Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کردوں سے جنگ

  علی محمد الصلابی

کردوں کی ایک جماعت کے ساتھ فارسیوں نے اتحاد کر کے مسلمانوں کے خلاف محاذ تیار کیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ’’نہرتیرے‘‘ کے قریب ’’بیروذ‘‘(’’بیروذ‘‘ اور نہرتیرے‘‘ اہواز کے قریب کے چھوٹے چھوٹے شہر ہیں) کی سر زمین سے ان کا مقابلہ کیا، پھر وہاں سے خود اصفہان کی مہم پر روانہ ہوئے اور ربیع بن زیاد رضی اللہ عنہ کے بھائی مہاجر بن زیاد کی شہادت کے بعد ربیع کو وہاں کی جنگ کی باگ ڈور سونپ دی، انہوں نے جنگ کی قیادت سنبھالی اور دشمن کی ناک میں دم کر دیا اور آخر میں اللہ نے سید المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین اور اپنے نیکوکار و فرمانبردار بندوں کو اپنی سنت وعادلانہ نظام کے مطابق دشمنوں پر فتح عطا کی، پھر مال غنیمت کا خمس اور مژدہ فتح کے ساتھ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیجا گیا۔

(تہذیب و ترتیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 172 )

اس طرح دور فاروقی میں پورے بلاد عراق و ایران پر اسلامی فتح کا پرچم بلند ہوگیا اور مسلمانوں نے مختلف علاقوں میں مسلح افواج کی چوکیاں قائم کر دیں تاکہ بھگوڑے ایرانی دوبارہ در اندازی کی کوشش نہ کریں۔

درحقیقت کافی جانفشانی اور مشقتیں برداشت کرنے کے بعد مشرق (عجم) میں اسلامی فتوحات کے پرچم بلند ہو سکے۔ مسلمانوں اور ان کے مقابل دشمنوں کے نسلی تفاوت کی وجہ سے مسلمانوں کو عظیم قربانیوں کے نذرانے پیش کرنا پڑے۔ ایران کے باشندے فارسی تھے، ان کی زبان، جنس اور ثقافت ہر چیز عربوں سے جداگانہ تھی، ان کی بہادری کی طویل تاریخ اور تہذیب و تمدن کی گہری جڑیں انہیں بار بار قومی حمیت و غیرت کا احساس دلاتی تھیں، بالخصوص وہ اس لیے بھی غم و غصے سے پھٹے جا رہے تھے کہ جنگ ان کے گھروں میں گھس کر ان کے سینے پر لڑی جا رہی تھی۔ باوجودیہ کہ مجوسی علماء و قائدین کی رغبت پر ان کے ہم مذہبوں کی اچھی خاصی تعداد ان کے ساتھ تھی اور وہاں کی فضا بھی ان کا ساتھ دے رہی تھی۔ مزید برآں اسلامی فوج کافی دور یعنی بصرہ اور کوفہ سے آکر ان پر حملہ آور ہوئی تھی۔ چنانچہ یکے بعد دیگرے دشمن کے تمام تر فوجی مراکز برباد ہوگئے اور عہد فاروقی یا عہد عثمانی میں انہیں فتح کر لیا گیا۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 339، 340)