فتوحات عراق و مشرق سے مستنبط ہونے والے دروس وعبر اور فوائد…

فتوحات عراق و مشرق سے مستنبط ہونے والے دروس وعبر اور فوائد مجاہدین اسلام کے دلوں میں قرآنی آیات واحادیث نبویہ کی تاثیر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ شہید کی زندگی ختم نہیں ہوتی، بلکہ انہیں دوسری سرمدی زندگی ملتی ہے۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:

وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتًا بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَ ۞ فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‌۞ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞(سورۃ آل عمران آیت 169، 170، 171)

ترجمہ: اور (اے پیغبر) جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے۔ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں) شامل نہیں ہوئے، ان کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آکر ملیں گے تو) نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔  

جس عظیم مقصد کی حصول یابی کے لیے وہ لڑ رہے تھے اسے وہ بخوبی سمجھتے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: 

فَلۡيُقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا‌ وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا ۞ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا ۞ (سورۃ النساء آیت 74، 75، 76)

ترجمہ: لہٰذا اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ دیں۔ اور جو اللہ کے راستے میں لڑے گا، پھر چاہے قتل ہوجائے یا غالب آجائے، (ہر صورت میں) ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔ اور (اے مسلمانو) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کر دیجیے، اور ہمار لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کر دیجیے۔ جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ طاغوت کے راستے میں لڑتے ہیں۔ لہٰذا (اے مسلمانو) تم شیطان کے دوستوں سے لڑو۔ (یاد رکھو کہ) شیطان کی چالیں درحقیقت کمزور ہیں۔  

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں سے جہاد کی فضیلتیں بتائیں جن کی وجہ سے ان کے احساسات جاگ گئے اور قوتیں دوبالا ہوگئیں۔ ان احادیث نبویہ میں سے چند احادیث یہ ہیں:

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں کون سب سے اچھا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا:

مُؤْمِنٌ یُّجَاہِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ۔

(صحیح بخاری: الجہاد والسیر: باب افضل الناس مؤمن: 2786)

’’مومن جو اپنی جان اور مال سے اللہ کے راستے میں جہاد کرے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کا بلند مقام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ اُعَدَّھَا اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ فَاِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْئَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ اَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ۔

(صحیح بخاری: الجہاد والسیر: درجات المجاہدین فی سبیل اللّٰه: 2790)

’’جنت میں سو درجے ہیں جن کو اللہ نے جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے، ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں ہے، لہٰذا جب تم اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو۔ فردوس جنت کا سب سے اونچا اور بیچ کا حصہ ہے۔‘‘

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء کی فضیلت و کرامت کو ان الفاظ میں بیان کیا:

 اِنْتَدَبَ اللّٰہُ لِمَنْ خَرَجَ فِیْ سَبِیْلِہٖ لَا یُخْرِجُہٗ اِلَّا اِیْمَانٌ بِیْ وَتَصْدِیْقٌ بِرُسُلِیْ اَنْ اَرْجِعَہٗ بِمَا نَالَ مِنْ اَجْرٍ أَوْ غَنِیْمَۃِ أَوْ أُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ وَلَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ وَلَوَدِدْتُ أَنِّیْ أُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ أَحْیَاثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ أَحْیَا ثُمَّ اُقْتَلُ۔

(صحیح بخاری: الإیمان: باب الجہاد من الإیمان: 36)

’’جو شخص خلوص نیت کے ساتھ مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے رسول کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے پکار کر کہتا ہے کہ اسے مال غنیمت اور اجر عظیم کے ساتھ (اس کے گھر) لوٹا دوں گا یا جنت میں داخل کروں گا۔ اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا، تو کسی سریہ میں شرکت کرنے سے پیچھے نہ رہتا۔ میری دلی تمنا تھی کہ اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔‘‘

اور ایک مرتبہ فرمایا:

مَا أَحَدٌ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ أَنْ یَّرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا وَلَہُ مَا عَلَی الْاَرْضِ مِنْ شَیْئٍ إِلَّا الشَّہِیْدُ یَتَمَنّٰی أَنْ یَّرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرَی مِنَ الْکَرَامَۃِ۔

صفحہ 2 از 3