فتوحات عراق و مشرق سے مستنبط ہونے والے دروس وعبر اور فوائد…

فتوحات عراق و مشرق سے مستنبط ہونے والے دروس وعبر اور فوائد مجاہدین اسلام کے دلوں میں قرآنی آیات واحادیث نبویہ کی تاثیر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

جہاد کی فضیلت بیان کرنے والی قرآنی آیات مجاہدین اسلام کے دلوں پر کافی اثر انداز تھیں، ان کے حق میں رب العالمین کی طرف سے یہ شہادت مل چکی تھی کہ مجاہدین کی ہر حرکت وعمل باعث اجر و ثواب ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

مَا كَانَ لِاَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ يَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰهِ وَ لَا يَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِهِمۡ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ ‌ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَئُــوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّيۡلاً اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ‌ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ۞ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ۞ (سورۃ التوبة آیت 120، 121)

ترجمہ: مدینہ کے باشندوں اور ان کے ارد گرد کے دیہات میں رہنے والوں کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اللہ کے رسول (کا ساتھ دینے سے) پیچھے رہیں، اور نہ یہ جائز تھا کہ وہ بس اپنی جان پیاری سمجھ کر ان کی (یعنی رسول اللہﷺ کی) جان سے بےفکر ہو بیٹھیں۔ یہ اس لیے کہ ان (مجاہدین) کو جب کبھی اللہ کے راستے میں پیاس لگتی ہے، یا تھکن ہوتی ہے، یا بھوک ستاتی ہے، یا وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو کافروں کو گھٹن میں ڈالے، یا دشمن کے مقابلے میں کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے اعمال نامے میں (ہر ایسے کام کے وقت) ایک نیک عمل ضرور لکھا جاتا ہے۔ یقین جانو کہ اللہ نیک لوگوں کے کسی عمل کو بیکار جانے نہیں دیتا۔

نیز وہ جو کچھ (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں، چاہے وہ خرچ چھوٹا ہو یا بڑا، اور جس کسی وادی کو وہ پار کرتے ہیں، اس سب کو (ان کے اعمال نامے میں نیکی کے طور پر) لکھا جاتا ہے، تاکہ اللہ انہیں (ہر ایسے عمل پر) وہ جزاء دے جو ان کے بہترین اعمال کے لیے مقرر ہے۔

دور اول کے مسلمانوں کو کامل یقین تھا کہ جہاد مکمل نفع بخش تجارت ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے 

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنۡجِيۡكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ ۞ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ‌ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞ يَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِىۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ‌ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيمُ وَاُخۡرٰى تُحِبُّوۡنَهَا‌ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَـتۡحٌ قَرِيۡبٌ‌ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞   

ترجمہ: اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کا پتہ دوں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دلا دے؟ (وہ یہ ہے کہ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہترین بات ہے، اگر تم سمجھو۔ اس کے نتیجے میں اللہ تمہاری خاطر تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ایسے عمدہ گھروں میں بسائے گا جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں واقع ہوں گے۔ یہی زبردست کامیابی ہے۔اور ایک اور چیز تمہیں دے گا جو تمہیں پسند ہے (اور وہ ہے) اللہ کی طرف سے مدد، اور ایک ایسی فتح جو عنقریب حاصل ہوگی، اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو (اس بات کی) خوشخبری سنا دو ۔

انہیں پختہ علم ہو چکا تھا کہ جہاد مسجد حرام کی تعمیر و پاسبانی اور حجاج کرام کو پانی پلانے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے:

اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَـآجِّ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجَاهَدَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ ۞ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ‏ ۞ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ۞ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞   (سورۃ التوبة آیت 19، 20، 21، 22)

ترجمہ: کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے (اعمال کے) برابر سمجھ رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے، اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ سب برابر نہیں ہوسکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی کی، اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یقیناً اللہ ہی ہے جس کے پاس عظمت والا اجر موجود ہے۔

ان کا یہ عقیدہ تھا کہ جہاد ہر حال میں کامیابی ہے، جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے:

قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ‌ وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا فَتَرَبَّصُوۡۤا اِنَّا مَعَكُمۡ مُّتَرَبِّصُوۡنَ ۞(سورۃ التوبة آیت 52)

ترجمہ: کہہ دو کہ تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ (آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

صفحہ 1 از 3