فلاسفہ کے عقیدہ کہ ’’عالم قدیم ہے‘‘ پر رد کی مزید تفصیل -…

فلاسفہ کے عقیدہ کہ ’’عالم قدیم ہے‘‘ پر رد کی مزید تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

اس کو اس مثال سے یوں سمجھئے کہ جب کوئی شخص راستہ طے کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا مسافت کے دوسرے جزء کوطے کرنا پہلے جزء کو طے کرنے کے ساتھ مشروط ہے۔ کیونکہ جب وہ جزء اول طے کر لیتا ہے تو اس کے لیے قدرۃ ،ارادۃ اور دیگر وہ امور وجود میں آجاتے ہیں جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہوتے ہیں اور انہی امور کی مدد سے جزء ثانی کو طے کرتا ہے۔ایسا تو نہیں ہے کہ صرف جزء اول کے طے کرنے سے وہ جزء ثانی کو بھی طے کرنے والا ھوا(گویا جزء ثانی کو قطع کرتے وقت اس کا حال اُس حال کے مغایر ہے جو جزء اول کو طے کرتے وقت تھا)۔پس جب ان فلاسفہ نے اللہ تعالیٰ کا حوادث کی تخلیق کو اس کے مشابہ قرار دیا تو اس سے یہ لازم آیا کہ حوادث کو پیدا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے نئے نئے احوال ثابت ہوں گے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہوں ۔ ورنہ اگر اسے ایک ہی حال پر قائم مانا جائے تو پھر مطلب یہ ہوا کہ دوسرے آن میں حادث ہونے والا حادثِ اول کے محض فنا اور متلاشی ہونے سے پیدا ہوا۔ اور اس کے وجود میں آنے سے پہلے اور بعد کے دونوں اوقات میں اس کا حال ایک ہی ہے۔(جبکہ یہ بات مسلم ہے کہ) صفت ِ احداث کے ساتھ دو وقتوں میں سے ایک کے اختصاص کے لیے کسی مخصِّص کا ہونا ضروری ہے۔( اور حوادث کے وجو دمیں آنے کے لیے کسی فاعل کا ہونا ضروری ہے جبکہ پہلے سے مفروض یہ ہے کہ وہ ذات ازل سے ابد تک ایک ہی حال پر قائم ہے ۔لہٰذا اس تقدیر پر کسی وقت کا ایک حادث کے حدوث کیساتھ اختصاص ممتنع ہو جائے گا کیونکہ جب وہ اس وقت موجود تھا جس وقت حوادث کو پیدا نہیں کر رہا تھا اور وہ ذات اب بھی پہلے کی طرح ہے ؛ تو (نتیجہ نکلا کہ) وہ اب بھی اس حادث کا فاعل نہیں ۔

ابن سینا اور اس کے ہم نواوہ لوگ جوعالم کے قدیم ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اسی بات سے معتزلہ ،جہمیہ اور ان کے ہم نوامتکلمین کے خلاف استدلال کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ: جب وہ ذات باری تعالیٰ ازل میں تھی؛ اور کوئی کام نہیں کر رہی تھی اور وہ بھی اسی حال پر ہے؛ پس وہ اب بھی کوئی کام کرنے والی نہیں ۔ حالانکہ مفروض یہ ہے کہ وہ کام کرنے والی ہے ۔یہی دلیل بعد کے متکلمین فلاسفہ کیہے اور یہ بات اس لئے لازم آئی کہ ایک ایسی ذات کو فرض کیا گیاجو فعل اور کام کرنے سے معطل ہے ۔پس ان سے کہا جائے گا یہی بات بعینہ تمہارے خلاف ایک ایسی ذات بسیطۃ کے اثبات میں حجت بنتی ہے جس کے ساتھ نہ کوئی فعل قائم ہے اور نہ کوئی وصف ؛ اس کے باوجود اس سے حوادث صادر ہورہے ہیں ۔ پس اگر حوادث کا صدور ایسے واسطوں کے ذریعے ہو جو اس ذات کے لیے لازم ہیں تو جو واسطہ اس ذات کے لیے لازم ہے وہ بھی اس کے قدیم ہونے کی وجہ سے قدیم ہوگا۔ حالانکہ انہوں نے خود تسلیم کیا ہے کہ حوادث کا صدور ایسی قدیم ذات سے ممتنع ہے جو ازل سے ایک ہی حال پر قائم ہے جیسے وہ پہلے تھی ۔

تیسری وجہ : وہ یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے فیاض ہے۔ اور اس کے بعض اوقات حدوث کے ساتھ خاص ہو تے ہیں بوجہ اس کے کہ استعداد وقتاً فوقتاً متجدد ہوتا ہے یعنی فعل کو کرنے کی قوت اور استعداد وقتاً فوقتاً وجو د میں آتی ہے اور استعداد کا حادث ہونا بھی حرکات کے حادث ہونے کا سبب ہے۔

یہ ایک باطل کلام ہے۔ اس لیے کہ یقیناً یہ اس وقت متصور ہوتاہے جب وہ فاعل جو ہمیشہ سے فیاض ہے بعینہ وہی ذات استعداد کو پیدا کرنے والی نہ ہو؛ جیسے کہ عقلِ فعال میں ان کا دعویٰ ہے۔یہ کہتے ہیں کہ وہ ذات فیض کے اعتبار سے تو دائم ہے لیکن وہ ِ حرکاتِ افلاک اور اتصالات کواکب کے حادث ہونے کے سبب قبول کرنے کی استعداد کو وجود دیتا ہے اور وہ توعقلِ فعال سے صادر نہیں ہیں بلکہ بے شک وہ تو مبداعِ اول میں ہیں اور وہی اپنے ماسوا تمام کامبدع یعنی از سرِ نوع پیدا کرنے والا ہے۔ پس اسی کی ذات سے استعداد ،صفت ِ قبول ،قبول کرنے والا اور مقبول یعنی جسے قبول کیا جائے چاروں صادر ہوتے ہیں ۔پس ایسی صورت میں کہا جائے گا کہ جب وہ علتِ تامہ ہے اور اپنی ذات کے اعتبار سے مُوجِب ہے اور وہ ایسا دائم الفیض ہے کہ اس کا فیض کسی بھی چیز پر اپنی ذات کے علاوہ کسی اور چیز پر موقوف نہیں ، تو لازم آئے گا کہ اس کی ذات سے جو کچھ بھی صادر ہو رہا ہے خواہ واسطہ سے ہو یا بلاواسطہ ،وہ اس کی ذات کے لیے لازم ہو اور اس کے قدیم ہونے کی وجہ سے قدیم ہو، پس اس سے کوئی بھی ایسی چیز صادر نہیں ہو سکتی نہ بالواسطہ نہ بلا واسطہ۔ اس لیے کہ اس کا فعل اور اس کاوصف ابداع ،ایسی استعداد اور قبول پر موقوف نہیں جو اس کی ذات کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہوں ۔ بلکہ وہی ذات شرط ،مشروط ،قابل ،مقبول اور استعداد سب کی مبدع ہے۔ اوراس فیضان کا بھی جو وہ مستعد پر کرتاہے اور جب وہ ذات اکیلے ہی ان تمام امور کا فاعل ہیں تو یہ بات ممتنع ہوئی کہ وہ ایسی علتِ تامہ ازلیہ بنے جو اپنے معلول کے لئے مستلزم ہو اس لیے کہ یہ اس بات کو لازم ہے کہ اس کے تمام معلول بھی ازلی ہوں اور اس کے قدیم ہونے کی وجہ سے قدیم ہوں اور اس کی ذات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ اس کے لیے معلول ہوں پس لازم آئے گا کہ اس کی ذات کے ماسوا جو کچھ بھی ہے وہ قدیم اور ازلی ہو اور یہ تو مشاہدہ کے واضح طور پر خلاف ہے اور جس نے بھی اس میں غور کیا اور اِس کو سمجھا تو اس کے سامنے ان لوگوں کے عقیدہ کا فسادواضح ہوا جو عالم کے قدم کے قائل ہیں ۔


صفحہ 3 از 3