ہندؤ مسلم اتحاد کیلئے مسلمانوں کا راکھی بندھوانا اور ماتھے پر ٹیکا لگوانا
ہندؤ مسلم اتحاد کیلئے مسلمانوں کا راکھی بندھوانا اور ماتھے پر ٹیکا لگوانا
سـوال: ہندوستان میں ہندؤ قوم میں راکھی باندھنے کا تہوار منایا جاتا ہے، جس میں بعض ہندؤ عورتیں مسلمانوں کو بھی راکھی باندھتی ہیں اور بھائی بناتی ہیں۔ راکھی باندھنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تھالی ہوتی ہے، اس تھالی میں ایک ناریل، راکھی، جلتا ہوا چراغ اور ٹیکا لگانے کیلئے لال رنگ کا کنکو ہوتا ہے، وہ عورت پہلے راکھی باندھتی ہے، پھر سر پر ٹیکا لگاتی ہے، پھر ناریل ہاتھ میں دیتی ہے، اس کے بعد مسلمان (راکھی بندھوانے والا) اس تھالی میں روپیہ ڈالتا ہے، اس طرح سے وہ ہندؤ عورت اور مسلمان جس کو راکھی باندھی گئی ہے، بھائی بہن بن جاتے ہیں۔ ہندؤ مسلم اتفاق قائم رکھنے کے لئے ایسا کیا جاتا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب: مؤمن کی شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے، جان، مال، عزت و آبرو اور نفع و نقصان کا مالک اللہ تعالیٰ جل شانہ کو جانے، اس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی حرکت نہیں کر سکتا۔ الغرض مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ جل شانہ پر اعتماد کرنا چاہئے۔
مسلمان، کفر یا شعار کفر (شعار کفر کا معنیٰ ہے وہ چیز جس سے کافر کی پہچان ہو، جیسے زنار باندھنا، راکھی بندھوا، پیشانی یا سر پر ٹیک لگانا اور سر پر چوٹی رکھنا وغیرہ) کا ارتکاب بہ خوشی کرے، تو ایمان سے خارج ہو جائے گا۔
شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے کہ جو شخص مجوس کی ٹوپی یا زنار (جو مذہبی پہچان ہے) پہنے گا تو ایمان سے خارج ہو جائے گا، ہاں اگر مجبوری ہو یا جان کا خوف ہو، پھر ان امور کا ارتکاب کرلے تو ایمان سے خارج نہیں ہو گا۔ لہٰذا جن مسلمانوں نے یہ کام کیا ہے، ایمان سے نکل جائیں گے، ان کیلئے لازم ہے کہ ایمان کی تجدید کر کے نکاح کی تجدید کریں، کیونکہ ایمان سے نکل جانے کی وجہ سے نکاح ٹوٹ گیا۔ لہٰذا اتجدید نکاح ضروری ہے۔
(فتاوىٰ فلاحيه جلد 1، صفحہ 266)