فصل: اس دلیل کے صحت پرکئی طریقے سے برہا ن کا بیان - ردِ…

فصل: اس دلیل کے صحت پرکئی طریقے سے برہا ن کا بیان

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

چوتھی وجہ :.... حوادث کا پیدا کرنا اگر بغیر کسی ایسے سبب کے جو ان کی ذات کے ساتھ قائم ہو،ناممکن قرار دیا جائے تو پھر ان کا قول باطل ہوجائے گا اور اگر وہ کسی ایسے سبب کی طرف محتاج ہوں جو ان کی ذات کے ساتھ قائم ہو تو پھر لازم آئے گا کہ وہ امور اس کے ساتھ دائماً قائم ہوں دھیرے دھیرے اور یکے بعد دیگرے پس وہ کبھی بھی فاعل نہیں بنیں گے مگر صرف اس صور ت میں جب وہ سبب پایا جائے لہٰذایہ ممتنع ہوا کہ اس ذات کے لیے ازل اور ابد میں کوئی مفعولِ معین ہو کیوں کہ ان حوادث کا ایک ایسی ذات سے صدور ممتنع ہے جو اُن کے اسباب پائے جانے کے بعد ان کو وجود دیتا ہے اس لیے کہ جو افعال اس واسطہ سے صادر کیے جاتے ہیں تو وہ صرف اور صرف یکے بعد دیگرے ہی موجودہو سکتے ہیں پس یہ بات ممتنع ہوئی کہ اس ذات کے لیے کوئی ایسا فعلِ معین ہو جو اس کے لیے لازم ہو،تو جب یہ بات ممتنع ہوئی تو یہ بھی ممتنع ہواکہ اس ذات کے لیے کوئی ایسامفعولِ معین ہو جو اس کی ذات کے ساتھ لازم ہو۔

پانچویں وجہ :.... وہ یہ ہے کہ یقیناً جب یہ بات فرض کر لی جائے کہ اس کے معلولات میں سے کوئی ایک معلول ایسا بھی ہے جو اس کی ذات کے ساتھ ازلاً و ابداً لازم ہے تو وہ صرف اور صرف اس وجہ سے ہوگا کہ اُس پیدا کرنے والے کی ذات اُس شے کے لیے علتِ تامہ ہے اور یہ بات بدیہی طور پر معلوم ہے کہ کوئی معین چیزدوسری چیزسے اپنی مقدار ،صفت اور اپنی حال کے اعتبار سے خاص اور ممتازہوتا ہے اور اس کے اندر مذکورہ تینوں اعتبار سے خصوصیت پائی جاتی ہے اوریہ اس بات کومستلزم ہے کہ جو علت اس شے معین کے وجود کا تقاضا کرتی ہے اس میں بھی اختصاص پائی جائے ورنہ تو وہ علت جس میں اس معین چیزکے ساتھ اختصاص کی کوئی بات نہ پائی جائے تو وہ اس چیز کیلئے مُوجِب نہیں بن سکتی جو کسی خاص مقدار ،حال اور صفت کے ساتھ مختص ہے۔

جب یہ بات پہلے سے مسلم ہے کہ فاعل ایسی ذات ہے جو یکے بعد دیگرے وجود میں آنے والے احوال ِ متعاقبہ سے مجر د اور منزہ ہے خواہ یہ کہا جائے کہ اس کی ذات کے ساتھ کوئی بھی حال قائم نہیں یا یہ کہا جائے کہ اس کی ذات کے ساتھ احوال توقائم ہیں ،دونوں صورتوں میں وہ کسی بھی ایسے قدیم شے کے لیے مُوجِب نہیں بن سکتاجو ازلی ہو سوائے اس ذاتِ مجردہ کے جو یکے بعد دیگرے احوال سے خالی ہے کیونکہ وہ احوال جو ایک سے ایک یکے بعد دیگرے وجود میں آتے ہیں تو وہ یقیناً دھیرے دھیرے موجود ہوتے ہیں لہٰذااس کے بعد یہ ممتنع ہے کہ وہ ذات کسی قدیم ازلی شے کے لیے مُوجِب بنے اس لیے کہ وہ ذات جو مُوجِب قدیم ہو ،معین ہو اور ازلی ہو تو وہ خود بطریقِ اولیٰ قدیم ، ازلی اور معین ہونی چاہیے اور جو احوال متعاقبہ ہیں ان میں سے کوئی بھی شے قدیم معین اور ازلی نہیں ہے لہٰذااس کے بعد یہ ممتنع ہواکہ جو چیز مُوجَب ہے یعنی محدث ہے اور اس ذات کے ساتھ مشروط ہے ،وہ قدیم اور ازلی بنے ۔

اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ وہ ذات قدیم اور ازلی ہے تو وہ صرف اور صرف اس تقدیر پر ہو سکتا ہے کہ اس ذاتِ مجردہ ہی کو مُوجِب سمجھا جائے اور ذاتِ مجردہ عن الاحوال میں کوئی ایسا اختصاص نہیں پایا جاتا جو معلول بننے میں فلک کی تخصیص کو ثابت کرتی ہو یعنی اس کے علاوہ دوسرے حوادث کو چھوڑ کر صرف فلک اس کا معلول بنے بخلاف اس کے کہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ حادث ہوا یعنی موجود ہوابعد اس کے کہ وہ موجود نہیں تھا بوجہ ان اسباب کے جنہوں نے حدوث کو ثابت کر دیا

اور تخصیص کو ثابت کر دیا تو پھر یہ سوال ختم ہو جاتا ہے اور یہ تو اس سلسلے میں دلیلِ مستقل ہے اور اس کتاب میں اب تک اس سے پہلے اس کا بیان نہیں گزرا۔

چھٹی وجہ :.... جب احوال اس ذات کے لیے لازم ہیں تو ان (مختلف طاری ہونے والے )احوال کے بغیر اس کا فعل کوصادر کرنا ایک ممتنع امرہوگا اور ایسی صورت میں وہ ذات جو احوالِ متعاقبہ کو مستلزمِ ہے ،اُن احوال کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکے گی اور جب (یہ بات مسلم ہے کہ ) کوئی بھی فاعل فعل کو صادر نہیں کرتا مگر ایسے احوال طاری ہونے کے بعد جو یکے بعد دیگرے وجود میں آتے ہیں تو پس اس کے مفعولات میں کسی بھی شے کا قدیم ہونا ممتنع ہوا اس لیے کہ قدیم تو ایک علتِ تامہ ازلیہ کا تقاضہ کرتا ہے اور جو چیز احوالِ متعاقبہ(یکے بعد دیگرے وجود میں آنے والے ) کو مستلز م ہو تو اس کا ازل میں کسی شے(کے احداث ) کا تقاضاکرنا تام اور ازلی نہیں ہو سکتا بلکہ اس شے کے وجود کا تقاضا کرنا انہی احوالِ متعاقبہ اور احوالِ مختلفہ کے (وجود کے وقت ) وجود میں ہوتا ہے جن کی وجہ سے وہ فاعل بنتا ہے۔

ساتویں وجہ :.... جب یہ بات ممکن ہوئی کہ کسی فاعل کے ساتھ احوالِ متعاقبہ (یکے بعد دیگرے وجو دمیں آنے والے احوال )قائم ہوں تو یہ بات بھی جائز بلکہ واجب ہے کہ اس کے ماسوا سب کچھ حادث ہوں اور اگر یہ بات ممکن نہ ہو تو پھر یا تو یہ کہا جائے گا کہ کسی بھی شے کا حدوث ممتنع ہے حالانکہ بداہت کے ساتھ حوادث کا وجود(روزمرہ مشاہدے سے ) معلوم ہے اور یا یہ کہا جائے گا کہ فاعل کے اندر کسی سببِ حادث کے بغیر حوادث وجود میں آتے ہیں اور ایسی صورت میں تو اللہ تعالیٰ کے ماسوا تمام چیزوں کے حدوث کا جواز لازم آئے گا اس لیے کہ یہ بات جب ممکن ہوئی کہ وہ دوام کے ساتھ (ہمیشہ سے )حوادث کو وجود دے بغیر کسی ایسے سبب کے جو ان کے حدوث کا تقاضا کرے تو پس وہ تمام حوادث بغیر کسی سببِ متقاضی کے وجود میں آنا بطریقِ اولیٰ ثابت ہوا اس لیے کہ یہ بات تو امتناع اور محذور وممنوع ہونے کے اعتبار سے پہلی اقل اور کم درجے کی ہے پس جب وہ حدوث ایک محذورِ اعظم کے ساتھ ممکن ہے تو ایک ایسے محذور اور ممنوعِ کے ساتھ تو بطریقِ اولیٰ ممکن ہے جس کا امتناع اور محذور ہونا اخف اور ادنیٰ ہے ۔

صفحہ 2 از 3