تقدم اور تأخر کا صحیح معنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تقدم اور تأخر کا صحیح معنی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

تقدم اور تأخر کا صحیح معنی 

وہ مثال جس کو یہ لوگ ذکر کرتے ہیں یعنی ان کا یہ قول کہ ’’میں نے اپنی ہاتھ کو حرکت دے دی تو میری انگوٹھی متحرک ہوئی یا میرا آستین متحرک ہوا یا چابی متحرک ہوئی‘[الشفاء: الإلھیات ۱؍۱۶۵۔ الأشارت والتنبیہات ۳؍۱۰۵۔] ‘‘یا اس طرح کی دیگر عبارات۔ لیکن یہ جان لیں کہ یہ ان کے خلاف حجت ہیں نہ کہ ان کے حق میں ۔ اس لیے کہ ہاتھ کی حرکت علتِ تامہ نہیں ۔ اور نہ وہ انگوٹھی کی حرکت کے لیے فاعل ہے۔ بلکہ انگلی میں لگی ہوئی انگوٹھی ایسی ہے جیسے کہ ہاتھ کے ساتھ انگلی کا تعلق ہے ۔پس انگوٹھی انگلی کے ساتھ متصل ہے اور انگلی کف (ہتھیلی )کے ساتھ متصل ہے لیکن (دونوں کے اتصال میں فرق ہے )۔کیونکہ انگوٹھی کا بغیر کسی تکلیف کے اتارنا ممکن ہے بخلاف انگلی کے اور بسا اوقات انگلی اور انگوٹھی کے درمیان تھوڑا سا خلا بھی پایا جاتا ہے بخلاف ہاتھ کے اجزاء کے لیکن انگلی کی حرکت انگوٹھی کی حرکت کے لیے شرط ہے جس طرح کہ ہاتھ کی حرکت انگلی کی حرکت کے لیے شرط ہے میری مراد وہ خاص حرکت ہے جس کی ابتداء ہاتھ سے ہوتی ہے بخلاف اس حرکت کے جو انگوٹھی یا انگلی کے لیے ہوتی ہے کیونکہ یہ تو کف کے ساتھ متصل ہے اور ان کی حرکت ایسی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے کی انگلی کھینچے تو اس کے ساتھ اس کے ہاتھ کو بھی کھینچتا ہے اور انہوں نے جو یہ بات ذکرکی ہے کہ تقدم اور تاخر کئی طرح پر ہے کبھی یہ ذات اور علت ہونے کے اعتبار سے ہوتا ہے جیسے انگلی کی حرکت کہ وہ مقدم ہوتی ہے انگوٹھی کی حرکت پر اور کبھی تقدمِ طبعی ہوتا ہے جیسے کہ اعداد میں ایک کی دو پر تقدم اور کبھی مرتبہ کے اعتبار سے ہوتا ہے جیسے کہ عالم کی جاہل پراور کبھی مکان کے اعتبار سے تقدم ہوتا ہے جیسے صفِ اول کی دوسری صف پر اور مسجد کی اگلے طرف کی پچھلی طرف پر اور کبھی تقدم زمان اور وقت کے اعتبار سے ہوتا ہے لیکن یہ ایسا کلام ہے جو محلِ نظر ہے کیونکہ یقیناً معروف تقدم اور تاخر تو صرف زمان ہی کے اعتبار سے سمجھا جاتا ہے کیونکہ قبل ،بعد اور مع وغیرہ کے الفاظ تقدم اور تاخر کے معانی کو لازم ہیں ۔رہا علت کا معلول پر تقدم اور زمان میں مقارنت کیساتھ تقدم ذاتی تو یہ بالکل معقول ہی نہیں اور نہ اس کی کوئی ایسی مثال ہے جو نفس الامر میں اس کے مطابق ہو بلکہ یہ تو محض ایک ایسا خیال ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔رہا ایک (عدد )کا دو پر تقدم تو اگر اس سے مراد واحدِ مطلق ہو تو اس کا بھی خارج میں کوئی وجود نہیں البتہ ذہن میں ہے ۔اور ذہن تو اثنین مطلق سے پہلے واحدِ مطلق کا تصور کرتا ہے ۔پس وہ تصور کے اعتبار سے مقدم ہوا تقدمِ زمانی کے ساتھ؛ اور اگریہ مراد نہ ہو تو پھر تو کوئی تقدم نہیں ۔ بلکہ ایک (عدد)دو کے لیے شرط ہے اور (یہ بات بداہۃً معلوم ہے کہ )شرط مشروط سے کبھی بھی متاخر نہیں ہوتی؛ بلکہ کبھی کبھار اس کے ساتھ مقارن اور متصل ہوتی ہے۔ پس یہاں تو سوائے تقدمِ زمانی کے اور کوئی ایسا تقدم نہیں پایا گیا جو واجب ہو۔رہا مکان کے اعتبار سے تقدم تو وہ ایک اور نوع ہے اور اس کی اصل بھی تقدمِ زمانی ہے اس لیے کہ مسجد کے اگلے حصے میں ہونے والے افعال اُن افعال پر زمانا ًمقدم ہیں جو پچھلے حصے میں کئے جاتے ہیں کیونکہ امام کا فعل مقتدی کے فعل پرزمان کے اعتبار سے مقدم ہے۔ پس فعلِ مقدم کے محل کو مقدم کہا گیاہے اور یہی اس کی اصل ہے ۔اسی طرح تقدم بالرتبہ کا حال ہے ؛ یقیناً اہلِ علم و فضل شرف والے افعال میں اور شرف والے مقامات میں ان لوگوں پر مقدم اور ان سے آگے ہیں جو علم و فضل والے نہیں پس اس کو تقدم کہا گیاہے۔ اور اس کی حقیقت صرف اتنی ہی ہے۔ اور جب صورتِ حال یہ ہے تو اگر رب تعالیٰ اپنے علاوہ تمام ماسوا پر ایسے اول اور متقدم ہیں تو پھر ہر چیز اس کی ذات سے موخر ہوئی اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ ازل میں فاعل نہیں تھا تو وہ پھر ہر معین فعل اور معین مفعول اس کی ذات سے مؤخر رہا۔

مطلق زمان حرکت ِ مطلقہ کی مقدار سے عبارت ہے۔

جب کہا جائے کہ زمان تو حرکت کی مقدار کا نام ہے پس وہ شمس یا فلک کے حرکت کی طرح کسی حرکتِ معینہ کے مقدار سے عبارت نہ ہوا بلکہ مطلق زمان حرکتِ مطلقہ کی مقدار کہلاتا ہے اوربالتحقیق آسمانوں اور زمینوں ، شمس و قمر کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حرکات اور ازملہ کو پیدا کر لیے تھے اور قیامت قائم کرنے کے بعد بھی حرکات موجود رہیں گی پس شمس و قمر ختم ہو جائیں گے اور پھر بھی جنت میں حرکات اور مختلف ازملہ موجود ہوں گے جیسا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

﴿وَلَھُمْ رِزْقُھُمْ فِیْہَا بُـکْرَۃً وَّعَشِیًّا﴾ (مریم:۶۲ )

’’اور ان کے لیے ان کا رزق ہے اس میں صبح و شام۔‘‘

اور کئی روایات میں یہ بات آئی ہے کہ اہلِ جنت دن اور رات کوایسے انوار کے ذریعے پہچانیں گے جو عرش کی طرف سے ان پر ظاہر ہوں گے۔ اسی طرح آخرت میں ان کے لیے ایک ’’یوم المزید ‘‘بھی ہوگا جو کہ یوم الجمعۃ سے عبارت ہے جس کو اہلِ جنت ان انوار کے ذریعے پہچانیں گے جو نئے اور کئی قسم کے ہونگے۔ اگرچہ جنت میں تو سب کچھ نور ہی نور ہے اور بہنے والی نہریں ہیں جو ہر جگہ نظرآئیں گی۔[ونقل ابن قیِمِ الجوزِیِ فِی کِتابِہ ’’حادِی الأرواحِ ِإلی بِلادِ الأفراحِ ‘‘ ص9 ، الطبعۃ الثانِیۃ، القاہِرۃِ، 1938، سنن ابن ماجہ أن رسول اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:’’ ألا ہل مشمِر لِلجنِۃ، فِإن الجنۃ لا حظر لہا، ہِی وربِ الکعبۃِ نور یتلألأ، وریحانۃ تہتز، وقصر مشِید، ونہر مطرِد۔‘‘ الحدِیث وقد رواہ المنذِرِی فِی الترغِیبِ والترہِیبِ 5؍475 ، القاہِرِۃ۔]

لیکن بعض اوقات ایک خاص قسم کا نور ظاہر ہوگا جس کے ذریعے دن رات سے جدا ہو جائے گا جس کے ذریعے دن اورات کے درمیان تمیز ہو سکے گی۔

صفحہ 1 از 2