی کیا اوراس کے بعد وہ وجود میں آیا جیسے کہ ہر حادث کی صفت ہے تو اس سے لازم آئے گا کہ اس کا فعل اور اس کا ایجاب اس مفعول کی غیر موجودگی میں پایا گیا جس کو وہ اپنی قدرت سے وجود دے رہا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس مفعول کے وجود میں آنے سے پہلے کوئی ایجاب ،احداث اور کوئی فعل متحقق نہیں ۔ اور جب یہ ثابت ہوا تو اب دیکھئے کہ وہ ذات جو حوادث کو وجود دینے والا ہے ،اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ دوسرا حادث پہلے کے بعد (یعنی الگ زمان میں )پیدا کرتا ہے؛تو بغیر اس کے کہ خود اس کی ذات کے لیے کوئی ایسا نیا حال پیدا ہو جس کے ذریعے وہ دوسرا فعل کرنے والا ہے (یعنی پہلے کو وجود دیتے وقت جس حال پر تھا دوسرے کے احداث کے وقت بھی اسی حال پر ہے )تو لازم آئے گا کہ وہ ذات جو موثر تام ہے اثر کے وجود کے وقت معدوم تھی۔ اور یہ محال ہے۔ اس لیے کہ یقیناً اس ذاتِ ازلی کی حالت اثر کے وجود اور عدمِ وجود دونوں اوقات میں برابر اور ایک جیسے ہے۔ اور ا س سے پہلے تو اس کا فاعل ہونا ممتنع تھا تو اس وقت بھی ایسا ہی ہوگا ۔یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس حال سے پہلے وہ فاعل نہیں تھا تو اس کے ہوتے ہوئے بھی وہ فاعل نہیں ہوگا ۔کیونکہ اگر اس بات کو ممکن مانا جائے کہ فاعل کے لیے کسی نئے حال پیدا ہونے کے بغیر دوسرا حادث پیدا ہو سکتا ہے تو ایسی صورت میں تمام حوادث کا بلا سبب پیدا ہونا لازم آئے گا۔ اور ممکن کے دو طرفین یعنی وجود اور عدم میں سے فاعل کا کسی ایک جانب کو بلکہ اس کے وجود کو بلا مرجح ترجیح دینا لازم آئے گا ۔کیونکہ یہ بات تو پہلے سے مانی گئی ہے کہ حادث کے وجود سے پہلے ،اس کے وجود میں آنے کے وقت اور وجود میں آنے کے بعد تینوں اوقات میں اس فاعل کی حالت ایک طرح ہے۔ پس اس حادث کے وجود کے ساتھ بعض اوقات کی تخصیص یعنی اسے اس وقت میں فاعل قراردینا ،تخصیص بلا مخصص ہوگی۔ اوراگر یہ ممکن ہوتا تو پھر تو تمام حوادث کابغیر کسی سبب ِ حادث کے پیدا ہونا ممکن ہوجاتا اور ان کا عقیدہ باطل ہوجاتا۔اور اگر یہ ممکن نہیں یعنی بغیر کسی مخصص کے حادث کے وجود کیساتھ بعض اوقات کی تخصیص کرنا تو ان کا عقیدہ بھی باطل ہوا۔ پس ان دونوں نقیضین کی تقدیر پر ایسے مادہ پرست فلاسفہ کے عقیدہ کا بطلان بھی ثابت ہوا اور یہ اس کو مستلزم ہے کہ نفس الامر میں بھی یہ باطل ہے۔

صفحہ 2 از 3