Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح مکران 23ہجری

  علی محمد الصلابی

23ہجری میں حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مکران فتح ہوا، شہاب بن مخارق نے بھی ان کی مدد کی، پھر سہیل بن عدی اور عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان رضی اللہ عنہما بھی ان کی مدد کو آپہنچے اور سب نے متحد ہو کر شاہ سندھ کے خلاف محاذ آرائی کی۔ اللہ نے لشکر سندھ کو ہزیمت کا منہ دکھایا اور مسلمانوں کو ان سے کافی مال غنیمت ہاتھ آیا، حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت کے خمس اور فتح کی بشارت کے ساتھ صحار بن عبدی کو دربار خلافت روانہ کیا، جب وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے مکران کے حالات پوچھے، انہوں نے نہایت مقفیٰ مسجع عبارت میں کہا: اے امیرالمومنینؓ! وہاں کا میدانی علاقہ پہاڑوں کا بھرم، پانی بہت کم، کھجوریں بے کار، دشمن بہادر و ہوشیار، بھلائی قلیل، برائی طویل، وہاں جو زیادہ ہے وہ کم ہے اور جو کم ہے وہ کالعدم ہے، اور جو علاقہ اس کے بعد ہے، وہ اس سے بھی برا ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم شعر کہہ رہے ہو یا خبر دے رہے ہو؟ صحار نے کہا: خبر دے رہا ہوں۔ پھر سیدنا عمرؓ نے حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا کہ مکران سے آگے نہ بڑھیں اور دریا پار نہ کریں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 172، 173، 174 )