فصل: اس دلیل کے صحت پرکئی طریقے سے برہا ن کا بیان - ردِ…

فصل: اس دلیل کے صحت پرکئی طریقے سے برہا ن کا بیان

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل: اس دلیل کے صحت پرکئی طریقے سے برہا ن کا بیان

پھر اس دلیل کو مختلف طریقے سے بیان کرنا ممکن ہے مثال کے طور پر یہ کہا جائے کہ یقیناً حوادث دو حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کا دوام ممتنع ہوگا یعنی وہ ازلی نہیں ہونگے اور یہ بات ضروری ہے کہ اس کے لیے کوئی ابتداء ہو یا یہ کہ اس کا دوام ممتنع نہیں ہوگا یعنی وہ ازلی ہونگے اور ایسے حوادث کا پایا جانا ممکن ہوگا جن کے لیے کوئی بھی اول نہ ہو۔

اگر پہلی صورت ہے تو لازم آئے گا کہ بغیر کسی شے کے حدوث کے ذاتِ قدیم واجب الوجود سے حوادث کا صدور ہورہا ہے ،جس طرح کہ اہلِ کلام میں سے اکثر اس کے قائل ہیں چاہے وہ اس کو یوں کہیں کہ وہ قادرِ مختار ذات سے صادر ہوتے ہیں اور اس کے لیے ارادہ قدیمہ کو ثابت نہ کریں جس طرح کے معتزلہ اور جہمیہ کا قول ہے یا وہ یہ کہیں کہ وہ قادرِ مختار ذات سے صادر ہوتے ہیں ایسی ذات جو ارادہ قدیمہ ازلیہ کے ساتھ ارادہ کرتا ہے جس طرح کلابیہ ،اشعریہ اور کرامیہ کا قول ہے اور اس قول پر تو عالم میں کسی بھی چیز کا قدیم ہوناممتنع ہو جائے گا کیونکہ عالم میں ہرہر چیز کا حال یہ ہے کہ وہ حوادث کے ساتھ مقرون ہے بایں طور کہ ایک حادث سابق اور دوسرا مسبوق ہے چاہے ان سب کو جسم قرار دیا جائے یا یہ کہا جائے کہ کچھ ایسے اقول اور نفوس ہیں جو اجسام نہیں ہیں پس یقیناً اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ حوادث کے ساتھ مقارن ہیں کیونکہ وہ فاعل ہیں اور وجود کومستلزم ہیں پس اگر ایسے حوادث کا وجود ممتنع ہوا جن کے لیے کوئی اول نہیں یعنی ازلی ہونا ممتنع ہوا تو یہ بات بھی ممتنع ہوئی کہ حوادث کے لیے کوئی ایسی علت پائی جائے جو اس کے وجود کومستلزم ہو چاہے اس کو ممکن کہا جائے یا واجب،اور اس تقدیر پر ارادہ قدیمہ اپنی مراد کے وجود کو مستلزم نہیں ہوگا لیکن یہ بات ضروری ہوگی کہ مراد ارادے کے بعدمتاخر وقت میں موجود ہو ۔

اگر یہ کہا جائے کہ حوادث کا دوام تو ممکن ہے اور یہ بات بھی کہ اس کے لیے کوئی ابتداء نہ ہو (یعنی ازلی ہوں )

تو جواب یہ ہے کہ: اس تقدیر پر تو یہ بات ممتنع ہو جائے گی کہ عالم میں کوئی شے قدیم اور ازلی بن جائے ۔ اور اس عموم میں افلاک ،عقول ،نفوس ،موادِ اصولیہ ،جوہر مفردہ ،یہ سب کے سب آئیں گے اس لیے کہ جو چیزبھی عالم میں قدیم اور ازلی ہو تو ضروری ہے کہ اس کا فاعل اس کے لیے مُوجِب بالذات ہو چاہے اسے علتِ تامہ کہا جائے یا مرجع تام کہا جائے گا یا اسے قادرِ مختار کہا جائے لیکن مُوجِب بالذات کا وجود ازل میں محال ہے کیونکہ وہ اس بات کومستلزم ہے کہ اس کا مُوجب اس کا مقتضی اور اس کا مراد بھی ازلی ہو اور یہ تو کئی وجوہ سے ممتنع ہے۔

نمبر ۱:.... کسی فاعل کا اپنے مفعولِ معین کے ساتھ زمان کے اعتبار سے مقارن ہونا اور ازل میں اس کے ساتھ موجود ہونا ممتنع ہے۔خاص طور پر کہ جب اسے اپنے ارادے اور اپنی قدرت کے ساتھ فاعل مان لیا جائے اس لیے کہ یقیناً ا سکا جو مقدورِ معین ہے اس کی فاعل کے ساتھ اس طور پرمقارنت کہ وہ اس کے ساتھ ازلی ہو ،یہ بالکل محال ہے بلکہ یہ بات تو محال اور ممتنع ہے ان امور میں بھی جو اس فاعل کی ذات کے ساتھ قائم ہیں کیونکہ بے شک اس کا ازل میں مراد ہونا ممتنع ہے اور جب ایسی چیزکا ازل میں مراد ہونا ممتنع ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے تو پس وہ چیزیں اور مفعولات جو اس کی ذات سے منفصل اور جدا ہیں ان کا ممتنع ہونا تو بطریقِ اولیٰ ثابت ہوا۔

دوسری دلیل :.... اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ اس کی ذات علتِ تامہ اور مفعول کے لیے مُوجِب بالذات ہے تو یہ بات لازم آئے گی کہ وہ اپنے معلول کے ساتھ مطلقاً مقارن ہے پس عالم میں سے ہر شے ازلی بن جائے گی اور یہ تو بالکل محال ہے اور مشاہدہ اور اجماعِ عقلاء کے خلاف ہے۔

عالم میں سے بعض اشیاء کے ازلی ہونے اور بعض کے نہ ہونے کا قول کئی وجوہ سے اِن کے قول کے بطلان کو ثابت کرتا ہے ۔ 

اگر یہ کہا جائے کہ عالم میں سے بعض ازلی ہیں جیسے کہ افلاک اور حرکات کا نوع اور بعض ازلی نہیں ہیں جیسے کہ اشخاص مثلاًانسان کے افراد زید ،عمرو ،ابو بکر وغیرہ تو کہا جائے گا کہ یہ تو کئی وجہ سے ان کے قول کے بطلان کو مستلزم ہے ۔

نمبر۲ :.... جب یہ بات ممکن ہوئی کہ وہ شیئاً فشیئاً(یکے بعد دیگرے )ذات حوادث کا فاعل ہے تو پھر یہ بات بھی ممکن ہوئی کہ اس کی ذات کے ماسوا سب کچھ حاد ث ہو پس عالم میں سے کسی شے معین کے قدم کا نظریہ قول بلا دلیل ہے۔

دوسری وجہ :.... اس ذات کا یکے بعد دیگرے حوادث کو پیدا کرنا بغیر اس کے کہ اس کی ذات کے ساتھ کوئی ایسا سبب قائم ہو جواِس احداث کے لیے مُوجِب ہو تو یہ بات بالکل ممتنع ہے اس لیے (کہ جب پہلے سے یہ بات مسلم ہے کہ )اُس ذات کا حال اُس شے کے احداث سے پہلے ، اس کے بعد اور اس کے احداث کے دوران تینوں اوقات میں ایک طرح اور یکساں ہے تو یہ بات ممتنع ہو ئی کہ ایک خاص وقت اِس شے کے احداث کے ساتھ توخاص ہو اور دوسرا (وقت )نہ ہو بلکہ یہ بات بھی ممتنع ہوئی کہ وہ ذات کسی شے کووجود دے اور اسے پیداکرے۔

تیسری وجہ :....اگر اس بات کو ممکن مانا جائے کہ وہ کسی شے کو پیدا کرتا ہے بغیر کسی ایسے سبب کے پائے جانے کے جو اس کے احداث کا تقاضا کرے تو پھر یہ بات بھی ممکن ہو جائے گی کہ تمام حوادث کے لیے کوئی ابتداء ہو پس عالم میں کوئی بھی شے قدیم نہ ہوگی اور اگر اس کو ممکن نہ کہا جائے تو پھر ان کا یہ قول باطل ہوا کہ یہ حوادث پیدا ہوتے ہیں بغیر کسی ایسے سبب کے جو ان کے ساتھ قائم ہو۔

صفحہ 1 از 3