کلابیہ کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلابیہ کا عقیدہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

اگر وہ کہتے ہیں کہ اس بات میں سبب صرف اور صرف یہی ہے اور یہ بات کہ ممکنات تو صرف اسی کو قبول کرتے ہیں تو ان کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ممکنات کے لیے اپنے (نفس الامری)وجود سے پہلے کوئی حقیقتِ موجودہ نہیں ہوتی جس کو اس امر کا سبب قرار دیا جائے کہ احد الوجودین میں سے ایک کا (دوسرے کو چھوڑ کر ) وجود کے ساتھ خصوصیت ہے لیکن اپنے وجود کے بعد یہ بات عقلاً سمجھ میں آتی ہے کہ کوئی ممکن کسی غیر کے لیے شرط بن جائے اور غیر کے لیے مانع بن جائے جیسے احد الضدین کا وجود کیونکہ یقیناً ان میں سے ایک مانع ہوتا ہے دوسرے (کے نفس الامر)وجودسے اور لازم کا وجود وجودِ ملزو م میں شرط ہوتا ہے یعنی اس کے وجود کے ساتھ دوسرے کا وجود ضروری ہوتاہے؛بھلے وہ دونوں معاً وجود میں آئیں یا ایک وجود میں دوسرے سے مقدم ہو۔ اور ممکنات میں کسی شے کا وجود یقیناً فرض کر دیا جاتا ہے تو یہ بات کیسے معقول ہے کہ وہ دو ممکن جو جائز ہیں ؛واجب الوجود نہیں اور جن میں سے کوئی ایک بھی ابھی نہیں پایا گیا (یعنی نفس الامر میں موجود نہیں ہوا)ان میں سے ایک وہی ہے جس نے اس ذاتِ بسیطہ میں اس امرکوواجب کردیاکہ اس خاص چیز کو پیدا کرے اور دوسرے کو نہیں ۔ اور اس نے اس میں یہ قدرت پیدا کر دی کہ وہ اِس ممکن کو پیدا کرے اور دوسرے کو نہیں ؛ اور ایک کو قدیم بنا دے اور دوسرے کو نہیں ۔ باوجود یکہ وہ ذات ایک ہے اور بسیط ہے اور اس کی نسبت تمام ممکنات کی طرف یکساں ہے ۔

اگر کہا جائے کہ ممکن کی خود ماہیت ہی نے اس بات کو وجود دے دیا اس کے وجود نے نہیں تو کہا جائے گا کہ اس کا جواب دوطرح پر ہے ۔

ایک یہ کہ ماہیۃ مجرد ہ عن الوجودکا تصور اور اس کی سمجھ اُس علم میں آتی ہے جس کو وجودِ ذہنی کہا جاتا ہے نہ کہ وجودِ خارجی اور علم تو معلول کے تابع ہوتا ہے پس اگر ذاتِ فاعلہ کی طرف سے کوئی ایسا سبب نہ پایا جائے جو بغیر وجودکے ایک ماہیت کا دوسرے کیساتھ تخصیص کا تقاضا کرتا ہو بلکہ وہ ذات بسیطہ ہو یعنی وہ ذاتِ فاعلہ بسیطہ ہو جس کا ماہیاتِ مختلفہ میں سے کسی بھی چیز کے ساتھ اختصاص نہ ہو تو پھر دو ماہیتوں میں سے ایک کا وجود کے ساتھ اختصاص بغیر دوسرے کے ناقابل فہم ہے اور یہ بات تو بداہۃً معلوم ہے کہ جب فاعل کرنے سے پہلے اس چیز کا تصور کرتا ہے جس کے کرنے کا ارادہ ہو تو یہ ضروری ہے کہ کوئی ایسا سبب پایا جائے جو اس فعل کے ساتھ اس کے ارادے کے تخصیص کو ثابت کرتا ہو اور بندے کے ارادے کے لیے تو ایسے اسبابِ خارجیہ کا پایا جانا ضروری ہے جو کسی فعل کا وجود کے ساتھ تخصیص کو ثابت کرتے ہوں رہا اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو ا سکی ذات سے تو صرف اور صرف وہی چیز صادر ہوتی جس کا وہی خود خالق ہے اور وہ اس کا مفعول ہے پس اگر اس فعل کی ذات میں ایسا کوئی امر نہ پایا جائے جو تخصیص کا مُوجِب ہو یعنی اُس (خاص)حادث کے موجود ہونے کاتقاضا کرتا ہودوسرے حوادث کو چھوڑ کر تو پھر تخصیص ممتنع ہو جائے گی اور فعل بھی ممتنع ہوگا۔

دوسری دلیل : وہ یہ ہے کہ کہ فرض کر لیں کہ ممکن کی ماہیت خارج میں ثابت ہے لیکن ایسی ماہیات جو اپنے وجود کو مقارن ہوتی ہیں ، وجود کے ساتھ ان میں بعض کی تخصیص کا قول کرنا دوسرے بعض کو چھوڑ کر یہ اس کے وجود کے تخصیص کے قول کی طرح ہے جس وقت کہ وہ تمام امور پائے جائیں جو اس کے وجود کا تقاضا کرتی ہوں پس اس کی ماہیت اس کے ساتھ بالکل مقارن ہیں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ ماہیات تو خارج میں امر محقق ہیں اور یہ کسی بھی فاعل سے مستغنی ہیں تو یہ اس بات کی تصریح ہے کہ وہ ماہیات واجب بانفسہا ہیں اور مبدع (از سرِ نوع ووجود دینے میں )ہونے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ہیں اور یہ تو واضح طور پر باطل ہے اور یہ اعتراض اس نظریہ پر وارد ہوتاہے جو یہ ہے کہ معدوم کچھ بھی نہیں ہے اور یہی درست بات ہے اور ان لوگوں کے قول پر بھی جو یہ کہتے ہیں کہ معدوم بھی خارج میں ایک شے ہے ۔


صفحہ 3 از 3