Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فسا اور دارابجرد کی فتح 23ہجری

  علی محمد الصلابی

حضرت ساریہ بن زنیم رضی اللہ عنہ نے حکم فاروقی کے بموجب فسا اور دار ابجرد کا رخ کیا۔ مقابلہ کے لیے ایرانیوں اور کردوں کا بہت بڑا لشکر تیار کھڑا تھا، مسلمان اسے دیکھ کر گھبرا گئے۔ اسی رات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خواب میں میدان جنگ اور دشمن کی تعداد دیکھی، سیدنا عمرؓ نے یہ بھی دیکھا کہ اسلامی فوج کھلے میدان میں ہے، ان کے پیچھے پہاڑ ہے، اگر وہ اسے اپنی پشت بنا لیں تو صرف ایک ہی طرف سے انہیں دشمن کا خطرہ رہے گا۔ چنانچہ صبح ہوئی تو آپ نے اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ کی منادی کرائی اور جب وہ وقت آگیا جس میں جنگ چھڑنے کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا تو لوگوں کے پاس آئے اور منبر پر تشریف لے گئے، لوگوں کو اپنے خواب کی تفصیل بتائی اور بلند آواز سے کہا: ’’یا ساریۃ الجبل! اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اللہ کی افواج ہوتی ہیں، شاید کہ ان میں سے کوئی میری بات مسلمانوں کو پہنچا دے۔ راوی کا بیان ہے کہ ساریہ نے سیدنا عمرؓ کی ہدایت کے مطابق اپنے مقام پر عمل کیا اور اللہ نے انہیں دشمن اور ان کے ملکوں پر فتح دی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 168، 169، شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ: اللالکائی اثر نمبر: 2537 علامہ البانی رحمہ اللہ نے مشکوٰۃ المصابیح کے حاشیہ میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ جلد 3 صفحہ 1678 

 حدیث نمبر: 5954 اور دیکھئے: تہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 170 ، علماء نے اس کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کرامات میں سے شمار کیا ہے)